’وہاں پر سیکس اور بیویوں سے متعلق لطیفے سنائے جا رہے تھے۔ سعودی عرب جیسے ملک میں اس نوعیت کی کامیڈی دیکھنا بہت غیر معمولی ہے۔‘
یہ کہنا ہے سعودی عرب میں مقیم ایک خاتون کا جنھوں نے سعودی عرب میں اپنی نوعیت کے پہلے ریاض کامیڈی فیسٹیول میں شرکت کی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’وہاں لوگوں کا جوش و خروش دیکھنے کے لائق تھا۔ میں نے ایسا ماحول یہاں کبھی نہیں دیکھا تھا۔‘
سارہ (فرضی نام) نے امریکی کامیڈی سٹارز ڈیو شپیل اور بل بر کی پرفارمنسز دیکھی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ان کامیڈیئنز نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ لیکن اُن کے بقول اس سے اُنھیں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ کیونکہ اگر وہ ’یہاں ایسی باتیں کرتے تو آج اُنھیں پرفارم کرنے کی اجازت نہ ملی ہوتی۔‘





































