تازہ تر ین

ایران میں پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رک گیا، انٹرنیشنل کالز بحال، انسانی حقوق تنظیم کا 2403 ہلاکتوں کا دعویٰ

ایران میں دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رک گیا۔

رپورٹس کے مطابق ایران میں احتجاج کا سلسلہ رکنے کے بعد حالات معمول پر آنے لگے۔  انٹرنیشنل کالز  بحال کردی گئيں تاہم انٹرنیٹ سروس ابھی بند ہے۔

امریکی انسانی حقوق تنظیم نے دعویٰ کیا کہ  ایران میں  احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک 2403 مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں۔

ادھر ایرانی انٹیلی جنس حکام نے کہا کہ انہوں نے متعدد گھروں سے امریکی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور  اسلحہ پکڑ لیا۔

 دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا نے ملٹری آپریشن کی کوشش کی تو  ایران تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ  ایران نے ملک میں مہنگائی کے خلاف جائز   احتجاج کو  باضابطہ طور پر تسلیم کیا، مظاہرین سے ریلیف کی بات چیت جاری تھی کہ ٹرمپ کو  مداخلت کا موقع فراہم کرنے کے لیے سازش کے تحت مظاہروں کو  پُرتشدد کردیا گیا تاکہ ایران کے خلاف بیرونی فوجی طاقت کا ممکنہ جواز تلاش کیا جا سکے ۔

ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ ان  کے پاس بیرونِ ملک سے دہشت گرد ایجنٹوں کو احکامات دینے کے شواہد موجود ہیں، نہيں سمجھتے کہ امریکا منصفانہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

عباس عراقچی نے جرمن چانسلر کے بیان پر  ردعمل میں کہا کہ برلن انسانی حقوق کے لیکچر کے لیے سب سے بدترین مقام ہے، جرمن چانسلر وینزویلا کے صدر کے اغوا پر  مسلسل خاموش رہے،  غزہ میں 70 ہزار  شہادتوں پر خاموش رہنے والے جرمنی کو شرم آنی چاہیے


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain