اسلام آباد‘ لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک‘ نیوز ایجنسیاں) پنجاب اسمبلی کے مزید 6 نو منتخب اراکین تحریک انصاف میں شامل ہوگئے ہیں،جس کے بعد پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد 135 تک پہنچ چکی ہے۔ ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق شیخ سلمان نعیم، راجہ صغیر اور پیر سید سعید الحسن نے اتوار کو تحریک انصاف شمولیت اختیار کی۔ ترجمان کے مطابق تینوں امیدواروں کی شمولیت کے بعد پی ٹی آئی پنجاب میں سیٹوں کے حوالے سے سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پنجاب میں حکومت سازی کے عمل کا جلدآغازکرےگی۔ پنجاب کا وزیراعلیٰ کون ہوگا اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنانے کیلئے دوڑ جاری ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ تخت لاہور کا تاج کس کے سر پر ہوگا۔ صوبے میں حکومت بنانے کیلئے سیاسی جوڑ توڑ عروج پر پہنچ گیا ہے اور مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کیلئے پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف نے آزاد امیدواروں سمیت پاکستان مسلم لیگ ق سے رابطے تیز کر دئیے ہیں اوراس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے حکومت سازی کیلئے آزاد اراکین سمیت دیگر نو منتخب اراکین کو مختلف وعدے اور پیشکش کرنی شروع کر دی ہیں اور انہیں مختلف مراعات کا بھی لالچ دیاجا رہاہے اور ان اراکین کو منانے اور پارٹی میں شمولیت کی سرتوڑ کوششیں ہو رہی ہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ 18 آزاد اراکین کی ایک دو روز میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات متوقع ہے جس میں تمام 18 آزاد اراکین تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کرینگے جبکہ دوسری جانب سے پاکستان مسلم لیگ ق کے سینئر رہنماءاور نو منتخب رکن پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے بھی وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے حوالے سے آزاد اراکین سے رابطوں کو مزید تیز کر دیا ہے اور ق لیگ کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پنجاب اسمبلی کے نومنتخب آزاد اراکین کی اکثریت پرویز الٰہی سے رابطے میں ہیں اور ان تمام آزاد اراکین کی خواہش ہے کہ وہ ق لیگ میں شامل ہوکر پرویز الٰہی کو دوبارہ وزیراعلیٰ پنجاب بنوائیں گے تخت پنجاب کو حاصل کرنے کیلئے پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف سمیت ق لیگ رہنماءپرویز الٰہی نے بھی سرتوڑ کوششیں کرناشروع کر دی ہے اور اس حوالے سے انتہائی سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے اب دیکھنا یہ ہوگا کہ تخت لاہور کو حاصل کرنے کے حوالے سے کون بریک تھرو دیگا اس کا فیصلہ آئندہ چند روز میںہو جائیگا۔ پنجاب حکومت بنانے کے لئے (ق) لیگ نے اپنا تعاون ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر اعلٰی پنجاب کے عہدہ سے مشروط کر دیا۔ پنجاب میں حکومت بنانے کے لئے جوڑ توڑ عروج پر پہنچ گیا ہے پنجاب میں حکومت بنانے کے لئے مسلم لیگ(ق) نے پاکستان تحریک انصاف سے ڈپٹی وزیر اعظم یا وزیر اعلی پنجاب کے عہدہ کا مطالبہ کر دیا تاہم پی ٹی آئی مرکز اور پنجاب دونوں میں مسلم لیگ(ق) کو ساتھ رکھنا چاہتی ہے اس کے لئے تحریک انصاف نے (ق) لیگ کو مرکز میں وفاقی وزیر اور وزیر مملکت اور پنجاب میں ایک وزیر اور ایک مشیر کا عہدہ دیا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور چودھری پرویز الہی سے ملاقات جلد متوقع ہے ۔ ملاقات کے بعد آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائیں گی۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان جلد ملاقات متوقع ہے‘ پی ٹی آئی قیادت (ق) لیگ کو مرکز اور پنجاب میں نمائندگی دینے کو تیار ہے جبکہ مسلم لیگ (ق) پنجاب میں بڑے عہدے کے لئے کوشاں ہے۔ سربراہ ق لیگ چوہدری شجاعت کے زیر صدارت اجلاس‘ حکومت سازی میں کردار کے حوالے سے بات چیت‘ ن لیگ کی حمایت کرنے سے انکار اور پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کا فیصلہ۔ نجی ٹی وی کے مطابق چوہدری شجاعت کی صدارت میں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں ن لیگ کا ساتھ نہیں دیا جائے گا۔ ق لیگ وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کیلئے تحریک انصاف کا ساتھ دے گی۔3 مزید ارکان پنجاب اسمبلی بنی گالہ پہنچ گئے۔ عمران خان سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔ نجی ٹی وی کے مطابق پی ٹی آئی کے مطابق پنجاب اسمبلی کے 3 ارکان پی ٹی آئی میں شمولیت کے لیے بنی گالہ پہنچ گئے ہیں۔ ارکان اسمبلی میں فیصل آباسے اجمل چیمہ اور ملک عمر فاروق شامل‘ مظفر گڑھ سے عبدالحئی دستی شامل ہیں۔ ارکان جہانگیر ترین اور رائے حسن نواز کے ہمراہ بنی گالہ پہنچے ہیں۔ تینوں آزاد ارکان پنجاب اسمبلی عمران خان سے ملاقات کے بعد تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔
