لاہور (خبریں ڈیجیٹل) پاکستان کے معروف فرسٹ کلاس کرکٹر اور نامور بولنگ کوچ سعود خان نے کہا ہے کہ دنیا کے عظیم ترین فاسٹ بولر وسیم اکرم کا اصل راز ان کی بے پناہ سخت محنت، نیٹ پر طویل بولنگ سپیل اور وقت کی سخت پابندی تھی۔ خبریں ڈیجیٹل سے خصوصی اور تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنے کرکٹنگ سفر، وسیم اکرم کی ابتدائی صلاحیتوں اور موجودہ کرکٹ کے زوال پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ سعود خان نے اپنے سفر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈیبیو 1974 میں ہوا تھا اور تب سے وہ مسلسل کرکٹ اور کوچنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس ادارے میں وہ آج کل نوجوانوں کو تربیت دے رہے ہیں، وہاں ایک مربوط اور بہترین سسٹم موجود ہے، جہاں بچے کھیلوں کے میدان میں نام کمانے کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم پر بھی بھرپور توجہ دیتے ہیں، جو کہ دوسرے کالجوں میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔وسیم اکرم کے ابتدائی دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے نامور کوچ نے انکشاف کیا کہ ڈومیسٹک کرکٹر خالد بیلا وسیم اکرم کو پہلی بار نیٹ پر ان کے پاس لے کر آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب وسیم اکرم نے پہلی دو تین گیندیں پھینکیں، تو وہ ان کا ٹیلنٹ دیکھ کر دنگ رہ گئے، کیونکہ گیند کسی بھی مصنوعی طریقے یا چھیڑ چھاڑ کے بغیر قدرتی طور پر اندر کی طرف (In-swing) آ رہی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب انہوں نے وسیم کو رانڈ دی وکٹ بولنگ کرنے کا کہا، تو وسیم نے معصومیت سے جواب دیا کہ انہوں نے پہلے کبھی رانڈ آرم بولنگ نہیں کی تھی۔ سعود خان کا کہنا تھا کہ وسیم اکرم بولنگ کے ساتھ ساتھ بیٹنگ بھی کمال کی کرتے تھے۔
سلطانِ سوئنگ کی فٹنس اور محنت پر روشنی ڈالتے ہوئے سعود خان نے کہا کہ شروع میں وسیم اکرم کا نچلا دھڑ (Lower Body) کچھ کمزور تھا، جس کی بہتری کے لیے انہوں نے فجر کے فورا بعد ورزش اور سخت فزیکل ٹریننگ کا آغاز کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب وسیم اکرم سائیڈ میچز میں آئے تو ان کی فٹنس اور صلاحیتیں کھل کر سامنے آنے لگیں؛ ان کی کمٹمنٹ کا یہ عالم تھا کہ کلب کا میچ ہو یا کوئی بڑا مقابلہ، وہ ہمیشہ وقت سے پہلے پہنچتے تھے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کے نوجوان بولرز میں وقت کی پابندی اور ایسی کمٹمنٹ دور دور تک نظر نہیں آتی۔
سعود خان نے وسیم اکرم کے بین الاقوامی کیریئر کا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ جب وہ پہلی بار آسٹریلیا کے دورے پر گئے، تو سڈنی کے ون ڈے میچ میں انہوں نے کینگروز کے خلاف ایسی تباہ کن بولنگ کی کہ پوری دنیا کو متاثر کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وسیم ہر ایک گیند پر اتنی توجہ دیتے تھے کہ نیٹ پر بھی نو بال کرنے سے گریز کرتے تھے، کیونکہ عمران خان کا ماننا تھا کہ نیٹ میں نو بال کرنا اپنی محنت کو ضائع کرنے کے مترادف ہے، اور وسیم نے اس بات کو پلے باندھ لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وسیم اکرم نے یارکر، سلو ون اور بانسر سمیت ہر قسم کی گیند پر جو مہارت حاصل کی، وہ ان کی مسلسل محنت کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وسیم اکرم سیشنز کے بعد اکثر بتاتے تھے کہ تھکن کے باوجود ان کی رفتار برقرار رہتی تھی، اور وہ ہمیشہ اپنے بڑوں، اساتذہ اور کپتانوں کا بے حد احترام کرتے تھے۔
فاسٹ بولنگ کے معیار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رفتار ضروری ہے، لیکن اگر آپ کی اسپیڈ 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہو اور لائن و لینتھ درست نہ ہو، تو اس رفتار کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ آج کل کی کرکٹ بہت تبدیل ہو چکی ہے اور اب اسمارٹ بولرز کم رفتار کے باوجود درست لائن پر گیند کر کے بلے بازوں کو آٹ کر لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل فرق مہارت اور حالات کو سمجھنے سے پڑتا ہے، وسیم اکرم جب دوڑنا شروع کرتے تھے تو بلے باز نفسیاتی دبا میں آ جاتے تھے، ایسا بولر صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔
وسیم، وقار اور شعیب اختر کے بعد پاکستان میں ویسے بولرز پیدا نہ ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے سعود خان نے کہا کہ وہ لیجنڈز اپنی فٹنس، ڈائٹ اور ٹریننگ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور نیٹس پر طویل اسپیل کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل کے بولرز نیٹ پر صرف دو یا چار اوورز کی بولنگ کرتے ہیں، جس سے لمبی بولنگ کا اسٹیمنا ہی نہیں بنتا؛ جب تک آپ مسلسل طویل بولنگ نہیں کریں گے، آپ کو لائن اور لینتھ پر کنٹرول حاصل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے ریورس سوئنگ کے حوالے سے کہا کہ اس فن میں سرفراز نواز ہمارے استاد ہیں جنہوں نے یہ فن متعارف کرایا، جس میں گیند پرانی ہونے پر اس کی ایک طرف کی چمک برقرار رکھ کر اسے ہوا میں موڑنا سکھایا جاتا ہے۔
سعود خان نے بتایا کہ انہوں نے اپنے کیریئر میں شکیل خان، اشفاق احمد، خرم چوہان، عمر صدیق، عبدالرف اور امان علی سمیت کئی ایسے ہیرے تیار کیے جنہوں نے ڈومیسٹک اور ون ڈے کرکٹ میں ملک کا نام روشن کیا۔ مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وسیم اکرم اور شعیب اختر جیسے کھلاڑی بار بار پیدا نہیں ہوتے، البتہ موجودہ اسٹار نسیم شاہ بھی ان کے پاس انڈر 16 کی سطح پر آئے تھے، جن میں شروع سے ہی تیز بولنگ کا قدرتی ٹیلنٹ موجود تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت وہ عہد عزیز اور ابوبکر جیسے باصلاحیت نوجوان بولرز پر کام کر رہے ہیں جن کا مستقبل روشن ہے۔ انہوں نے حکومت اور بورڈ کو مشورہ دیا کہ ہمیں اکیڈمیوں میں غیر ملکی کوچز کو موقع دینا چاہیے، کیونکہ ان کے پاس بائیو مکینکس، ڈائٹ، فٹنس اور اسکل ڈیولپمنٹ سے متعلق جدید سائنسی معلومات ہوتی ہیں، جس سے پاکستان کو دوبارہ بہترین فاسٹ بولرز مل سکتے ہیں۔
