جب آبنائے ہرمز آزاد اورمحفوظ ہو جائے گی،تب ہم سیز فائر پر غور کریں گے: امریکی
ایرانی وزارت خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مکمل صحت مند اور خیریت سے ہیں،جنگی حالات کی وجہ سے مجتبیٰ خامنہ ای عوام کے سامنے نہیں آرہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ دنیا میں اب کوئی بھی امریکی سفارت کاری پر بھروسہ نہیں کر سکتا،امریکا مذاکرات کو اپنے مطالبات مسلط کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے،امریکا سفارتکاری کو بھی طاقت کے استعمال کی راہ ہموار کیلئے استعمال کرتا ہے،جنگ کو امریکا اور اسرائیل نے شروع کیا،تہران مسلط کی گئی جنگ میں اپنے دفاع کررہا ہے۔
دوسری جانب پاسداران انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی سے متعلق بیان کی تردید کر دی ہے اور کہا کہ آبنائے ہرمز کو امریکی صدر کی مضحکہ خیز نمائش سے نہیں کھولا جائیگا،آبنائے ہرمز مضبوط اور مکمل کنٹرول میں ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی نئی رجیم نے امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے،اس وقت تک ہم ایران کو مکمل طور پر تباہ کر رہے ہیں ۔
امریکی صدر کا کہناتھا کہ جب آبنائے ہرمز آزاد اورمحفوظ ہو جائے گی،تب ہم سیز فائر پر غور کریں گے،ایران کے نئے صدر پہلے والوں سے کہیں زیادہ ذہین ہیں،امریکا ایران کی جنگ بندی درخواست پر غور کرے گا،ہم ایران کو پتھر کے دور میں واپس بھیج رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ ہم بہت جلد ایران سے نکل جائیں گے،جوہری مواد کی پرواہ نہیں، سیٹلائٹ کے ذریعے ایران کی نگرانی کریں گے،نیٹو کے ساتھ تعلقات پر غور کریں گے،ہم پہلے ہی ایران میں رجیم چینج کرچکے ہیں۔






































