اسلام آباد( نامہ نگار خصوصی) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع’ خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کیلئے شانہ بشانہ ہے۔ وزیر اعظم سے مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکرٹری جنر ل لیفٹیننٹ جنرل(ر) نعمان محمود نے ملاقات کی جس میں دفاعی اور تزویراتی تعاون کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی، علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل (ر)محمد ظفر اقبال کو معاون خصوصی برائے توانائی مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔دریں اثناء وزیر اعظم نے زراعت، اپنا گھر، ایس ایم ایز کو قرضوں کی بروقت فراہمی ضروری قرار دیا جبکہ معدنیات کی برآمدات میں اضافے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی ، علاوہ ازیں ایم کیو ایم کو دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے اور تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرادی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے مکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں امن، اتحاد اور استحکام کے لئے تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کیلئے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم آفس کے اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل(ر) نعمان محمود نے ملاقات کی اور مکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت دفاعی اور تزویراتی تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے حکمت عملی سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں دفاعی اور تزویراتی تعاون کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شہباز شریف نے نعمان محمود کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد دی اور ان کے لئے نیک تمنائو ں کا اظہار کیا۔ انہوں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں امن، اتحاد اور استحکام کے فروغ کے لئے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، دفاع اور علاقائی سلامتی کے لئے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کی مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل (ر)محمد ظفر اقبال کو معاون خصوصی برائے توانائی مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر)محمد ظفر اقبال کی تقرری فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔اعلامیہ وزیراعظم آفس کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر)محمد ظفر اقبال کا عہدہ وزیر مملکت کے برابر ہوگا۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وزیراعظم اپنا گھر، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی اور مالی وسائل تک رسائی کے حوالے سے اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں انہیں بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے لیے درخواستوں پر کارروائی کا دورانیہ کم کرکے 15کاروباری دن تک محدود کر دیا گیا جب کہ دستاویزات کی تعداد 25سے کم کرکے صرف 5کر دی گئی۔اجلاس کو ہاسنگ، زرعی شعبے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی کے اعداد وشمار پیش کیے گئے۔وزیراعظم نے کہا کہ اپنا گھر، ایس ایم ایز اور زراعت کے شعبوں کو قرضوں کی بروقت فراہمی ملکی معیشت کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے۔وزیراعظم نے قومی تعمیر و ترقی کے لیے ان ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی اور کہا کہ جن بینکوں کی کارکردگی اب تک غیر تسلی بخش ہے وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں تاکہ انکو بھی حکومتی حوصلہ افزائی ملے۔اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتی پتھروں کی کھوج، تراش خراش اور ویلیو ایڈیشن کے بعد برآمدات کے پائلٹ پراجیکٹ پر سست روی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو لائحہ عمل مرتب کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قیمتی پتھروں و جواہرات کے شعبے کی ترقی کیلئے اقدامات میں سست روی قبول نہیں۔ کان کنی، تراش خراش سے ویلیو ایڈیشن کا ایکو سسٹم بنایا جائے کیونکہ غیرمعیاری طریقے سے کان کنی اور قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ سے سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ قیمتی پتھروں، معدنیات کے وسیع ذخائر سے برآمدات میں اضافے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ دوسرے ممالک کی طرح برانڈ پاکستان پر کام کریں۔قبل ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنمائوں کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنمائو ں کو یقین دلایا ہے کہ دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جائے گا جبکہ ایم کیو ایم نے بھی خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنمائوں کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ ملاقات میں فاروق ستار نے کہا کہ آپریشن کی صورت میں دہشت گرد کراچی کا بھی رخ کر سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے سوال اٹھایا کہ کراچی میں دہشت گردوں کے ممکنہ ردِعمل کو روکنے کے لئے کیا اقدامات کئے جائیں گے اور کس طرح دیگر جگہوں پر دہشت گردوں کی منظم پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا جائے گا؟۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں وزیرِ اعظم اور وفاقی وزرا نے ایم کیو ایم کے خدشے سے اتفاق کیا اور وزیرِ اعظم نے اس حوالے سے کہا کہ سندھ حکومت سے دہشت گردوں کے خلاف کوآرڈینیشن کیلئے بات کریں گے۔وزیراعظم شہباز شریف سے روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور اقتصادی ترقی سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور روس کے تعلقات میں ہونے والی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اس رفتار کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔وزیراعظم نے روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات مزید گہرے کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ باہمی مفادات کے حصول کے لیے دونوں ممالک کو موجودہ دوطرفہ طریقہ کار سے مثر انداز میں فائدہ اٹھاتے ہوئے تعاون آگے بڑھانا چاہیے۔بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے منظم جرائم کی روک تھام کے لیے پاکستان اور روس کے درمیان تعاون مضبوط بنانے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔
شہباز شریف
