پشاور( نیوز رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) پشاور میں نجی سکول کی چھت گرنے کا افسوس ناک سانحہ پیش آیا جس میں 33 بچے اور 2 معلمات جاں بحق جبکہ 50 زخمی ہوگئے۔پولیس نے سکول مالک اور پرنسپل کو گرفتار کرلیا جبکہ گورنر کے پی نے شہداء کیلئے 10 لاکھ، زخمیوں کیلئے 2لاکھ امداد کا اعلان کرتے ہوئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی قائم کردی ۔ صدر ، وزیر اعظم سمیت سیاسی شخصیات نے واقعے پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا۔ جاں بحق ہونے والے بچوں میں سے 5 کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا، شہداء کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کردی گئی جس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ریسکیو 1122کے مطابق دیر کالونی کے علاقے میں واقع الخیر سکول سسٹم کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں متعدد بچے چھت تلے دب گئے۔ترجمان کے مطابق ریسکیو 1122نے ایمبولینسز کے ذریعے 50سے زائد زخمی طلبہ اور اساتذہ کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 33لاشیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور 2 لاشیں نصیراللہ بابرمیموریل ہسپتال لائی گئی ہیں۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ 25زخمی بچوں کوہسپتال منتقل کیا گیا، جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 6سے12سال کے درمیان ہیں۔سی سی پی او پشاور میاں سعید نے بتایا کہ نجی سکول کے مالک اور پرنسپل کو گرفتار کرلیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سکول کی عمارت 3منزلہ تھی، واقعے سے متعلق انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق سکول کی عمارت کا ملبہ ہٹایا جا رہا ہے اور ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا گیا ہے۔دوسری جانب گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے سکول کی چھت گرنے کے واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی، انہوں نے حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ واقعے پرگورنر خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کے زخمی ہونے کی خبر پر انہیں دلی دکھ اور افسوس ہوا ہے، اس مشکل گھڑی میں وہ متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہیں۔ثمر ہارون بلور نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمی بچوں کو بہترین اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔دریں اثناصدر مملکت آصف علی زرداری نے پشاور میں سکول کی چھت گرنے سے بچوں کی اموات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے غمزدہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ و زیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی پشاور میں سکول کی چھت گرنے سے قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے افسوس اور رنج کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انتظامیہ کو امدادی کارروائیاں تیرکرنے اور زخمیوں کے لئے ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے پشاور اسکول حادثے میں بچوں اور اساتذہ کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے لواحقین کے لیے صبرجمیل کی دعا کی ہے۔ قبل ازیں منہدم ہونے والے سکول مالک نے کہا ہے کہ حادثہ بارشوں کی وجہ سے پیش آیا۔نجی سکول کے مالک خان محمد نے میڈیا کو بتایاکہ سکول کی بنیاد ڈیڑھ سال پہلے رکھی تھی، کئی دنوں سے بارشیں ہوئیں، اس وجہ سے واقعہ پیش آیا۔انہوں نے کہا کہ صبح خود متاثرہ کلاس میں گیا تھا، واقعہ ہوا تو تمام اساتذہ کو بلاکر بچوں کو نکالنا شروع کیا، دوسری منزل پر صرف ایک کمرہ گرا، ایک کمرے کی وجہ سے نیچے کے کمرے بھی گرے، متاثرہ کلاس میں تقریباً 30بچے تھے،مجموعی طور پرسکول میں 350طلبہ زیرتعلیم تھے۔دوسری جانب سیکرٹری ایجوکیشن عنایت اللہ وسیم کا کہنا ہے کہ عمارت مخدوش حالت میں تھی، ہمیں عمارت سے متعلق کسی نے نہیں بتایا، واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری کمیٹی بنادی ہے۔سیکرٹری نے مزید کہا کہ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا معائنہ کیاجائے گا، زخمی بچوں کے علاج کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ ادھر پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے رہنما انعام اللہ خان نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمارت گرنے کے ذمے دار اسکول پرنسپل اور ریگولیٹری اتھارٹی ہے، کیونکہ اس نے اسکول کی چیکنگ نہیں کی۔ سی سی پی او پشاور میاں سعید احمد کے مطابق اسکول میں تین منزلوں پر کلاس رومز قائم تھے، جہاں حادثے کے وقت مجموعی طور پر 115 بچے زیرِ تعلیم تھے۔ ان کے مطابق پہلی منزل کے کلاس روم میں 35، دوسری منزل پر 40 جبکہ گراؤنڈ فلور پر 45 بچے موجود تھے۔ دریں اثنا سانحے میں جاں بحق ہونے والے 16 بچوں کی نمازِ جنازہ دیر کالونی میں ادا کردی گئی، جس میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سمیت سیاسی و عسکری حکام اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار اور فضا سوگوار رہی۔ دیر کالونی کے اس المناک سانحے نے کئی خاندانوں کو غم میں مبتلا کردیا، جبکہ معصوم بچوں کی اموات پر علاقے بھر میں سوگ کی کیفیت طاری ہے۔دیر کالونی سکول سانحے میں جاں بحق بچوں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ نماز جنازہ میں گورنر فیصل کریم کنڈی ، مشیر تعلیم عامر عبداللہ سمیت سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔گورنرفیصل کریم کنڈی نے شہدا کیلئے 10 لاکھ زخمیوں کیلئے دو لاکھ کا اعلان کیا، تحقیقات کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی قائم کردی گئی ۔سکول کی چھت گرنے کے افسوس ناک واقعے کے بعد فوج اور دیگر ریسکیو اداروں نے امدادی کارروائیاں کیں۔ پاک فوج کے جوانوں نے ریسکیو اور دیگر ریلیف اداروں کے شانہ بشانہ ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔دیر کالونی پشاور میں نجی اسکول کی عمارت گرنے کے واقعے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بھی زندگی کے بازی ہار گئے پانچوں بچے آپس میں قریبی رشتے دار تھے۔دیر کالونی کے رہائشی منگل خان کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں اس کا 9 سالہ بچہ عامر خان جبکہ اس کی بھتیجی رومیسا جاں بحق ہوگئی، جاں بحق عامر اور رومیسہ دونوں اسی سکول میں پڑھ رہے تھے۔بچی کے چچا کا کہنا ہے کہ اس کے دیگر تین رشتہ دار بھی اس حادثے میں جاں بحق ہوئے ہیں انہوں نے بتایا کہ اسکول کی عمارت جب گرگئی تو انہیں اطلاع ملی اور وہ امدادی کاموں میں حصہ لینے کے لیے پہنچ گئے تاہم کچھ دیر بعد انہیں اطلاع ملی کہ اس کے گھر کے بچے اسپتال میں ہیں اور وہ جاں بحق ہوگئے ہیں۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دیرکالونی سانحہ میں شہدا بچوں کیلئے 10، 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کیلئے 2 لاکھ روپے دینے کا اعلان کر دیا اور کہا ہے کہ خستہ حال عمارت کو گزشتہ دور حکومت میں این او سی کس نے دی جو بھی ملوث پایا گیا اس کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔واقعے کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کردی گئی ہے جسے فوری اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی کے چیئرمین خیبر پختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (کے پی پی ایس آر اے) کے منیجنگ ڈائریکٹر جاوید اقبال ہوں گے جبکہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ڈپٹی سیکرٹری (پرائمری) محمد فاروق کمیٹی کے رکن ہوں گے کمیٹی تیسرے رکن کو خود نامزد کرے گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کلاس روم کی چھت گرنے کے واقعے کی تفصیلی تحقیقات کرے گی اور حادثے کے اسباب، ممکنہ غفلت، عمارت کی تعمیر میں ساختی نقائص یا دیگر عوامل کا تعین کرے گی۔ کمیٹی کو مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات تجویز کرنے اور مناسب سفارشات پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سکول سانحہ
