تازہ تر ین

خطرناک اور تباہ کن زلزلے کی پیشگوئی، دنیا تباہ ہونے جارہی ہے؟

نئی تحقیقات میں دنیا میں بڑے اور تباہ کن زلزلوں کی پیشگوئی نے سائنسدانوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

ایک نئی سائنسی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کے نزدیک بحیرۂ مرمرہ کی تہہ میں موجود چٹانیں کسی بھی وقت اپنی جگہ سے کھسک سکتی ہیں۔

سائنسی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ان چٹانوں میں طویل عرصے سے جمع ہونے والا دباؤ مستقبل میں شدید زلزلے کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ فالٹ گزشتہ ڈھائی صدی سے کسی بڑے جھٹکے کے بغیر توانائی سمیٹ رہا ہے، جو کسی بھی وقت خطرناک حد تک خارج ہوسکتی ہے۔

تحقیق میں شمالی اناطولیہ کی دراڑ کے نیچے چھپی چٹانوں کی سختی میں معمولی مگر نہایت اہم فرق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہی فرق مستقبل میں بڑے زلزلوں کا باعث بن سکتا ہے۔

سائنسی ویب سائٹ SciTechDaily نے جریدے Geology کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ نتائج فالٹ کے اندرونی میکانزم کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور استنبول کے علاقے میں زلزلوں کی پیشگوئی کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ماہرین نے جدید برقی مقناطیسی امیجنگ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اس بظاہر ’’غیر مرئی‘‘ فالٹ کے اندرونی ڈھانچے کی تفصیلات حاصل کیں۔ اس پیش رفت سے خطے میں زلزلہ جاتی خطرات اور زمین کی گہرائی میں متحرک قوتوں کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔

سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ 15 سے 20 کلومیٹر پر مشتمل یہ خاموش حصہ اس وقت مقفل حالت میں ہے اور مسلسل تناؤ برداشت کر رہا ہے۔ اگر یہ جمع شدہ دباؤ اچانک خارج ہوا تو 7.1 سے 7.4 شدت تک کا طاقتور زلزلہ آسکتا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق اس حصے میں آخری بڑی ٹوٹ پھوٹ 1766 میں پیش آئی تھی۔

ترکی جغرافیائی لحاظ سے دنیا کے حساس ترین زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ یہاں، یوریشین پلیٹ، افریقن پلیٹ، عریبین پلیٹ اور اناطولین پلیٹ ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جس حصے کو ’’پرنسز آئی لینڈز سیگمنٹ‘‘ کہا جاتا ہے، وہ ایک بڑا سیسمک گیپ ہے جہاں تاریخی طور پر تقریباً 200 سے 250 سال کے وقفے سے شدید زلزلے آتے رہے ہیں۔

اس تحقیق میں انسٹیٹیوٹ آف سائنس ٹوکیو سمیت مختلف اداروں کے ماہرین نے حصہ لیا۔ انہوں نے تھری ڈی ماڈلز اور سمندر کی تہہ کی طویل المدتی نگرانی کے ذریعے ان مقامات کی نشاندہی کی جہاں تناؤ غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔ سمندر کی تہہ میں کی گئی پیمائشوں سے معلوم ہوا کہ فالٹ مضبوطی سے جکڑا ہوا ہے اور اگر توانائی اچانک خارج ہوئی تو چار میٹر سے زیادہ زمینی سرکاؤ ممکن ہے۔

یہ خطرناک حصہ استنبول کے جنوب میں واقع ہے، جس کے باعث ممکنہ تباہی کے اثرات 1999 کے تباہ کن زلزلے جیسے ہوسکتے ہیں۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہی مخصوص حصہ پورے خطے کے زلزلہ جاتی خطرے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

ماہرین نے حکومتوں کو خبردار کیا ہے کہ مسلسل بڑھتا ہوا دباؤ کسی بھی وقت بڑے سانحے میں بدل سکتا ہے، اس لیے پیشگی تیاری، مؤثر منصوبہ بندی اور حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain