Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • انڈونیشین سفارتی وفد کا یو ایم ٹی کا دورہ، تعلیمی و تحقیقی تعاون بڑھانے پر اتفاق
    • لاہور میں موسم خراب زیادہ سے شیادہ درجہ حرارت30 سینٹی گریکارڈ
    • طارق فضل چوہدری کی 103ویں یوم جمہوریہ پرترکیہ کی قیادت اور عوام کو مبارکباد
    • اے آئی سے متعلق عوامی غصے میں مزیداضافہ ہوگا، انسٹا گرام کے سربراہ کی پیشگوئی
    • نگہداشت اور معاونت مہذب، ہمدرد اور فلاحی معاشرے کی بنیاد : گورنر سندھ
    • تعلیمی پروگراموں کو صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے: رانا مشہود خان
    • سبزی و پھلوں کے نرخ آوٹ آف کنٹرول پیاز ٹماٹر لہسن عام آدمی کی پہنچ سے دور
    • موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے جدید زرعی طریقوں کا فروغ ناگزیر:سلمیٰ بٹ
    • کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ہاتھوں مغوی جج بازیاب پولیس اہلکار سیمت دو افراد زخمی
    • پاکستان کو تقسیم کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا اور ملک انشاء اللہ قائم و دائم رہے گا، حنیف عباسی
    • پاکستان 2 سال سے غیرملکی سیاحوں کی پہلی ترجیح بنا رہا
    • سمارٹ سیف سٹیز منصوبے ‘ 337 نئی ملازمتوں کی منظوری
    • یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں
    • لاہور میں ہونے والی وارداتوں کا چارٹ
    • بشریٰ بی بی سمیت پی ٹی آئی متعدد رہنماؤں کی احتجاج کیسز میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں خارج
    • چوری ڈکیٹی کی متعدد وارداتوں میں شہری نقدی و دیگر قیمتی اشیاء سے محروم
    • اڈیالہ جیل سے قیادت کی دوری نے نئے سوالات کھڑے کر دیے
    • مائرہ خان کو بولڈ ڈریسنگ کے باعث سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا
    • وفاقی وزیر مصدق ملک سے سعودی سفیر ڈاکٹر راجع تامی البغومی ملاقات کررہے ہیں۔
    • جو ہماری سرحد پار کریگا اسے بھرپور جواب دیا جائیگا: گورنر کے پی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    وسیم اکرم کی فاسٹ بولنگ کا راز سخت محنت نیٹ پر طویل بولنگ سپیل تھا مسعود خان

    By Khabrain Newsاکتوبر 30, 2026
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    لاہور (خبریں ڈیجیٹل) پاکستان کے معروف فرسٹ کلاس کرکٹر اور نامور بولنگ کوچ سعود خان نے کہا ہے کہ دنیا کے عظیم ترین فاسٹ بولر وسیم اکرم کا اصل راز ان کی بے پناہ سخت محنت، نیٹ پر طویل بولنگ سپیل اور وقت کی سخت پابندی تھی۔ خبریں ڈیجیٹل سے خصوصی اور تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنے کرکٹنگ سفر، وسیم اکرم کی ابتدائی صلاحیتوں اور موجودہ کرکٹ کے زوال پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ سعود خان نے اپنے سفر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈیبیو 1974 میں ہوا تھا اور تب سے وہ مسلسل کرکٹ اور کوچنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس ادارے میں وہ آج کل نوجوانوں کو تربیت دے رہے ہیں، وہاں ایک مربوط اور بہترین سسٹم موجود ہے، جہاں بچے کھیلوں کے میدان میں نام کمانے کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم پر بھی بھرپور توجہ دیتے ہیں، جو کہ دوسرے کالجوں میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔وسیم اکرم کے ابتدائی دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے نامور کوچ نے انکشاف کیا کہ ڈومیسٹک کرکٹر خالد بیلا وسیم اکرم کو پہلی بار نیٹ پر ان کے پاس لے کر آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب وسیم اکرم نے پہلی دو تین گیندیں پھینکیں، تو وہ ان کا ٹیلنٹ دیکھ کر دنگ رہ گئے، کیونکہ گیند کسی بھی مصنوعی طریقے یا چھیڑ چھاڑ کے بغیر قدرتی طور پر اندر کی طرف (In-swing) آ رہی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب انہوں نے وسیم کو رانڈ دی وکٹ بولنگ کرنے کا کہا، تو وسیم نے معصومیت سے جواب دیا کہ انہوں نے پہلے کبھی رانڈ آرم بولنگ نہیں کی تھی۔ سعود خان کا کہنا تھا کہ وسیم اکرم بولنگ کے ساتھ ساتھ بیٹنگ بھی کمال کی کرتے تھے۔
    سلطانِ سوئنگ کی فٹنس اور محنت پر روشنی ڈالتے ہوئے سعود خان نے کہا کہ شروع میں وسیم اکرم کا نچلا دھڑ (Lower Body) کچھ کمزور تھا، جس کی بہتری کے لیے انہوں نے فجر کے فورا بعد ورزش اور سخت فزیکل ٹریننگ کا آغاز کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب وسیم اکرم سائیڈ میچز میں آئے تو ان کی فٹنس اور صلاحیتیں کھل کر سامنے آنے لگیں؛ ان کی کمٹمنٹ کا یہ عالم تھا کہ کلب کا میچ ہو یا کوئی بڑا مقابلہ، وہ ہمیشہ وقت سے پہلے پہنچتے تھے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کے نوجوان بولرز میں وقت کی پابندی اور ایسی کمٹمنٹ دور دور تک نظر نہیں آتی۔
    سعود خان نے وسیم اکرم کے بین الاقوامی کیریئر کا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ جب وہ پہلی بار آسٹریلیا کے دورے پر گئے، تو سڈنی کے ون ڈے میچ میں انہوں نے کینگروز کے خلاف ایسی تباہ کن بولنگ کی کہ پوری دنیا کو متاثر کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وسیم ہر ایک گیند پر اتنی توجہ دیتے تھے کہ نیٹ پر بھی نو بال کرنے سے گریز کرتے تھے، کیونکہ عمران خان کا ماننا تھا کہ نیٹ میں نو بال کرنا اپنی محنت کو ضائع کرنے کے مترادف ہے، اور وسیم نے اس بات کو پلے باندھ لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وسیم اکرم نے یارکر، سلو ون اور بانسر سمیت ہر قسم کی گیند پر جو مہارت حاصل کی، وہ ان کی مسلسل محنت کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وسیم اکرم سیشنز کے بعد اکثر بتاتے تھے کہ تھکن کے باوجود ان کی رفتار برقرار رہتی تھی، اور وہ ہمیشہ اپنے بڑوں، اساتذہ اور کپتانوں کا بے حد احترام کرتے تھے۔
    فاسٹ بولنگ کے معیار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رفتار ضروری ہے، لیکن اگر آپ کی اسپیڈ 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہو اور لائن و لینتھ درست نہ ہو، تو اس رفتار کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ آج کل کی کرکٹ بہت تبدیل ہو چکی ہے اور اب اسمارٹ بولرز کم رفتار کے باوجود درست لائن پر گیند کر کے بلے بازوں کو آٹ کر لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل فرق مہارت اور حالات کو سمجھنے سے پڑتا ہے، وسیم اکرم جب دوڑنا شروع کرتے تھے تو بلے باز نفسیاتی دبا میں آ جاتے تھے، ایسا بولر صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔
    وسیم، وقار اور شعیب اختر کے بعد پاکستان میں ویسے بولرز پیدا نہ ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے سعود خان نے کہا کہ وہ لیجنڈز اپنی فٹنس، ڈائٹ اور ٹریننگ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور نیٹس پر طویل اسپیل کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل کے بولرز نیٹ پر صرف دو یا چار اوورز کی بولنگ کرتے ہیں، جس سے لمبی بولنگ کا اسٹیمنا ہی نہیں بنتا؛ جب تک آپ مسلسل طویل بولنگ نہیں کریں گے، آپ کو لائن اور لینتھ پر کنٹرول حاصل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے ریورس سوئنگ کے حوالے سے کہا کہ اس فن میں سرفراز نواز ہمارے استاد ہیں جنہوں نے یہ فن متعارف کرایا، جس میں گیند پرانی ہونے پر اس کی ایک طرف کی چمک برقرار رکھ کر اسے ہوا میں موڑنا سکھایا جاتا ہے۔
    سعود خان نے بتایا کہ انہوں نے اپنے کیریئر میں شکیل خان، اشفاق احمد، خرم چوہان، عمر صدیق، عبدالرف اور امان علی سمیت کئی ایسے ہیرے تیار کیے جنہوں نے ڈومیسٹک اور ون ڈے کرکٹ میں ملک کا نام روشن کیا۔ مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وسیم اکرم اور شعیب اختر جیسے کھلاڑی بار بار پیدا نہیں ہوتے، البتہ موجودہ اسٹار نسیم شاہ بھی ان کے پاس انڈر 16 کی سطح پر آئے تھے، جن میں شروع سے ہی تیز بولنگ کا قدرتی ٹیلنٹ موجود تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت وہ عہد عزیز اور ابوبکر جیسے باصلاحیت نوجوان بولرز پر کام کر رہے ہیں جن کا مستقبل روشن ہے۔ انہوں نے حکومت اور بورڈ کو مشورہ دیا کہ ہمیں اکیڈمیوں میں غیر ملکی کوچز کو موقع دینا چاہیے، کیونکہ ان کے پاس بائیو مکینکس، ڈائٹ، فٹنس اور اسکل ڈیولپمنٹ سے متعلق جدید سائنسی معلومات ہوتی ہیں، جس سے پاکستان کو دوبارہ بہترین فاسٹ بولرز مل سکتے ہیں۔

     

     

    Khabrain News

      Keep Reading

      انڈونیشین سفارتی وفد کا یو ایم ٹی کا دورہ، تعلیمی و تحقیقی تعاون بڑھانے پر اتفاق

      لاہور میں موسم خراب زیادہ سے شیادہ درجہ حرارت30 سینٹی گریکارڈ

      طارق فضل چوہدری کی 103ویں یوم جمہوریہ پرترکیہ کی قیادت اور عوام کو مبارکباد

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.