پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے قومی ٹیم کے اوپنر امام الحق کی انجری کے معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بورڈ ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے جا رہا ہے۔
یہ معاملہ انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ کے دوران امام الحق کی پنڈلی کی انجری کے بعد سامنے آیا۔ امام نے میچ کے پہلے روز پنڈلی میں تکلیف کی شکایت کی اور بعد ازاں پاکستان کی دونوں اننگز میں بیٹنگ نہیں کی۔ پاکستان کو اس ٹیسٹ میں 194 رنز سے شکست ہوئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امام الحق کی انجری پر اس وقت سوالات اٹھے جب ان کے میچ سے باہر رہنے کے حوالے سے شکوک و شبہات سامنے آئے۔ اسی پس منظر میں پی سی بی نے معاملے کی مکمل تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔
امام الحق کے حوالے سے مارچ 2025 میں دورۂ نیوزی لینڈ کے دوران مبینہ جعلی انجری کا ایک پرانا معاملہ بھی دوبارہ سامنے آگیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس وقت کی انکوائری کمیٹی نے الزام لگایا تھا کہ انگوٹھے کی انجری کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور طبی عملے کو گمراہ کیا گیا۔ کمیٹی نے ان پر پاکستان کی نمائندگی سے پابندی کی سفارش بھی کی تھی، تاہم اس سفارش پر عملدرآمد کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ تحقیقات میں امام الحق کے خلاف سنگین خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو انہیں ایک سے دو سال تک پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم فی الحال یہ صرف ممکنہ کارروائی ہے اور حتمی فیصلہ انکوائری کے بعد ہی ہوگا۔
دوسری جانب امام الحق مبینہ طور پر اپنے دفاع کے لیے قانونی مشورہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پی سی بی نے لارڈز ٹیسٹ کے بعد امام الحق سمیت سات کھلاڑیوں کو تیسرے ٹیسٹ کے اسکواڈ سے ریلیز کرکے وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔

