اسلام آباد (این این آئی)وزیر مملکت برائے داخلہ محمد طلال چوہدری نے سینیٹ کو بتایاگیا ہے کہ بلوچستان میں قومی شناختی کارڈز کی تصدیق کا عمل میرٹ اور دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے، اس میں کسی علاقے، قبیلے یا فرد کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔ سینیٹر جان محمد کے توجہ دلا نوٹس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دو ڈویژنز کے آٹھ اضلاع میں 8 ہزار 875 قومی شناختی کارڈ بلاک کیے گئے ہیں جبکہ پورے صوبے میں بلاک شناختی کارڈز کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 38 ہزار 166ہے۔انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ بلاک ہونا حتمی فیصلہ نہیں ہوتا،متعلقہ بورڈ اور اعلیٰ سطح کی کمیٹیاں معاملات کا جائزہ لیتی ہیں اور اعتراضات دور ہونے پر شناختی کارڈ بحال بھی کیے جا سکتے ہیں۔ وزیر مملکت نے کہا کہ جعلی دستاویزات یا غلط خاندانی اندراج کے ذریعے شناختی کارڈ حاصل کرنے کے معاملات کی جانچ ضروری ہے کیونکہ قومی شناختی دستاویزات کی ساکھ پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات اور ویزا سہولیات کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عمان اور سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی دستاویزات پر سفر کرنے والے بعض افراد کی شہریت کے حوالے سے تحفظات سامنے آئے، جس سے پاکستان کے لیے سفارتی اور ویزا سے متعلق مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ محمد طلال بدر نے یقین دہانی کرائی کہ اگر کسی مخصوص کیس میں شکایت یا اعتراض موجود ہے تو اس کا دوبارہ جائزہ لے کر مسئلہ حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
بلوچستان میں قومی شناختی کارڈز کی تصدیق کا عمل میرٹ اور دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے:طلال چودھری

