تازہ تر ین

بندرگاہوں اور کسٹمز کے مسائل، اپٹما کا ہنگامی ٹاسک فورس بنانے کا مطالبہ

سن) اور قدرتی ریشوں کے لیے محکمہ تحفظِ نباتات سے کلیئرنس حاصل کرنا لازمی ہے۔ تاہم اپٹما کے ارکان نے پی پی ڈی کے عملے کی محدود دستیابی اور مرحلہ وار پروسیسنگ کی وجہ سے ہونے والی مسلسل تاخیر کی اطلاع دی ہے جس سے کلیئرنس کے مجموعی وقت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

 

ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ ان مسائل کے مجموعی اثرات تباہ کن ہیں، جس کی وجہ سے اس شعبے کو ڈیمرج، پیداواری تعطل، بین الاقوامی خریداروں کی جانب سے جرمانوں اور بڑھتے ہوئے مالیاتی اخراجات کی مد میں ماہانہ لاکھوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ انتباہ بھی کیا گیا کہ پاکستان کو بنگلہ دیش، بھارت، ویتنام اور ترکیہ جیسے حریف ممالک کے ہاتھوں اپنے برآمدی آرڈرز مستقل طور پر گنوانے کا خطرہ لاحق ہے۔

 

کامران ارشد نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ہماری بندرگاہوں پر غیر ضروری تاخیر کا ہر ایک دن ہمارے برآمد کنندگان کے آرڈرز، ہمارے مزدوروں کے روزگار اور ملک کے قیمتی زرمبادلہ کے ضیاع کا باعث بن رہا ہے۔

 

اپٹما نے وزیراعظم سے ان مسائل کو 30 دنوں کے اندر حل کرنے کے لیے ایک ہنگامی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے، اور ملک کے سب سے بڑے برآمدی شعبے کو ہونے والے ناقابلِ تلافی نقصان سے بچانے کے لیے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain