چین میں ایک نیا ٹرینڈ سامنے آیا ہے جہاں طلباء امتحانات میں نقل کرنے کے لیےا سمارٹ چشمے کرائے پر لے رہے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق، چینی مارکیٹ پلیس ’شیان یو‘ پر یہ اسمارٹ چشمے 40 سے 80 یوآن تک کرائے پر مل رہے ہیں۔
ان آلات کا ڈیزائن اتنا سادہ اور روایتی ہوتا ہے کہ امتحانی عملے کے لیے یہ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ طالب علم نے عام نظر والی عینک پہنی ہے یا کوئی جاسوسی آلہ۔
ٹیکنالوجی جہاں انسانی زندگی میں آسانیاں پیدا کر رہی ہے، وہیں اس کا منفی استعمال تعلیمی نظام کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔
چین میں ان دنوں طلبہ کی جانب سے امتحانات میں نقل کے لیے ’اسمارٹ گلاسز‘ (خفیہ کیمروں والی عینک) کرایے پر لینے کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
فیوچریزیم کی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ چینی طلباء امتحانات میں نقل کرنے کے لیے یہ اسمارٹ ڈیوائسز سستے داموں کرائے پر لے رہے ہیں تاکہ بغیر پکڑے گئے کامیاب ہو سکیں۔





































