معروف لکھاری، ہدایتکار و شاعر خلیل الرحمان قمر کو آدھی رات خاتون کے گھر جانے پر سوشل میڈیا صارفین نے تمسخر کا نشانہ بناڈالا۔
خلیل الرحمان قمر کو 15 جولائی کو اغوا کیا گیا تھا جہاں اغواکاروں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور تاوان میں بھاری رقم وصول کرنے کے بعد انہیں چھوڑ دیا، تاہم چند دن خاموش رہنے کے بعد 21 جولائی کو انہوں نے مقدمہ درج کروادیا۔
مقدمہ درج ہوتے ہی چند ایسے حقائق سامنے آئے جنہوں نے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کردیا اور ان میں سے ایک خلیل الرحمان قمر کا رات 4 بجے ملزمہ آمنہ عروج کے گھر جانا تھا۔
خلیل الرحمان قمر نے ایف آئی آر میں لکھوایا کہ 15 جولائی رات 12 بجے ایک خاتون کا فون آیا جس نے کہا آپ کی بہت بڑی فین ہوں، انگلینڈ سے آئی ہوں، آپ کے ساتھ ڈرامہ بنانا ہے، خاتون نے ملاقات کیلئے کہا اور اپنی لوکیشن بھی بھجوا دی اور پھر خلیل الرحمان قمر علی الصبح تقریباً 4 بجے اس لوکیشن پر پہنچ گئے۔
سوال یہ بھی اٹھایا گیا کہ جب کال رات 12 بجے آئی تو خلیل الرحمان 4 بجے کیوں ایک نامحرم خاتون کے گھر پہنچے؟
سوشل میڈیا پر طوفان برپا کرتے ان سوالوں کے درمیان خلیل الرحمان قمر نے ایک پریس کانفرس منعقد کی جس میں وہ تمام سوالوں کا جواب دینے بیٹھے لیکن یہ پریس کانفرنس انکو مزید ٹرولنگ کا نشانہ بنواگئی۔
دراصل خلیل الرحمان نے رات گئے خاتون کے گھر جانے کی وضاحت دیتے ہوئے یہ کہا کہ ‘وہ 5 گزشتہ پانچ سال سے بیمار ہیں اور ڈاکٹر نے انہیں دھوپ میں جانے سے منع کیا ہوا ہے‘۔
غالباً یہ جواب سن کر سامنے بیٹھے میڈیا پرسنز کے چہرے پر آنے والی ہنسی کی وجہ سمجھ کر خلیل الرحمان نے کہا کہ ’اگر منع نہ بھی کیا ہوتا تب بھی ہم رات کو ملاقاتیں کرتے ہیں اور اس ملاقات میں جینڈر کی تمیز نہیں کی جاتی کہ جس سے مل رہے وہ خاتون ہے یا مرد، جب ہم مرد سے رات کو ملاقات کرتے ہیں تب تو کوئی اعتراض نہیں ہوتا ہے‘۔
خلیل الرحمان کو نامعلوم بیماری کے سبب ڈاکٹر کا دھوپ میں نکلنے سے منع کرنا سوشل میڈیا پر مزاحیہ مواد ‘میمز’ کی وجہ بن گیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے بڑی تعداد نے خلیل الرحمان کے بیان پر میمز بنائے اور مذاق مذاق میں انہیں انکے پرانے بیانات بھی یاد کروادیے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ‘ لگتا ہے خلیل الرحمان صاحب انسان نہیں چمگادڑ ہیں جو صرف رات میں نکل سکتے ہیں’۔
ایک صارف نے خلیل الرحمان کا تمسخر اڑاتے ہوئے لکھا کہ ‘ خلیل الرحمان قمر کو اب کوئی اگلے 5 سال تک دھوپ میں نکلتا دیکھے تو فوراً ڈاکٹر کو شکایت لگائے’۔






































