Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا میں 30 ڈاکٹرز برطرف، 6 افغان ڈاکٹرز کو فوری پاکستان چھوڑنے کا حکم
    • اسلام آباد: بلوچستان بار کونسل کا وفد چیف جسٹس آف آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان سے ملاقات کر رہا ہے۔
    • ہندو برادری کا مذہبی تہوار نوراتری جوش و خروش سے جاری
    • کراچی، پولیس اہلکار بن کر غیرملکی مہمانوں کو لوٹنے والا ملزم گرفتار
    • مالیاتی فراڈ کی سکیموں کے خلاف ایس ای سی پی کا نیا یونٹ قائم
    • بلدیاتی الکیشن امیدواروں نے انتخابی مہم شروع کر دی افسروں عملے کی تربیت
    • دیر میں موسم سرما کی پہلی برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ
    • شادی پر جانے والا خاندان لٹ گیا، گھر سے ایک کروڑ کا سامان چوری
    • کالے بچھوؤں کی فروخت کے 24 ارب روپے بینکوں میں پھنس گئے
    • آئی جی پنجاب عبدالکریم 54 ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے زیر تربیت افسران سے ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے ہیں۔
    • لاہور:دکاندار نے ایل پی جی گیس سلنڈر فروخت کیلئے رکھے ہوئے ہیں۔
    • سعودی عرب ، توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار سری لنکن شہری کی سزائے موت منسوخ
    • جرمنی، لڑکی کو ہراساں کرنے والےروبوٹ کو پولیس نے تحویل میں لے لیا
    • نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان نے اپنا نیا لوگو متعارف کرا دیا
    • آئی جی پنجاب سے کامن ٹریننگ پروگرام کے زیرتربیت 6افسران کی ملاقات
    • پاکستان ،روس کا مشترکہ مفادات کے تمام شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے پختہ عزم کا اعادہ
    • سیہون ہسپتال کے وارڈ میں سانپ داخل، مریضوں میں خوف و ہراس
    • جاپان میں پاکستانیوں کیلئے ای پاسپورٹ سروس کا آغاز آج سے ہو گا
    • دنیا بھر میں خوراک کا عالمی د ن کل منایا جائے گا
    • لاہور:دی نالج آف آرٹ اکیڈمی کے زیراہتمام خواتین خطاطی نمائش دیکھ رہی ہیں۔
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    کے پی میں ایمرجنسی گورنر راج کا نفاذ پشاورہائیکورمیں چیلنج

    By Khabrain Newsاکتوبر 15, 2026
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    پشاور( نیوز ایجنسیاں) کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کوپشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا
    گیا، جبکہ نئے سیٹ اپ کے حق میں شہریوں نے جشن منایا۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے آرٹیکل 58ٹو بی کو دوبارہ زندہ کر دیا گیا ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ادھر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی و گورنر راج کے نفاذ کے بعد 50افراد گرفتار، انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت چار مقدمات بھی درج کئے گئے۔ ڈی آئی خان میں ایک ماہ کیلئے دفعہ 144نافذ، جلسے جلوسوں اور ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔اس حوالے سے بیرسٹر گوہر نے علی زمان ایڈووکیٹ کی وساطت سے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر کے جمہوری حکومت ختم کر دی گئی، امید ہے عدالت صوبے میں جمہوری حکومت بحال کرے گی۔بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ عدالت سے درخواست کی جلد سماعت کی استدعا کی ہے، ہم آئینی اور قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے۔دریں اثناء چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے جمہوریت میں کسی بھی منتخب حکومت کو اس طرح برخاست نہیں کیا جاتا، آرٹیکل 58ٹو بی کو دوبارہ زندہ کر دیا گیا ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔پارلیمنٹ ہائو س کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایمرجنسی لگانے کے عمل سے جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کو نقصان ہو گا۔ اس عمل سے دہشت گردی کے خلاف آپ کا بیانیہ نظر انداز ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اگر حالات کی بنیاد پر ایمرجنسی لگانی ہے تو پھر کچے کے علاقے میں بھی ایمرجنسی لگا دیں۔ادھر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعدپی ٹی آئی کے حامیوں کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات میں پولیس نے تقریباً 50افراد کو گرفتار کرکے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت چار مقدمات بھی درج کر لئے ۔خیبر پختونخوا کے گورنر کی مشیر برائے اطلاعات ثمر ہارون بلور کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے واقعات پر محتاط اور متناسب انداز میں ردعمل دیا، پولیس کی جانب سے براہِ راست فائرنگ کے الزامات بے بنیاد اور لغو ہیں۔رپورٹس کے مطابق پشاور کے ضلع باڑہ بازار کے داخلی و خارجی راستے سیل کر دئیے گئے، باڑہ بازار کا کنٹرول پولیس نے سنبھال لیا۔ کپیٹل سٹی پولیس پشاور کے ترجمان کا کہنا ہے کہ باڑہ میں حالات مکمل کنٹرول میں ہیں، عوام افواہیں پھیلانے سے گریز کریں، قانون ہاتھ میں لینے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ جھڑپوں کے دوران پانچ افراد زخمی ہوئے، سب سے سنگین واقعہ خیبر کے ضلع باڑہ میں پیش آیا۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ نامعلوم افراد نے باڑہ میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ایک مرکز کو آگ لگا کر قریبی دفاتر پر دھاوا بول دیا۔اس واقعے کے حوالے سے ثمر بلور نے کہا کہ واقعے کی ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے ذریعے کیا جائے گا، جس میں ویڈیو فوٹیج کا جائزہ لینے اور عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کرنے سمیت دیگر شواہد جمع کیے جائیں گے۔ دریں اثناء پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات اور رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات سب بہانے تھے، مجھے پہلے سے معلوم تھا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانا ہے۔ ایک انٹرویو میں شوکت یوسفزئی نے کہا کہ انہوں نے جو کہا تھا، اب وہ ہو گیا ہے۔لانگ مارچ سے متعلق شوکت یوسفزئی نے اعتراف کیا کہ مارچ کیلئے ان کے سامنے کوئی منصوبہ نہیں تھا۔علاوہ ازیںسابق سپیکرقومی اسمبلی و رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر نے کہا ہے کہ گورنر راج کا مقصد اگر دہشت گردی کا خاتمہ تھا تو پھر سیاسی مخالفین کے گھروں پر چھاپے کیوں مار رہے ہیں؟ ۔پولیس کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال کرکے حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں اسد قیصر نے کہا کہ حکومت نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کا جواز پیش کرتے ہوئے گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی، لیکن افسوس کہ دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی کے بجائے صوبے کی پولیس کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔آج میرے گھر پر پولیس کی بھاری نفری کا چھاپہ اس طرزِ عمل کی ایک واضح مثال ہے۔ انہوں نے کہا دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کہاں ہے؟ عوام کے جان و مال کا تحفظ کہاں ہے؟ آخر خیبر پختونخوا پولیس کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال کرکے حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟صوبے میں امن و امان کی بحالی کے بجائے سیاسی کارکنوں اور مخالفین کو نشانہ بنانا حالات کو مزید خراب کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ہم ایسے ہتھکنڈوں سے نہ خوفزدہ ہوں گے اور نہ ہی اپنے آئینی، جمہوری اور سیاسی موقف سے پیچھے ہٹیں گے۔فوری طور پر سیاسی انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں اور وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان اور دیگر تمام گرفتار سیاسی رہنمائوں، کارکنوں اور اراکینِ اسمبلی کو رہا کیا جائے۔ اسد قیصر نے کہا کہ ضلع باڑہ، خیبر پختونخوا میں نہتے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان پر پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔پرامن سیاسی کارکنان کے خلاف طاقت کا استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ حکومت ہوش کے ناخن لے اور سیاسی اختلافات کو طاقت کے ذریعے دبانے کے بجائے عوام کے جمہوری اور آئینی حقوق کا احترام کرے۔دوسری جانب خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پشاور، چترال، باجوڑ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں روزمرہ کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں، جبکہ ایبٹ آباد، کرک اور چترال میں نئے سیٹ اپ کے حق میں شہریوں کی جانب سے جشن منایا گیا اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔پشاور، چترال، باجوڑ اور دیگر علاقوں میں دکانیں اور کاروباری مراکز کھلے ہیں اور شہری اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں مشغول ہیں۔ سیاسی صورتحال میں تبدیلی کے باوجود مختلف شہروں میں کاروبار زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔دوسری جانب ایبٹ آباد، کرک اور چترال میں صوبے میں نئے سیٹ اپ کے حق میں خوشی کا اظہار کیا گیا۔کرک میں شہریوں نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مٹھائیاں تقسیم کیں، جبکہ ایبٹ آباد میں نئے سیٹ اپ کے حق میں ریلی نکالی گئی۔ چترال میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے پر مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔دریں اثناء ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان حکمت اللہ نے ضلع بھر میں ایک ماہ کیلئے دفعہ 144نافذ کر دی، جس کے تحت جلسے، جلوسوں، ریلیوں اور عوامی اجتماعات پر 30روز کے لئے پابندی عائد کر دی گئی ۔جاری اعلامیے کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری ، اسلحے کی نمائش اور سڑکوں پر خیمے لگانے پر بھی پابندی عائد ہوگی۔دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان میں دو گروپوں میں فائرنگ کے واقعے میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔ڈی پی او ڈی آئی خان ضیا الدین احمد کا کہنا ہے کہ علاقہ ملانہ میں دو گروپوں میں فائرنگ کے واقعے میں 4 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ضیا الدین احمد نے کہا کہ فائرنگ کا واقعہ والی بال میچ کے بعد واپسی پر پیش آیا، فائرنگ کے واقعے میں 5 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات بھی جاری ہے۔
    چیلنج

    Khabrain News

      Keep Reading

      خیبر پختونخوا میں 30 ڈاکٹرز برطرف، 6 افغان ڈاکٹرز کو فوری پاکستان چھوڑنے کا حکم

      اسلام آباد: بلوچستان بار کونسل کا وفد چیف جسٹس آف آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان سے ملاقات کر رہا ہے۔

      ہندو برادری کا مذہبی تہوار نوراتری جوش و خروش سے جاری

      تازہ ترین

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.