اسلام آباد (کرائم رپورٹر) سپریم کورٹ میں ستلج، راوی اور بیاس کے پانی کی بندش اور بھارت کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کے خلاف چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیا شاہد کی طرف سے دائر نظر ثانی کی درخواست کی سپریم کورٹ میں چار رکنی بنچ نے سماعت کی۔ جس پر سپریم کورٹ نے بذریعہ اٹارنی جنرل وفاقی حکومت کو نوٹسز جاری کردیئے۔ بنچ چیف جسٹس جناب جسٹس میاں ثاقب نثار ، جسٹس میئر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تھا۔ عدالتی میئر کے فرائض بیرسٹر اعتراز احسن اور بلال صوفی نے انجام دیئے جبکہ ضیا شاہد کے وکلا میں بیرسٹر خالد رانجھا، بیرسٹر ظفراللہ اور کرنل (ر) محمد اقبال شامل تھے کرنل ہاشمی اس کیس کے لئے خصوصی طور پر آئے تھے ۔چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد کی طرف سے دائر درخواست کو گزشتہ سماعت پر دیامر بھاشا ڈیم کے ساتھ ہی نمٹا دیا گیا تھا جس پر چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد نے ایک ریویو پٹیشن دائر کی کہ میری درخواست دیامر بھاشا ڈیم سے قطعی مختلف ہے جسے غلط فہمی میں نمٹا دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں اس حوالے سے مطمئن کرنا ہوگا کہ ہم حکومت کو کوئی ہدایت جاری کرسکتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں کے حوالے سے کوئی عمل کرے یا ہم پارلیمنٹ کو کوئی ایسی ہدایت دے سکتے ہیں اس موقع پر موجود عدالت کے معاون وکیلوں نے مطلع کیا کہ اس حوالے سے 2016ءمیں سینٹ ایک قرارداد پاس کرچکی ہے۔ ضیا شاہد نے اپنی نظرثانی کی درخواست میں عدلت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے فخر ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ میرا کیس ایسے بنچ اور عدالت میں ہے جہاں میری بات کو سنا اور سمجھا جائے گا میںنے اس سے قبل متعدد بار ہائیکورٹ میں بھی کیس فائل کیے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ آج ملک کے معروف دانشور قانون دان اور سیاستدان خالد رانجھا اور چوہدری اعتزاز احسن پانی کے معاملے میں بطور عدالتی معاون موجود ہیں۔مجھے امید ہے کہ خالد رانجھا اور اعتزار احسن آج ہمیں اور عدالتوں کو اپنے اہم مشوروں سے نوازیں گے، ضیاشاہد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 1960ءمیں سندھ طاس معاہدے میں بھارت نے بے ایمانی کی ہے۔ دریائے جہلم، چناب اور سندھ بھارت کے علاقے سے گزر کر آتے ہیں ان معاہدوں میں ایک اصول اپنایا جانا چاہئے تھا ۔اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک اس میں پینے کے پانی، پن بجلی ،گھریلو استعمال جنگی و آبی حیات اور زراعت کیلئے استعمال کرسکتے ہیں بھارت سارا سال لکڑی کے شٹر لگا کر پانی کو روک کر ہماری زمین کو بنجر کررہا ہے اور سال میں صرف ان دِنوں میں پانی کھولتا ہے جب سیلاب آیا ہو ضیا شاہد نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ 1960ءمیں ہوا جبکہ 1970ءسے تمام عالمی قوانین ماحولیات کو مدنظر رکھ کر بنائے جارہے ہیں اس بارے میں دانشوروں سے رہنمائی چاہوں گا کہ ساری دنیا میں قوانین بنے پڑے ہیں۔ ہمیں بھی اپنی آئندہ نسلوں کی بقا کیلئے اپنی جدوجہد کو تیز تر کرنا ہے ہم پہلے ہی بہت وقت ضائع کرچکے ہیں اب ہمیں بھارت کی آبی جارحیت کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ 1970 کے انٹرنیشنل واٹر کنونشن رولز کے مطابق کوئی بھی ملک دریاﺅں کو مکمل بند نہیں کرسکتا اس لئے بھارت کو مجبور کیا جائے کہ پاکستان کیلئے دریاﺅں میں پانی چھوڑے جب بھارت معاہدے کے تحت تینوں قسم کا پانی جائز قرار دے رہا ہے تو پاکستان کیلئے ستلج ، بیاس اور راوی کا پانی کیوں بند کررہا ہے۔وفاقی حکومت کو یہ معاملہ بین الاقوامی فورم پر لے جانے کے لیے کہا جائے ۔ چیف ایڈیٹر خبریں ضیاشاہد کے دلائل کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے بذریعہ اٹارنی جنرل آف پاکستان وفاقی حکومت کو نوٹسز جاری کردیئے۔
ستلج ، بیاس ، راوی کا سارا پانی بند کیوں ؟ ضیا شاہد کی رٹ، سپریم کورٹ کا وفاق کو نوٹس
