کچھ افراد ٹھنڈا پانی پینا پسند کرتے ہیں اور کچھ اسے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے گرم کو ترجیح دیتے ہیں۔
مگر گرم یا ٹھنڈا کونسا پانی صحت کے لیے زیادہ مفید ہوتا ہے؟
اس حوالے سے طبی ماہرین نے کافی کام کیا ہے اور یہ دریافت ہوا کہ کھانے اور مشروبات کا درجہ حرارت مختلف چیزوں جیسے انزائٹی یا معدے پر اثر انداز ہوتا ہے۔
ویسے ٹھنڈا پانی پینے سے کسی حد جسمانی کیلوریز جلتی ہیں۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق ٹھنڈا یا سادہ پانی پینے کے بعد 90 منٹ میں جسمانی توانائی خرچ ہونے کی شرح میں کم از کم 2.9 فیصد (ٹھنڈا پانی) اور 2.3 فیصد (کمرے کے درجہ حرارت والا پانی) میں اضافہ ہوتا ہے۔
یعنی ٹھنڈا پانی پینے کے بعد جسم خود کو گرم کرنے کے لیے توانائی خرچ کرتا ہے مگر یہ جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے کافی نہیں۔
اسی طرح گرم پانی پینے سے بھی چربی نہیں گھلتی۔
ماہرین کے مطابق اگر جسمانی وزن میں کمی لانا چاہتے ہیں تو ٹھنڈا یا گرم نہیں بلکہ مقدار پر توجہ مرکوز کریں۔
انہوں نے کہا کہ روزانہ اضافی ڈیڑھ لیٹر پانی پینے سے جسمانی وزن میں 8 ہفتوں میں نمایاں کمی آتی ہے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ اضافی پانی پینے سے کھانے کی اشتہا کم ہو جاتی ہے، پانی کا درجہ حرارت اس حوال سے کوئی خاص کردار ادا نہیں کرتا۔
گرم پانی اور نظام ہاضمہ
ایسا اکثر کہا جاتا ہے کہ گرم پانی پینے سے نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس میں دریافت ہوا ہے کہ گرم سیال سے تیزابیت ختم ہونے کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور معدے کے افعال بہتر ہوتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ذہن کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر سیاہ چائے پینے سے جسمانی تناؤ میں کمی آتی ہے جبکہ سکون کا احساس بڑھتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔




































