تازہ تر ین

..پاکستان میں ماں اور بچے کی صحت اب صرف ایک طبی مسئلہ نہیں

رپورٹر کی ڈائری
مہران اجمل خان
پاکستان میں ماں اور بچے کی صحت اب صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترقی، سماجی استحکام، اور انسانی سرمایہ کاری کا بنیادی انڈیکیٹر بن چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نے گذشتہ دو دہائیوں میں کچھ ترقی کی ہے لیکن ابتدائی اعداد و شمار اب بھی تشویشناک حد تک بلند ہیں اور 2030 کے عالمی اہداف سے بہت پیچھے ہیں۔ روزانہ تقریباً 27 مائیں حاملہ پیچیدگیوں کی وجہ سے موت کا نشانہ بنتی ہیں اور تقریباً 675 نوزائیدہ بچے اپنی پیدائش کے پہلے ماہ میں ہی جان کھو دیتے ہیں۔ سالانہ طور پر تقریباً 9 ہزار 8 سو مائیں اور 246,300 نوزائیدہ بچے قابل علاج یا قابل تدارک پیچیدگیوں کے باعث موت کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ دو لاکھ سے زائد بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں۔ یہ محض اعداد نہیں بلکہ زندگیاں ہیں جو مناسب دیکھ بھال، بروقت علاج اور مؤثر پالیسیوں سے بچائی جا سکتی تھیں۔
گذشتہ دو دہائیوں میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، ماں کی شرحِ اموات 2006 میں 1لاکھ میں 276 زندہ پیدائش سے گھٹ کر 155 تک آ چکی ہے جبکہ نوزائیدہ اموات 1 ہزار میں 52 سے کم ہو کر 37.6 ہو گئی ہیں۔ لیکن یہ پیش رفت عالمی اہداف کے مقابلے میں نہایت سست ہے۔ عالمی پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت 2030 تک ماں کی شرحِ اموات کو 1لاکھ میں 70 اور نوزائیدہ اموات کو 12 فی 1,000 تک کم کرنا لازمی ہے۔ موجودہ رفتار کے ساتھ یہ اہداف حاصل ہونا مشکل دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان میں اس بحران کی بنیادی وجوہات متعدد اور پیچیدہ ہیں۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ابتدائی مراکز صحت، ایمرجنسی زچگی خدمات، تربیت یافتہ مڈوائفز اور نرسز، اور مناسب ریفرل سسٹم کی عدم موجودگی اموات میں براہِ راست اضافے کا سبب ہے۔ مزید یہ کہ متعدد علاقوں میں پوسٹ نیٹل کیئر اور نوزائیدہ بچوں کے لیے ابتدائی نگہداشت یا نیوبورن کیئر یونٹس دستیاب نہیں ہیں، جس سے متوقع بچیوں کی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ حاملہ خواتین میں خون کی کمی، غذائی قلت، اور بچوں کو ابتدائی چھ ماہ تک ماں کا دودھ نہ ملنا بھی پیچیدگیوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ پاکستان میں صرف تقریباً 48 فیصد بچے چھ ماہ تک مکمل ماں کا دودھ پاتے ہیں، حالانکہ یہ عمل ہزاروں زندگیوں کی بقاء کا ضامن ہے۔پنجاب میں صورتحال قدرے بہتر ہونے کے باوجود تشویشناک ہے۔ نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح 40 فی 1 ہزار کے قریب ہے جبکہ غذائی قلت اور نشوونما کی کمی لاکھوں بچوں کے مستقبل کو متاثر کر رہی ہے۔ یہ مسئلہ صرف وفاقی سطح پر نہیں بلکہ صوبائی پالیسیوں اور عملدرآمد کی کمزوریوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔
عالمی ادارے خصوصاً WHO اور UNICEF اس صورتحال پر واضح سفارشات دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق ہر حاملہ خاتون کو کم از کم چار بار معیاری قبل از پیدائش معائنہ حاصل ہونا چاہیے ہر زچگی تربیت یافتہ عملے کی نگرانی میں ہونی چاہیے اور ہر ضلع میں 24 گھنٹے فعال ایمرجنسی زچگی سہولیات دستیاب ہونی چاہئیں۔ ماں اور بچے کی غذائیت، آئرن اور فولک ایسڈ سپلیمنٹس، اور بریسٹ فیڈنگ کے فروغ کو قومی ترجیح بنانا بھی ناگزیر ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق ہر ایک ڈالر کی سرمایہ کاری ماں و نیوبورن صحت میں ڈالنے سے کے معاشی فوائد پیدا کر سکتا ہے، جس سے یہ محض اخراجات نہیں بلکہ قومی سرمایہ کاری بن جاتی ہے۔حکومت پاکستان اور بالخصوص پنجاب حکومت کے لیے یہ وقت لمحہ فکریہ ہے۔ صحت کے بجٹ میں اضافہ محض اعلانات تک محدود نہ رہے بلکہ اس کا واضح حصہ ماں و بچے کی صحت پر خرچ ہونا چاہیے۔ لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام، مڈوائفری سروسز، دیہی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن اور ماں کی موت کے ہر واقعے کی باقاعدہ آڈٹ رپورٹ فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ جب تک ہر موت کا حساب نہیں لیا جائے گا، پالیسیاں محض کاغذی رہیں گی۔
بطور پاکستانی قوم ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہر خاندان کو سمجھنا ہوگا کہ حمل کے دوران طبی معائنہ ایک ضروری اقدام ہے۔ ماں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا، کم عمری کی شادیوں سے اجتناب، بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی حوصلہ افزائی اور ویکسینیشن کی پابندی سب وہ اقدامات ہیں جو کسی بڑے بجٹ کے بغیر بھی ہزاروں جانیں بچا سکتے ہیں۔ گھروں میں تعلیم، کمیونٹی نیٹ ورکس، سپورٹ گروپس، اور مقامی آگاہی پروگرام زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔پاکستان میں اس حوالے سے کچھ پیش رفت تو زمانے آئی ہے مگر موجودہ شرح ماں و نوزائیدہ اموات کو خطرناک حد تک بلند رکھتی ہیں خاص طور پر دیہی، پسماندہ اور غربت زدہ علاقوں میں۔ عالمی ادارے، حکومت، اور پاکستانی قوم کو مل کر بروقت منصوبہ بندی، صحت نظام کی مضبوطی، عوامی شعور، اور مناسب سرمایہ کاری کے ساتھ اس بحران کا مؤثر حل نکالنا ہوگا۔ یہی اقدامات نہ صرف اموات کو کم کریں گے بلکہ ملکی ترقی، سماجی استحکام اور انسانی وسائل کو مضبوط بنائیں گے۔ ہمارے ہاں چھ ماہ تک مکمل بریسٹ فیڈنگ کی شرح صرف 48 فیصد ہے۔ پنجاب میں نوزائیدہ اموات کی شرح تقریباً 1ہزار میں 41 اور غذائی قلت و پسماندہ نشوونما 31.5 فیصد کے قریب ہے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ فوری اور مربوط اقدامات نہ صرف ضروری بلکہ غیر متوقع نتائج کے خطرے سے بچاؤ کے لیے ناگزیر ہیں۔
آخرکار ماں اور بچے کی صحت قوم کے مستقبل کی عکاس ہے۔ اگر آج ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل ہمارے اسپتال، معیشت اور سماجی ڈھانچے اس کی قیمت چکائیں گے۔ عالمی ادارے خبردار کر رہے ہیں، اعداد و شمار چیخ رہے ہیں، اور اب فیصلہ ہم سب کا ہے کہ کب تک اس قومی سانحے کو معمول سمجھتے رہیں گے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain