تہران/ ارنا- ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ غزہ پٹی پر صیہونی حکومت کے حملے کے ابتدائی 15 مہینے میں کم از کم 75 ہزار فلسطینی شہید ہوئے تھے۔
بتایا گیا ہے کہ غزہ کے محکمہ صحت اسی ٹائم فریم میں صرف 49 ہزار شہیدوں کا نام درج کرنے میں کامیاب ہوسکی تھی جبکہ عالمی میڈیکل جریدے “لینسٹ گلوبل ہیلتھ Lancet Global Health” کے مطابق، یہ تعداد 75 ہزار سے بھی زیادہ ہے۔
اس جریدے کی تفصیلی تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہیدوں میں 56/2 فیصد خواتین، بچے اور سن رسیدہ فلسطینی شامل ہیں جو کہ غزہ کے محکمہ صحت کی رپورٹ کے عین مطابق قرار دیا گیا ہے۔
غزہ کے محکمہ صحت نے اعلان کیا ہے کہ صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد 72 ہزار سے بڑھ چکی ہے جبکہ ہزاروں شہیدوں کے جسد خاکی اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور انہیں باضابطہ اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا جاسکا ہے۔
لینسٹ جریدے نے اس سے قبل اندازہ لگایا تھا کہ غزہ پر صیہونی حملوں کے ابتدائی 9 مہینے میں باضابطہ اعداد و شمار سے 40 فیصد زیادہ شہادتیں واقع ہوئی ہیں جس کی حقیقت اب جاکر ثابت ہوسکی ہے۔
اس تحقیقاتی مقالے کے مصنفین اور اسکالروں کا اندازہ 95 فیصد تک درست ثابت ہوا ہے تاہم دقیق اعداد و شمار کے حصول کے لیے مزید میدانی سطح کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔





































