لاہور ، اسلام آباد ( نیوز ایجنسیاں) پولیس نے علیمہ خان کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو بھی گرفتار کرلیا ، ادھر پاکستان تحریک انصاف نے بانی کی بہنوں کی نظر بندی کو ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا جبکہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی گرفتاری رکوانے میں ناکامی کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی لاہور سے اسلام آباد پہنچ گئے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے 27ستمبر کے احتجاج کے پیش نظر جاری کریک ڈاؤن کے دوران پولیس نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں نورین نیازی، عظمیٰ خان اور بھانجوں کو گرفتار کر لیا ہے۔علاوہ ازیں علیمہ خان کے دونوں بیٹوں شیرشاہ اور شاہ ریز کو بھی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے علیمہ خان کی رہائش گاہ سے ان کی بہنوں اور بھانجوں کو حراست میں لیا اور انہیں بکتر بند گاڑی کے ذریعے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ عظمیٰ اور نورین خان کو اہل خانہ سمیت رات گئے گرفتار کیے جانے کے بعد بچوں اور دیگر اہلخانہ کو چھوڑ دیا گیا ہے جب کہ عظمیٰ خان اور نورین خان کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا ہے۔دونوں بہنوں کو ایم پی او آرڈر کے تحت جیل بھجوایا گیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں بہنوں کو 30روز کے لیے نقص امن کے خطرے کے پیش نظر جیل بھجوایا گیا۔اس سے قبل پولیس نے بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کو اپر مال سے جم خانہ جاتے ہوئے گرفتار کر کے کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا تھا۔لٹن روڈ پولیس نے علیمہ خان کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا جبکہ ان کی ذاتی گاڑی کو مزنگ تھانے میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گرفتاریوں کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور شہر بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔یاد رہے کہ علیمہ خان کے گھر کے قریب سے نورین نیازی کی صاحبزادی ہاجرہ نیازی اور ان کے شوہر کو بھی پولیس نے ناکے پر روک کر تحویل میں لیا تھا۔ ہاجرہ نیازی اور ان کے شوہر کو مختلف تھانوں میں منتقل کرنے کے بعد کچھ دیر حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی نظر بندی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں پنجاب حکومت، محکمہ داخلہ ، ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار میں موقف اپنایا گیا کہ ڈی سی لاہور نے غیر قانونی طور پر نظر بندی کے احکامات جاری کیے۔استدعا ہے عدالت ڈی سی کے غیر قانونی نظر بندی کے احکامات کو کالعدم قرار دے۔بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو نقص امن کے پیش نظر تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لے کر 30 روز کے لیے نظر بند کیا گیا ہے۔ ادھر بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی گرفتاری رکوانے میں ناکامی کے بعد وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی لاہور سے اسلام آباد پہنچ گئے۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو گرفتاری سے بچانے کیلئے رات گئے لاہور پہنچے تھے، نورین بی بی کی گرفتاری کے بعد وزیراعلی واپس اسلام آباد روانہ ہوئے۔ قبل ازیں وزیراعلی نے لاہور کے قریب موٹروے پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ نورین اور عظمی بی بی کو گرفتار کیا جارہا ہے اسی لیے وہ خود لاہور جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نورین آپا کو لینے لاہور روانہ ہوا ہوں، طاقتور لوگ پاکستان کو غلط سمت میں لے جا رہے ہیں، سابق وزیراعظم کے خاندان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلی کا کہنا تھا کہ بانی چیئرمین کی بہن علیمہ آپا کو گرفتار کیا گیا اور ان کے گھر پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سفید کپڑوں میں ملبوس افراد بینرز پھاڑ رہے ہیں اور کنونشن میں داخل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے، سفید کپڑوں میں افراد نے ایک صوبائی وزیر کو اغوا کرنے کی بھی کوشش کی۔وزیراعلی نے کہا کہ آپ تو آئین و قانون کے محافظ ہیں، پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، 27 ستمبر کو پورا پاکستان سڑکوں پر نکلے گا۔ واضح رہے کہ پولیس نے رات گئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو بھی گرفتار کرلیا جبکہ اس سے قبل علیمہ خان کو پہلے ہی گرفتار کیا گیا تھا۔
بہنیں گرفتار
