اسلام آباد:
ٹریڈ آرگنائزیشن رولز 2013 میں مجوزہ ترمیم پر بزنس کمیونٹی کے تحفظات سامنے آ گئے۔
صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری عاطف اکرام شیخ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بزنس کمیونٹی کو ٹریڈ آرگنائزیشن رولز 2013 ترمیمی بل پر شدید تحفظات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام نے ملک بھر کی تاجر برادری کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ اندرونی و بیرونی تجارتی رکاوٹوں اور دباؤ کے باعث کاروباری ماحول پہلے ہی متزلزل ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ اپنی آواز اٹھانے کے لیے چیمبرز آف کامرس کاروباری برادری کی آخری پناہ گاہ ہیں ۔ مجوزہ قانون سازی ضلعی سطح کے چیمبرز اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو ختم کرکے ضلعی معیشتوں کو تباہ کر دے گی۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی چیمبرز مقامی معیشتوں کی تشکیل اور ملکی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ تجارتی اداروں کی ایسی کوئی بھی قید دیہی برآمدات پر مبنی کاروبار کو نمائندگی سے خارج کر سکتی ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی کا کہنا تھا کہ ٹریڈ آرگنائزیشن رولز 2013 میں ترمیم سے بزنس کمیونٹی کی حوصلہ شکنی اور مایوسی بڑھے گی جبکہ اس کے نتیجے میں خواتین اور ایس ایم ایز کی نمائندگی کرنے والے تجارتی اداروں پر بھی شدید اثرات پڑیں گے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی میں پیش اس مجوزہ بل کو مسترد کیا جائے اور ضلعی چیمبرز کو کام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔





































