Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • لاہور:محنت کش روایتی چھابڑی (بہنگی) پر بھنے ہوئے چنے اور دیگر کھانے کی اشیاء فروخت کر رہا ہے۔
    • خاتون کی سابق وزیرِ اعلی مغربی بنگال ممتا بنرجی پر چاقو سے حملے کی کوشش
    • قصور، حادثے میںجاں بحق کمسن بھائی کے بعد زخمی بہن بھی دم توڑ گئی
    • احتجاج دبانے کیلئے جابرانہ ہتھکنڈے’ مودی حکومت کوشدید تنقید کا سامنا
    • لاڑکانہ میں رائس کینال میں ڈوب کر 9 سالہ بچہ جاں بحق، دو کو بچالیا گیا
    • اسلام آباد،اسٹڈی ویزے پر جانے والا طالبعلم مشتبہ تعلیمی اسناد پر آف لوڈ
    • کے پی میں ایمرجنسی گورنر راج کا نفاذ پشاورہائیکورمیں چیلنج
    • آبنائے ہرمز میں بارو ی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد بحری جہاز ڈوب رہا ہے۔
    • زمینی حملہ امریکی فوج کیلئے تباہ کن ہو گا ایران ابنائے ہرمز میں بحری جہاز باررودی سرسے ٹکرا کر ڈوب گیا
    • پاکستان سعویہ کی خود مختاری دفاع کیلئے شانہ بشانہ ہے شہباز شریف
    • قومی اسمبلی سینٹ میں کے پی ایمرجنسی کی منظوری اپوزیشن کا شدید احتجاج نعرے بازی
    • اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر دفاع خواجہ آصف قومی اسمبلی میں اظہار خیال کررہے ہیں۔
    • مکہ مکرمہ میں پاکستانی شہری کو ہیروئن سمگل کرنے کے جرم میں سزائے موت دیدی گئی
    • موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے سائنسی تحقیق ناگزیر ہے: مصدق ملک
    • حکومت مخالف تحریک کے سلسلے میں جے یو آئی آج ملتان میں کانفرنس کرے گی
    • اسرائیلی شہر میں نیتن یاہو کے دورے کے دوران زوردار دھماکا؛ ایک ہلاک، 2 زخمی
    • سب کچھ طے تھا فیصل واوڈا نے ایمرجنسی کا ایک ماہ پہلے ہی بتادیا تھا: ہمایوں مہمند
    • اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہبازشریف جم سٹون کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔
    • پاکستان مْقروض ممالک کے گروپ کو سربراہ مقرر وفاقی حکومت کے ذمہ 82 ہزار 953 ارب روپے واجب ا لادا
    • مارکو روبیو 17تا 22 اکتوبر بھارت و ازبکستان کا دورہ کریں گے
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    184/3 کیخلاف کسی بھی ریمیڈی کو ویلکم کرینگے: چیف جسٹس

    By Khabrain Newsجون 16, 2023
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان میں ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز قانون کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس میں کہا ہے کہ ہم 184/3 کے خلاف کسی بھی ریمیڈی کو ویلکم کریں گے۔
    چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز قانون کے خلاف کیس پر سماعت کی، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی بنچ کا حصہ تھے۔
    سماعت شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کے وکیل نے استدعا کی کہ مجھے 10 منٹ دیں، میں دلائل دینا چاہتا ہوں، چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ ہم تو آپ کا کیس سن ہی نہیں رہے، اٹارنی جنرل کے بعد آپ کو سن لیتے ہیں۔
    اٹارنی جنرل کے دلائل
    اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جب ہائی کورٹ کسی کیس کا فیصلہ کرتی ہے تو انٹرا کورٹ سمیت دیگر اپیل کے فورمز موجود ہیں، ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جاتا ہے، جب سپریم کورٹ آرٹیکل 184/3 کے تحت کوئی کیس سنتی ہے تو یہ پہلا عدالتی فورم ہوتا ہے، آئین کے تحت ریاست کے تینوں ستونوں کے امور متعین ہیں، قانون ساز عہدِ حاضر کو سامنے رکھ کر قانون سازی کرتے ہیں، ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز ایکٹ کے تحت آرٹیکل 184/3 کے فیصلے کے خلاف اپیل 5 رکنی بنچ سنے گا۔
    منصور عثمان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس 5 رکنی بنچ میں وہ 3 ججز بھی شامل ہوں گے جنہوں نے پہلے فیصلہ دیا ہو گا، جسٹس منیب اختر نے گزشتہ روز آبزرویشن دی کہ 184/3 کو دیگر کیسز سے الگ کیوں کر دیا، ہائی کورٹ کے کئی فیصلوں کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل اور سپریم کورٹ سے بھی اپیل کا حق ہوتا ہے، آرٹیکل 184/3 میں نظرِ ثانی کا دائرہ کار وسیع ہوتا ہے، آئین کے تحت ریاست کے تینوں ستونوں کے امور کو متعین کر دیا گیا ہے، سیکشن 3 میں کہیں نہیں لکھا کہ 5 رکنی لارجر بنچ میں مرکزی کیس کے بنچ کے ججز شامل نہیں ہوں گے، قانون آج کے تقاضوں کے مطابق بنایا جاتا ہے۔
    اس موقع پر چیف جسٹس کچھ کہنے لگے تو جسٹس اعجازالاحسن نے اٹارنی جنرل کو دلائل جاری رکھنے کا کہہ دیا۔
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عدالت آرڈر 26 تک خود کو محدود نہیں کرتی، آرٹیکل 188 نظر ثانی کے دائرہ کار کو محدود نہیں کرتا۔
    اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں بھارتی سپریم کورٹ کا 2002ء کے کیوریٹیو ریویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انصاف کی فراہمی کے لیے بھارتی سپریم کورٹ نے دوسری نظرِ ثانی کی اجازت دی۔
    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ جی بالکل لیکن وہ محدود اختیار کے تحت دی گئی۔
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 188 سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود نہیں کرتا، اس آرٹیکل کے تحت سپریم کورٹ اپنے اختیارات کو وسیع کر سکتی ہے۔
    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ بھارتی سپریم کورٹ کے جس کیس کا حوالہ دے رہے ہیں اس میں نظر ثانی اور اپیل کا فرق برقرار رکھا گیا تھا۔
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن ٹریبونلز اور مسابقتی ٹریبونلز کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں براہ راست سپریم کورٹ آتی ہیں، سنگین غداری کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی سپریم کورٹ آ سکتی ہے، آرٹیکل 185 کے تحت ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی جا سکتی ہے، سپریم کورٹ اپنے اختیارات کو توسیع دے سکتی ہے۔
    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے دلائل آپ کی اپنی کہی باتوں سے متصادم نظر آتے ہیں، نظر ثانی تو نظر ثانی ہی رہتی ہے، اسے اپیل کا درجہ تو پھر بھی حاصل نہیں، ان تمام قوانین میں فیصلے کے خلاف اپیل کا ذکر ہے، یہاں اس قانون میں آپ نظر ثانی کو اپیل بنانے کی بات کر رہے ہیں، اپیل اور نظر ثانی میں زیرِ غور معاملہ الگ الگ ہوتا ہے، فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دینا الگ چیز ہے، نظر ثانی کا دائرہ اختیار الگ ہے، سمجھنا چاہتا ہوں آپ کا پوائنٹ کیا ہے۔
    سوال یہ ہے کہ نظر ثانی کس بنیاد پر ہونی چاہیے؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ہمارے سامنے ایک مکمل انصاف کا ٹیسٹ ہے اور بھارتی قانون میں بھی یہی ہے، اپیل میں کیس کو دوبارہ سنا جاتا ہے، ہمیں اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے، ہم 184/3 کے خلاف کسی بھی ریمیڈی کو ویلکم کریں گے، اگر اسے احتیاط کے ساتھ کیا جائے، سوال یہ ہے کہ نظر ثانی کس بنیاد پر ہونی چاہیے؟
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظر ثانی کے لیے بننے والے لارجر بنچ میں پہلے فیصلہ دینے والے جج بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ مزید کتنا وقت لیں گے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اگلی سماعت میں دلائل مکمل کرنے کے لیے 45 منٹ لوں گا، آئندہ سماعت پر نظر ثانی کے سکوپ پر دلائل دوں گا۔
    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ جو بنیادی سوال ہے اس پر بھی ہم آگے نہیں بڑھ رہے، اس کے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے مزید سماعت پیر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      حریم فاروق اورفیصل قریشی یونیورسٹی میں ڈانس پرفارمنس پر تنقید کی زد میں آ گئے

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      تازہ ترین

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.