روس نے وینزویلا سے آنے والے روسی پرچم بردار بحری جہاز کے تحفظ کے لیے اپنی آبدوز روانہ کردی۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈز طویل عرصے سے اس جہاز کا پیچھا کررہے ہیں اور اس پر قبضے کی کوشش بھی کرچکے ہیں۔
اس تیل بردار جہاز نے گزشتہ ماہ وینزویلا کے گرد امریکا کی جزوی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی تھی جس کے بعد سے امریکی بحریہ اس جہاز کے تعاقب میں ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جہاز وینزویلا، روس اور ایران جیسے امریکی پابندیوں کا شکار ممالک کا خام تیل لے جانے والے نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ کا حصہ ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق روس نے ٹینکر کی حفاظت کے لیے ’ایک آبدوز اور دیگر بحری جہاز‘ روانہ کیے ہیں۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق بھی دو امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ روس نے بطور حفاظتی دستہ ایک آبدوز اور دیگر روسی بحری جہاز بھیجے ہیں۔
روس کی وزارتِ خارجہ نے منگل کے روز کہا کہ روس امریکا کی جانب سے ٹینکر کے تعاقب کو ’تشویش کے ساتھ‘ دیکھ رہا ہے۔ وزارت نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ یہ جہاز روسی پرچم کے تحت سفر کر رہا ہے اور امریکی ساحل سے بہت دور ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر روسی جہاز کو امریکی اور نیٹو افواج کی جانب سے غیر معمولی توجہ دی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ امریکی کوسٹ گارڈ کے تعاقب کے بعد اس جہاز نے اپنی رجسٹریشن روس منتقل کر لی، اپنا نام بیلا 1 سے تبدیل کر کے مارینرا رکھ لیا جبکہ گزشتہ ماہ عملے نے ٹینکر پر روسی پرچم بھی پینٹ کر دیا تھا۔
یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا آنے جانے والے پابندی زدہ آئل ٹینکروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا تازہ واقعہ ہے۔
روس کی حفاظت میں آنے والا یہ ٹینکر وینزویلا کی جانب رواں دواں تھا تاہم ناکہ بندی سے بچ نکلتے وقت اس میں کوئی کارگو موجود نہیں تھا۔
یہ آئل ٹینکر 2024 سے ایران اور حزب اللہ سے مبینہ روابط کے الزام میں امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔






































