ملتان(مرزا ندیم سے)پنجاب پولیس اس وقت قتل، دہشت گردی، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ جیسے سنگین جرائم میں مطلوب سینکڑوں مجرموں کی تلاش میں ہے۔ یہ ملزمان متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، ایران، عراق، سعودی عرب اور لیبیا سمیت کئی ممالک میں مقیم ہیں، جبکہ کچھ یورپی ممالک میں بھی روپوش ہیں۔”خبریں ”کی طرف سیاکھٹی کی گئی معلومات کے مطابق ایک مفرور ملزم کو واپس لانے (حوالگی) پر حکومت کو 3 لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک کا خرچہ اٹھانا پڑتا ہے۔ بیرونِ ملک سے مجرموں کو واپس لانے پر اب تک 230 ملین (23 کروڑ) روپے سے زائد رقم خرچ کی جا چکی ہے۔ اطلاعات کیمطابق5 ہزار سے زائد اشتہاری ملزمان بیرونِ ملک فرار ہو چکے ہیں۔ریڈ وارنٹس کے ذریعے 17 مفرور ملزمان کی گرفتاری کی گئی ہے۔گزشتہ تین برسوں کے دوران، 380 سے زائد مفرور ملزمان کو بیرونِ ملک گرفتار کر کے وطن واپس لایا گیا ہے: جن میں 2023 میں 147، 2024 میں 129، اور نومبر 2025 تک 103 افراد شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر گرفتاریاں مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں عمل میں آئیں۔بہت سے مفرور ملزمان غیر قانونی طور پر ملک سے فرار ہوئے، جس کی وجہ سے ان کی گرفتاری ایک مشکل کام بن گیا ہے۔ بیرونِ ملک موجود زیادہ تر مفرور ملزمان کا تعلق لاہور، گوجرانوالہ، ملتان، راولپنڈی اور فیصل آباد سے ہے، اگرچہ دیگر علاقوں کے لوگ بھی اس میں شامل ہیں۔ پولیس کی ناقص کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔جس کی وجہ سے ملزمان کو ملک سے فرار ہونے کا موقع ملا۔ اکثرپولیس تب ہی ایف آئی اے (FIA) سے مشتبہ افراد کی سفری تاریخ (ٹریول ہسٹری) کے بارے میں رابطہ کرتی ہے جب وہ ملک چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ تفتیشی افسران اکثر مہینوں یا برسوں تک بغیر کسی پیش رفت کے وقت گزار دیتے ہیں، اور جب کوئی دوسرا ادارہ یہ انکشاف کرتا ہے کہ ملزم فرار ہو چکا ہے، تب ہی پولیس اور متعلقہ محکمے حرکت میں آتے ہیں۔ پولیس کو اپنے تفتیشی نظام کو بہتر بنانا چاہیے اور ملک کے اندر ہی مفرور افراد کو گرفتار کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہیے۔ذرائع کے مطابق حکومت صرف ہوائی ٹکٹوں کے اخراجات ادا کرتی ہے، جبکہ باقی تمام اخراجات پولیس ٹیم اپنی جیب سے برداشت کرتی ہے۔ جب کوئی مفرور شخص انٹرپول کی تحویل میں آ جاتا ہے، تو اسے پاکستان واپس لانے میں عام طور پر تین سے پانچ دن لگتے ہیں۔ کسی مفرور کو واپس لانا (حوالگی کا عمل) ایک مشکل اور کٹھن کام ہے، ملتان کے 32 تھانوں اور 6 پولیس چوکیوں کی حدود میں قتل، اقدامِ قتل، زیادتی، غیرت کے نام پر قتل، ڈکیتی، چوری اور دیگر سنگین جرائم کے ہزاروں مقدمات درج ہونے کے باوجود اشتہاری ملزمان کی گرفتاری پولیس و دیگر بنائے گئے ونگز کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق ملتان میں یکم جنوری سے اب تک مجموعی طور پر 13 ہزار 200 سے زائد مقدمات درج ہیں، جبکہ 2 ہزار 725 اشتہاری ملزمان بھی پولیس کو مطلوب ہیں۔ ان میں 195 اے کیٹیگری اور 2 ہزار 525 بی کیٹیگری کے اشتہاری ملزمان شامل بتائے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے تھانوں میں تعینات ایس ایچ اوز اور چوکیوں کے انچارجز کے علاؤہ پی او سٹاف کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی اقدامات اور متعلقہ افسران کو ذمہ داریاں سونپے جانے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ سنگین جرائم کے مقدمات کی بڑی تعداد اور اشتہاری ملزمان کی عدم گرفتاری شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی، مقدمات کی تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچانے اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس حکام کو چاہیے کہ اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں، تھانوں کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے اور سنگین جرائم میں مطلوب ملزمان کی گرفتاری کو ترجیح دی جائے تاکہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس میں شامل ٹیموں کے لیے حکومتی تعاون انتہائی اہم ہے۔ پولیس کو تفتیش کے لیے فراہم کیے جانے والے لاکھوں روپے کے فنڈز کا آڈٹ کیا جانا چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان کا درست استعمال ہو رہا ہے۔جب تک تفتیشی نظام کو بہتر نہیں بنایا جاتا، مجرم بیرونِ ملک فرار ہوتے رہیں گے اور پولیس انہیں گرفتار کرنے کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرتی رہے گی۔ اگر یہی رقم پولیس کے نظام کو بہتر بنانے پر خرچ کی جائے تو ملک کے اندر ہی جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے، اور مجرموں کو ان کی گرفتاری پر بھاری رقوم خرچ کیے بغیر انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکتا ہے۔حکومت کو پولیس کے لیے مختص فنڈز پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
اشتہاری
