تازہ تر ین

رپورٹر کی ڈائری مہران اجمل خان

رپورٹر کی ڈائری
مہران اجمل خان

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سب سے زیادہ جھیل رہے ہیں، حالانکہ عالمی سطح پر کاربن اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اب صرف گرمیوں کے شدید درجہ حرارت تک محدود مسئلہ نہیں رہی بلکہ سردیوں میں اسموگ، سانس کی بیماریوں اور غیر معمولی موسمی پیٹرنز کی صورت میں بھی خود کو واضح طور پر ظاہر کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسا بحران ہے جو خاموشی سے مگر مسلسل عوامی صحت کو متاثر کر رہا ہے، اور جسے پالیسی سطح پر اب تک سنجیدگی سے تسلیم نہیں کیا گیا۔سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی بڑے شہروں خصوصاً لاہور، فیصل آباد اور گرد و نواح میں اسموگ ایک معمول بن چکی ہے۔ فضائی آلودگی کی یہ کیفیت محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ براہِ راست عوامی صحت کی ایمرجنسی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں سانس کے انفیکشن، دمہ، نمونیا اور دل کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بچے، بزرگ اور پہلے سے بیمار افراد اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہیں مگر اس کے باوجود صحت کے نظام میں اسموگ یا فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح ایمرجنسی پروٹوکول یا طویل المدتی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔موسمیاتی تبدیلی کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ اس نے موسموں کے درمیان توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ سردیاں زیادہ خشک، غیر متوقع اور بعض اوقات طویل ہوتی جا رہی ہیں جس کے نتیجے میں سانس کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ وائرل انفیکشنز میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلیاں وقتی نہیں بلکہ ایک نئے موسمی رجحان کی عکاسی کرتی ہیں جس کے صحت پر اثرات ہر سال زیادہ شدید ہوتے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب گرمیوں میں ہیٹ ویوز کی شدت اور دورانیہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہیٹ اسٹروک، ڈی ہائیڈریشن، گردوں کے امراض اور دل کے عارضے اب محض موسمی خبریں نہیں بلکہ ہر سال ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز کی حقیقت بن چکے ہیں۔ مزدور طبقہ، بزرگ شہری اور کم آمدنی والے افراد ان خطرات کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے صحت کے خطرات کو سال کے ہر موسم میں پھیلا دیا ہے۔
بارشوں کے غیر متوازن پیٹرن نے بیماریوں کے پھیلاؤ کا جغرافیہ بھی تبدیل کر دیا ہے۔ ڈینگی، ملیریا اور دیگر ویکٹر بورن بیماریاں اب مخصوص موسم یا علاقوں تک محدود نہیں رہیں۔ شہری مراکز میں ان بیماریوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شہری صحت کے نظام پر بھی براہِ راست پڑ رہے ہیں، جہاں نگرانی اور روک تھام کے نظام پہلے ہی کمزور ہیں۔
ماضی میں پاکستان کے اندر آنے والے سیلاب کو اگر صرف ایک وقتی قدرتی آفت سمجھا جائے تو یہ ایک سنگین پالیسی غلطی ہوگی۔ سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں میں پانی سے پھیلنے والی بیماریوں، غذائی قلت، جلدی اور سانس کے امراض میں اضافہ ایک عارضی مسئلہ نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کے مسائل، جنہیں عالمی سطح پر آفات کے بعد انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، پاکستان میں تقریباً مکمل طور پر نظرانداز کر دیے گئے۔ آج بھی آفات کے بعد صحت کے طویل المدتی اثرات کی مانیٹرنگ کے لیے کوئی مؤثر قومی فریم ورک موجود نہیں۔
یہ تمام عوامل ایک ایسے صحت کے نظام پر دباؤ ڈال رہے ہیں جو پہلے ہی وسائل کی کمی کا شکار ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں بیڈز، ادویات اور طبی عملے کی قلت معمول بن چکی ہے۔ صحت پر مجموعی قومی اخراجات خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے جڑے صحت کے خطرات کے لیے کوئی مخصوص یا مربوط بجٹ لائن موجود نہیں۔ نتیجتاً، موسمی شدتوں سے پیدا ہونے والی بیماریاں صحت کے نظام کی گنجائش سے تجاوز کرتی جا رہی ہیں۔
پالیسی سطح پر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور صحت کو اب بھی دو الگ شعبوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ نیشنل کلائمیٹ پالیسی میں صحت کو ثانوی حیثیت دی گئی ہے، جبکہ نیشنل ہیلتھ ویژن موسمیاتی خطرات کو ایک مستقل چیلنج کے طور پر تسلیم کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ اس پالیسی خلا کے باعث نہ تو صحت کا نظام موسمیاتی خطرات کے لیے تیار ہے اور نہ ہی موسمیاتی منصوبہ بندی میں انسانی صحت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
دنیا کے کئی ممالک اب کلائمیٹ ریزیلینٹ ہیلتھ سسٹمز کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں موسم سے جڑی بیماریوں کی پیشگی نشاندہی، ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی اور کمیونٹی لیول مداخلت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ صحت کو موسمیاتی بحث کے حاشیے سے نکال کر مرکز میں لائے۔ موسمیاتی پالیسی اور صحت پالیسی کے درمیان عملی ربط، مقامی سطح پر تحقیق، بنیادی صحت کے نظام میں سرمایہ کاری اور آفات کے بعد صحت کی مانیٹرنگ کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کسی ایک موسم کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ سال بھر جاری رہنے والا عوامی صحت کا بحران بن چکی ہے۔ سردیوں میں اسموگ اور سانس کی بیماریاں ہوں یا گرمیوں میں ہیٹ ویوز اور پانی کی کمی، یہ سب ایک ہی حقیقت کے مختلف رخ ہیں۔ اگر اس خاموش ایمرجنسی کو اب بھی پالیسی سطح پر تسلیم نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں اس کی قیمت صرف ماحول یا معیشت نہیں بلکہ انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔ پاکستان کے لیے یہ لمحہ محض ایک متاثرہ ملک کے طور پر سامنے آنے کا نہیں بلکہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی اور صحت کے باہمی تعلق پر ایک سنجیدہ، ڈیٹا بیسڈ اور زمینی آواز بننے کا بھی موقع ہے۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain