ملتان (مرزا ندیم سے) نیشنل بینک میں کروڑوں روپے فراڈ کا انکشاف، شارٹ کیش سکینڈل کی تحقیقات کیلئے سٹیٹ بینک اور ایف آئی اے حکام پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے تحقیقات شروع کردیں۔ گزشتہ15روز سے ٹیم کے بینک میں ڈیرے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نیشنل بینک کچہری چوک کی مین برانچ میں شارٹ کیش سکینڈل سامنے آیا ہے۔ جس کے مطابق ہیڈ کیشیئر شہزاد پر الزام ہے کہ اس نے10 اور 20 روپے کے نوٹوں کے ایسے بنڈل وصول کئے جن میں نوٹ کم تھے۔ خفیہ اطلاع پر سٹیٹ بینک اور ایف آئی اے حکام کی مشترکہ ٹیم نے چھاپہ مار کر ریکارڈ قبضے میں لے لیا۔ معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ 15 روز سے ٹیم بینک میں پیسوں کی گنتی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ مبینہ طور پر بینک کی اعلیٰ انتظامیہ معاملے کو اندرونی بے ضابطگی قرار دے کر معاملے کو رفع دفع کرنے اور ہیڈ کیشیئر کو بچانے کیلئے اثرورسوخ استعمال کر رہی ہے مگر دوسری طرف مشترکہ ٹیم کسی بھی قسم کے دبا? یا سفارش کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے تمام ریکارڈ اور سی سی ٹی وی کیمروں کا جائزہ لیکر تحقیقات میں مصروف ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ شارٹ کیش پرائز بانڈ ڈیلر کی طرف سے جمع کرائے گئے، 10 اور 20روپے کے نوٹوں کے ایسے بنڈل وصول کئے گئے جن میں نوٹ کم تھے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے احسن باجوہ اور ایس ایچ او زبیر میتلا سمیت دیگر افسران پر مشتمل ٹیم نے سکینڈل میں ملوث ہیڈ کیشیئر سمیت دیگر مشکوک ملازمین سے تفشیش کیلئے بینک میں ہی علیحدہ” سیل ”بنا رکھا ہے۔ فی الحال کسی کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کروڑوں روپے کی رقم خوردبرد ہوئی ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق شارٹ کیش سکینڈل کی مکمل تحقیقات ہوگی۔ آڈٹ کے بعد معلوم ہوگا کہ کتنی رقم خوردبرد ہوئی ہے جو بھی اس گٹھ میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے گی۔
نیشنل بینک فراڈ
