معروف پاکستانی کامیڈین، اداکار اور میزبان مومن ثاقب کے بھائی بلال ثاقب کو حکومت پاکستان نے پاکستان کرپٹو کونسل کیلئے وزیر خزانہ کا چیف ایڈوائزر مقرر کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بلال ثاقب قومی معیشت کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ڈیجیٹل تبدیلی اور محفوظ و شفاف مالیاتی نظام متعارف کرائیں گے۔
وزارت خزانہ نے بلال ثاقب کے پاکستان کرپٹو کونسل کو چیف ایڈوائزر بنانے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔
بلال ثاقب وزارت خزانہ کو کارکردگی اور فیصلہ سازی کے عمل کو بہتر بنانے اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال کے لیے مشورے بھی دیں گے۔
پاکستان میں بے انتہا مواقع موجود ہیں، بلال ثاقب
اس حوالے سے بلال ثاقب کا کہنا ہے کہ درست حکمت عملی اور ریگولیٹری فریم ورک کے ساتھ نوجوانوں کو بااختیار بنایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کریپٹو کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے پاکستان میں بے انتہا مواقع موجود ہیں، نوجوان ڈیجیٹل مستقبل کے محرک بنیں گے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ اس کی بدولت ہم ملک میں معاشی ترقی کو فروغ دے سکتے ہیں اور پاکستان کو دنیا بھر میں ایک رہنماء کے طور پر قائم کرسکتے ہیں۔
بلال ثاقب کے تقرر پر وزیر خزانہ کا خیر مقدم
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بلال ثاقب کی تقرری کا خیر مقدم کیا ہے، انہوں نے کہا کہ بلال بن ثاقب کی تعیناتی ایک محفوظ اور شفاف مالیاتی نظام کو یقینی بناتے ہوئے ابھرتی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کے ہمارے عزم کا عکاس ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ بلال ثاقب کی قیادت ایک مضبوط اور مؤثر ریگولیٹری فریم ورک کی ترقی کی رہنمائی کرے گی، جس سے پاکستان کے کرپٹو سیکٹر میں جدت طرازی اور پائیدار ترقی کو فروغ ملے گا۔
بلال ثاقب کون؟
واضح رہے کہ بلال ثاقب کے ویب تھری انویسٹر، اسٹریٹجک ایڈوائزر اور بلیک چین اسپیس کلا لیڈر ہونے کا اعتراف ممتاز جریدے فوربس نے بھی کیا تھا۔
بلال ثاقب کی شاندار خدمات کا اعتراف بادشاہ چارلس، آنجہانی ملکہ برطانیہ اور مئیر لندن صادق خان بھی کر چکے ہیں۔
بلال بن ثاقب 163nd پوائنٹس آف لائٹ ایوارڈ کے وصول کنندہ بھی ہیں، جسے برطانوی وزیراعظم نے ملک میں تبدیلی لانے والوں کو تسلیم کرنے پر دیا تھا۔
وہ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس میں شراکت کے لیے 2023 میں ‘ممبر آف دی برٹش ایمپائر (ایم بی ای)’ کا اعزاز بھی اپنے نام کرچکے ہیں۔
کورونا وباء کے دوران نیشنل ہیلتھ سروس میں ہزاروں مفت کھانے تقسیم کرنے پر ‘بلال ثاقب’ کو ایم بی ای کا یہ اعزاز دیا گیا تھا۔
انکے بھائی مومن ثاقب کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے کرکٹ میچ کے بعد میڈیا کے سامنے ’او بھائی مارو مجھے‘ کہہ کر رونے کی وائرل ویڈیو کیوجہ سے بھی پہچانا جاتا ہے۔
مومن ثاقب اداکاری کی دنیا میں بھی اپنا فن آزما چکے ہیں لیکن ان کی شہرت کی وجہ کوئی بھی کردار نہیں بن سکا، ان دنوں وہ نجی ٹی وی چینل پر شو کی میزبانی کررہے ہیں۔