اسلام آباد: (ویب ڈیسک) حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا منصوبہ رول بیک ہونے کا خطرہ ہے ، ٹھیکیدار نے ڈالر کی اڑان کو جواز بنا کر تخمینہ لاگت میں 6 کروڑ روپے کااضافہ ہونے پر منصوبے پر جاری کام بند کر دیا ۔
جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے منصوبہ کی تعمیر میں ایل سی بند ہونے سے سٹیل ورک ، جنریٹرز ، ایلی ویٹرز، فائر پمپس ، کولنگ ٹاورز اور ائیر کنڈیشنز کی امپورٹ بھی مشکل کا شکار ہے ، تین ارب 45 کروڑ روپے کے فنڈ متعلقہ کمپنی حوالے کرنے کے باوجود منصوبہ کو مقررہ جولائی کی نئی ڈیڈ لائن میں پوراکرنا خواب بن گیا ۔
اس منصوبے پر انجینئرنگ کے لحاظ سے 26 فیصد کام مکمل ، جی او آر کے حساب سے 51 فیصد جبکہ بلڈنگ سٹرکچر کے حساب سے 80 فیصد کام مکمل ہے تاہم تخمینہ لاگت میں اضافے پر ٹھیکیدار نے آئی ڈیپ کو دوبارہ پر پوزل بنا دی ہے جس پر حتمی فیصلے کے بعد ہی کام کے حوالے سے صورتحال واضح ہو گی ۔
جاری تعمیراتی کام کی بندش سے خدشہ ہے کہ منصوبے کا حال بہاولپور سیکرٹریٹ جیسا بھی ہو سکتا ہے جس کیلئے سیاستدانوں کو بھی کاوشیں تیز کرنا ہونگی ۔
حکومت کی عدم دلچسپی، جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا منصوبہ رول بیک ہونے کا خطرہ

