لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ دو روز شور شرابہ تھا سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے عمران خان تک بھی یہ باتیں پہنچی ہوں گی۔ الیکٹرانک میڈیا کل بھی وہ پرانے کلپ چلے عمران خان کے جن میں وہ بڑے زوروشور سے کنٹینروں پر کھڑے ہو کر یہ باتیں کر رہے تھے کہ ہم نہیں چھوڑیں گے ماڈل ٹاﺅن کو۔ تو اب وہ خود وزیراعظم ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے اب تک کیا کیا ہے۔ ظاہر ہے اب ان لوگوں کے نام سامنے آنے چاہئیں جو پولیس افسر اب کھڈے لائن لگیں گے اور جو پاکستان سے باہر جا چکے ہیں۔ ان کو بھی واپس بلایا جائے گا۔ اصل میں یہ ہمارے میڈیا کی نالائقی ہے کہ جو کام ہونا ہے وہ تو ہونا ہی ہونا ہے جس شخص نے دعوے کئے ہوں جنہوں نے آرمی چیف کے پاس جا کر ایف آئی آر کٹوائی۔ اس وقت آرمی چیف راحیل شریف سے ملنے کے لئے عمران خان بھی گئے تھے ان کو ملنے کے لئے طاہر القادری بھی گئے اور دونوں نے آرمی چیف نے یقین دلایا تھا کہ آپ مطمئن رہیں میں خود اس بات کی ذمہ داری لیتا ہوں کہ اس کی ایف آئی آر کاٹی جائے اور جس طرح سے آپ کی تسکی ہو گی اس طرح سے کاٹی جائے گی۔ چنانچہ راحیل شریف صاحب کی مداخلت پر اس کی ایف آئی آر کاٹی گئی تھی ورنہ اس سانحہ کی تو ایف آئی آر ہی نہیں کاٹی جا رہی تھی۔ یہ سیاسی انتقام نہیں کہا جائے گا۔ جو کسی نے کیا ہے اس کی سزا سیاسی انتقام نہیں ہوتا۔
ضیا شاہد نے کہا کہ قومی اسمبلی میں آج کافی ہنگامہ ہوا ہے۔ فواد چودھری ماشاءاللہ صحت مند آدمی ہیں۔ لیکن جس طرح انہوں نے کہا ہے کہ میں نے غلط بات کون سی کہی۔ ان کو چاہئے کہ وہ الفاظ کا استعمال نرم کریں۔ پارلیمانی حدود میں رہیں تا کہ بعد میں معافی نہ مانگنی پڑے۔ جہاں تک تنقید کا تعلق ہے۔ یا نکتہ چینی کا تعلق ہے کسی بھی حکومت میں موجود لوگوں کو پچھلی حکومت کے لوگوں پر الزام لگانا کہ انہوں نے دولت کس طرح سے لٹائی ہے اور فضول خرچی کس طرح سے کی ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔ الفاظ مہذب اور تہذیب کے دائرے میں رہنے چاہئیں۔ ریڈیو میں 800 بندے بھرتی پر ضیا شاہد نے کہا کہ خورشید شاہ سخی آدمی ہیں انہوں نے سخاوت کی اور اپنے تعلق والوں کو اور اپنے حلقے کے لوگوں کو، اپنے مداحوں کو بھرتی کر لیں۔ ایک زمانے میں یوسف رضا گیلانی تھے مجھے یاد پڑتا ہے کہ شاید 600 یا 800 کی تعداد، اس وقت بھی سامنے آئی تھی کہ جب یہ اسمبلی کے سپیکر تھے تو انہوں نے ایک حلقے سے بڑی تعداد میں بھرتی کر لیا۔ یوسف گیلانی کے بارے میں ایک واقعہ یاد پڑتا ہے۔ تاریخ بڑی ظالم چیز ہوتی ہے جب یہ ریلوے کے وزیر تھے تو ایک مرتبہ مجھے کسی نے کہا کہ ریل پر سفر کریں۔ لاہور سے ملتان سفر کیا تو ریلوے والوں کو پتہ چل گیا انہوں نے محبت پیار کی۔ افسروں اور گارڈزنے بہت اصرار کیا کہ اپنے کمرے میں نہ بیٹھیں۔ سردیوں کا موسم تھا۔ انہوں نے کہا کہ میرے انجن میں ساتھ چلیں۔ میں نے بہت سی باتیں آپ سے کرنی ہیں۔ میں انجن میں لاہور سے ملتان گیا۔ وہ مجھے دکھاتے جا رہے تھے کہ اچانک ایک علاقہ ایسا شروع ہوا کہ یہاں گاڑی کی سپیڈ آہستہ کرنی پڑ گئی۔ میں نے کہا کہ وہ کس لئے وہ کہنے لگے کہ جی یہ جو بغیر گیٹ کے پھاٹک کے کراسنگ بہت زیادہ دیئے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ کسی بھی وقت کوئی بیل گاڑی آ سکتی ہے گھوڑا تانگہ آ سکتا ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ آج فواد چودھری نے نہ صرف مسلم لیگ کے لئے بلکہ پاکستان پیپلزپارٹی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ خورشید شاہ صاحب نے 800 بندہ 3 دن میں ریڈیو میں بھرتی کر دیا۔ ڈی جی ریڈیو جو ہے وہ ایک ٹیکسی ڈرائیور کو بھرتی کر دیا گیا۔ فواد چودھری نے کہا کہ میری بات اگر وزیراعظم ان سب کو الٹا لٹکا دیں آپ کیا کہیں کہ ان غیر پارلیمانی الفاظ کا اس طرح بے دریغ استعمال کیا گیا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما سابق وزیراعظم راجہ پرویز مشرف نے کہا کہ یہ واقعہ بالکل اسی طرح ہوا لیکن اس کے بعد انہیں سمجھتا ہوں کہ وزیر صاحب نے معافی مانگ لی معذرت کر لی۔ پورے ہاﺅس سے اور پھر دوبارہ پروسیڈنگ میں چلے گئے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ واقعی غیر پارلیمانی اور غیر مہذب الفاظ تو استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔ اس پر ہر معقول آدمی تسلیم کرے گا۔ لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ 800 بندے یا 200 بندے بھرتی کر لیے یا ریڈیو کے کس کس شخص کو ڈی جی بنا دیا اگر وہ استحقاق نہیں رکھتا تھا تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ مختلف الزامات اگر اسمبلیوں میں نہیں آنے توکہاں آنے ہیں ، جلسہ عام میں بیان کیا جائے، کیا کیا جائے؟
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آپ اتنے سینئر، سیزنٹ اور ریزنٹ انسان ہیں اور آپ نے بالکل صحیح بات کی ہے۔ وہاں سوال یہ پیدا ہوا کہ آپکو پرسنل نہیں ہونا چاہئے بلکہ اگر کوئی الزام ہے کسی پر کوئی وضاحت دینا چاہتے ہیں تو پارلیمانی نظام میں اسکے سارے طریقے وضح ہیں ۔ آپ جو بات کرنا چاہتے ہیں کر سکتے ہیں ۔ خورشید شاہ نے بتایا کہ ہم نے بندے بھرتی نہیں کیے بلکہ کنٹریکٹ پر جو سالہا سال سے چلے آ رہے تھے،اور ان پر تلووار لٹک رہی تھی کہ وہ اس مہینے ہیں یا نہیں اس پر پیپلزپارٹی کی جانب سے خورشید شاہ کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی تھی اور تمام محکموں کے کنٹریکٹ پر بھرتی ملازمین کو مستقل کیا گیا۔
ضیا شاہد نے کہا کہ دو سو فیصد درست بات ہے کہ اگر ایک عمل کے تحت کوئی جائزہ کمیٹی بنی اور انہوں نے فیصلہ دیا تو پھر وہ قانونی اقدام ہے۔ الزامات تو آئیں گے مگر الزامات جائز اور معقول ہونے چاہئیں۔ قانونی اقدام کو آج کسی وزیر کو غلط قرار نہیں دینا چاہئے۔
راجا پرویز اشرف نے کہا کہ کل انکا کوئی احتجاج تھا ، وزراءوہاں گئے اور انہیں یقین دہانی کروائی گئی کہ کسی ملازم کو نہیں نکالا جا رہا اور ریڈیو پاکستان کی بلڈنگ بھی انکے پاس رہے گی۔
ضیا شاہد نے مزید پوچھا کہ کل پرسوں سے لاہورمیں شور شرابا ہے۔جسکے پہلے مرحلے میں نواز شریف ، شہباز شریف اور دیگر لیگی قائدین کے بارے میں کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس میں انکی طلبی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، کورٹ کا فیصلہ سر آنکھوں پر مگر آج عمران خان نے طاہر القادری کو خود ٹیلی فون کیا اور پنجاب کے وزیراعلیٰ سے بھی کہا ہے کہ جو افسران اس میں ملوث تھے انکو کم از کم معطل کیا جائے تاکہ انکے بارے میں صحیح طور پرتحقیقات آگے بڑھ سکیں۔ آپ چیف ایگزیکٹو کی پوسٹ پر رہے ہیں یہ فرمائیے کہ کسی شہر میں چودہ شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور 81 لوگ زخمی ہوں اور اتنے برس گزر جانے کے باوجود اس واقعے کا کوئی سر پیر ہی پتا نہیں چل رہا؟
سابق وزیراعظم نے کہا کہ آپ نے بالکل درست فرمایا یہ بڑا المناک واقعہ تھا اور پاکستان کے ہر شہری کے جذبات یہی تھے کہ ملوث افراد کو قرار واقعی سزا ملنی چاہئے۔ نہتے شہری جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ میں ایک خاص واقعہ آپکے علم میں لانا چاہتا ہوںجو بہت ہی بیہمانہ اور غیر انسانی ہے اسلئے میں اسکا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ ہنگامے بھی ہو جاتے ہیں پولیس گولی بھی چلا دیتی ہے یہ چیزیں تاریخ میں پہلے بھی چلتی آئی ہیں ۔ لیکن اس واقعے میں ایک خاتون جن کا منہ کھلا ہوا تھا اور وہ کوئی بات کر رہی تھیں، انکے منہ میں بندوق کی نالی ٹھوک کے انکے حلق کے اندر گولیاں اتار دی گئیں۔ ایک وردی میں ملبوس پولیس والے نے یہ کام کیا ۔ میں بھی اپنی جہالت کا اعتراف کرتا ہوں ، آپ مجھ سے بہت زیادہ پوزیشن میں رہے ہیں شاید آپکو پتا ہوکہ ہمیں تو اس بہادر پولیس اہلکار کا نام بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ ہم اسکی کوئی تصاویر شائع کرتے، زندہ باد کے پوسٹر چھاپتے ، جس نے یہ کارنامہ سرانجام دیا۔ اگر کسی کے گھر کے آگے سپیڈ بریکر رکھوا دئیے گئے اور وہ رکھنے ہیں یا نہیں ، اس پر خاتون کے منہ میں بندوق رکھ کر گولیاں چلانے والے پولیس اہلکار کے تو کیلنڈر چھاپنے چاہئیںاور پاکستان میں عزت کا اعلیٰ مقام اور گیلنٹری کا بڑا ایوارڈ دیا جانا چاہئے۔ دو حکومتیں گزر چکی ہیں مگر ابھی تک کسی کو یہ پتا نہیں کہ وہ بہادر اہلکار کونسا تھا، اسکا اسم شریف کیا تھا، کہاں کا رہنے والا تھا، کونسے قانون نے اسے یہ اجازت دی کہ کسی خاتون کے منہ میں بندوق کی نالی ڈال کر فائرنگ کر دے۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ضیا شاہد آپ نے عوامی جذبات کی مکمل عکاسی کی ہے اور ایسا ہی ہے جیسا آپ نے فرمایا ، سب لوگوں کے جذبات یہی ہیں کہ بے گناہوں کو انصاف ملنا چاہئے۔
ضیا ءشاہد نے پروگرام میں مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خورشید شاہ ایک لاکھ کی بجائے دس لاکھ نوکریاں دیں ہم کیوں انہیں پھانسی پر چڑھائیں گے۔ اگر نوکریاں دینا استحقاق کے مطابق میرٹ ، عمر اور طریقہ کار کے مطابق ہیں تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ۔ لیکن اگر اس وجہ سے ہو کہ کل آپ مجھ سے سائن کروالیں کہ آپکے گیارہ رشتہ داروں کو چینل فائیو میں مختلف اعلیٰ عہدوں پر لگا دیں اور پہلے کام کرنے والوں کو چاہے فارغ کردیا جائے تو مجھے اس پر شدید اعتراض ہوگا۔
جہانگیر ترین کی نااہلی برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے ضیا شاہد نے کوئی کمنٹ دئیے بغیر کہا کہ آپ ٹھیک کہتے ہیں۔
عمران خان کے دورہ سعودی عرب اور اتوار کے زور سعودی وفد کی پاکستان آمد کے حوالے سے ضیا شاہد نے کہا کہ عمران خان کو چاہئے کہ اب داڑھی رکھ لیں، سعودی عرب سے تعلقات کے حوالے سے نواز شریف کی جو شہرت تھی عمران خان اس سے آگے نکل گئے ۔
راجن پور کے دریشک خاندان کے ظلم کے حوالے سے خبر پر ضیا شاہد نے کہا کہ دریشک صاحب کے بیٹے پنجاب میں وزیرخزانہ ہیں، میں اس لیے کوئی رائے نہیں دے سکتا کہ انہیں بھی اپنی صفائی دینے کا حق حاصل ہے ۔ لہذاٰ کل اپنے اخبار اور چینل کے چیف رپورٹر کو بھیجتا ہوں کہ وہ پنجاب کے وزیرخزانہ سے معلومات کر کے آئی کہ سپریم کورٹ میں آپ کے خلاف جو لوگ شکایات لیکر پہنچے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ۔آپ وہاں ایسا کون سا غیر قانونی اقدام کر رہے ہیں جس کے بنا پر لوگ انصاف کی خاطر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔
آج بہت اہم معاملہ تھاکہ انڈیا کو اچانک کیا ہو گیا ہے کہ وہ تڑیاں بھی دے رہا ہے اور دھمکیاں بھی، سرجیکل سٹرائیک کی باتیں کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ یہ کوئی بتا کر کرنے والا کام نہیں ہوتا ، ہم بتائے بغیر کریں گے۔ دوسری طرف امریکا بھی کہہ رہا ہے ہم نئے سرے سے تعلقات بحال کریں گے۔اسکے علاوہ سعودی عرب سے وفد پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے آنیوالا ہے اس حوالے سے خورشید قصوری سے گفتگو کی ہے۔
پروگرام میں ٹیلی فونک گفتگو میں شریک ریزیڈنٹ ایڈیٹر خبریں ملتان میاں عبدالغفار نے دریشک خاندان کے معاملے پربتایا کہ راجن پور اور ڈی جی خان کی دریائے سندھ کی اوپری اور نچلی بیلٹ پر جتنے بھی زمیندار ہیں انکا دریا پر قبضہ لیہ سے شروع ہوتا ہے اور رانی پور ، حیدرآباد تک ہے۔دریائی زمین پر قبضے ستر سال سے ختم نہیں ہو رہے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے ، چیف جسٹس کے پاس یہ بات جانی چاہئے کہ اہم سیاسی خاندان دریاﺅں کے کنارے زمینوں پر کیوں قبضے کر لیتے ہیں۔ اس معاملے پر نصراللہ دریشک اور انکے بیٹے کا موقف لینے کے لیے وہاں جائیں اور ان سے کہیں کہ آپکا نیاز مند ضیا شاہد جاننا چاہتا ہے کہ بات بیٹا کیا کر رہے ہیں۔
میاں غفار نے بتایا کہ دریائی زمین پر مزاریوں ، گورچشمیوں سمیت سب کے قبضے ہیں۔دریا ہمیشہ زمین لیتا بھی ہے اور چھوڑتا بھی ہے، اسی طرح چلتا ہے لوگوں کی زمینیں نکلتی بھی رہتی ہیں اور چھوٹتی بھی رہتی ہیں۔ سب سے زیادہ دریائے راوی لوگوں کی زمینیں کھاتا رہا ہے۔ یہی صورتحال سندھ میں ہے کہ جناح بیراج سے لیکر پنجاب میں کشمور تک یہی صورتحال چلتی ہے۔ دریشک خاندان نے ڈی سی سے کہا تھاکہ خاتون کی زمین کے حوالے سے فیصلہ میرے حق میں کردیں اور ڈی سی نے انکار کر دیا۔ ضلعی انتظامیہ گذشتہ ادوار کی نسبت اب آزاد ہے اور سٹینڈ لینے لگی ہے۔ اسکے علاوہ چھوٹو گینگ کے لوگ بھی سردیوں میں دریائی زمینوں پر آجاتے تھے اور گرمیوں میں پہاڑی علاقوں کی طرف چلے جاتے تھے ، یہ کسی نہ کسی سردار کی پناہ میںہوتے تھے ، جنکے نام آرمی آپریشن کے دوران سامنے آئے اور پھر کسی مصلحت کے تحت پوشیدہ ہوگئے۔
ضیا شاہد نے پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کے بیان کہ ضیا اور مشرف کی جیلیں دیکھیں ، عمران خان کی بھی دیکھ لیں گے، پر کہا کہ” چاچھ تو بولے چھلنی کیوں بولے“۔ اسمیں کوئی شبہ نہیں کہ آصف علی زرداری نے بہت جیلیں دیکھی ہوئی ہیں اور انہوں نے بڑی بہادری سے سارے دور کا مقابلہ کیا۔ بعد میں پتا نہیں کیا ہوا کہ ہمارے دوست رانا مقبول نے بطور آئی جی سندھ آصف علی زرداری کی زبان کاٹنے کی کوشش کی ، بقول آصف علی زرداری اگر وہ سہی کہتے ہیں۔ لیکن اتنے خوفناک جرم کے بعد بھی آصف زرداری نے کس آسانی سے میاں نواز شریف کو گلے سے لگا لیا۔ جب کنٹینرز پر طاہر القادری اور عمران خان انکے خلاف دھواں دار مورچہ لگائے بیٹھے تھے تو انہوں نے کہاکہ میں تو سب کچھ نواز شریف کی جمہوریت کو بچانے کے لیے کر رہا ہوں۔ اسی پر بلاول نے بھی صحیح کہا کہ انکے خاندان نے جیلیں دیکھی ہیں لیکن تصیح کر دوں کہ بلاول نے کچھ نہیں دیکھا۔ اسلئے بلاول صاحب کو یہ تڑیاں زیب نہیں دیتیں ۔ وہ فریش کالج سے آئے ہیں اور انکے والد ، والدہ اور انکے نانا نے اس ملک کی ساری عدالتوں کو دیکھاہے۔
پروگرام میں شریک گفتگو سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ بھارت کی جانب سے بیانات کے پس منظرمیں دیکھا جائے تو وزراءخارجہ کی بات چیت پر ہندوستان نے 24 گھنٹوں میں مذاکرات کی پیشکش کو قبول کیا اور پھر اس سے پھر گیا ۔ اسکی وجہ سمجھنے سے پہلے بات آگے نہیں بڑھے گی۔ اسمیں دو تین محرکات ہیں۔ ایک یہ کہ بھارت کے مذاکرات کی پیشکش قبول کر کے منسوخ کرنے کے وقت پاکستان میں یہ بات کسی کو پتا نہیں تھی۔ لیکن انڈیا کے وزیراعظم کو پتا تھا کہ فرانس کے ایک اخبار میں خبر چھپی تھی کہ سابق صدر فرانسا ہولانڈ نے یہ کہا ہے کہ جب فرانس اور انڈیا کے درمیان اربوں کھربوں کے منصوبہ ، رافیل جیٹ طیاروں کی ڈیل ہو رہی تھی تومودی نے کہاکہ پرانے فناس سپورٹر گجرات سے تعلق رکھنے والے انیل امبانی کو اس ڈیل میں انڈین کاﺅنٹر پارٹ کے طور پر شامل کیا جائے۔ یہ بات ہمیں آپکو نہیں مگر مودی کو پتا تھا۔ انہوں نے سوچا کہ یہ بات کھلنے پراپوزیشن مجھ پر زبردست چڑھائی کر دے گی اور کہے گی کہ یہ چوری ہے ، استعفیٰ دیدو۔کانگریس پارٹی نے ایک دن کے بعد ہی یہ کر دیا اور کہا کہ استعفیٰ دو۔ مودی نے سوچا کہ پاک بھارت مذاکرات منسوخ کر کے شدید قسم کے بیانات دیے جائیں کہ خطرہ ہے، پاکستان باز نہیں آرہا، ہم یہ بھی کر دیں گے ، وہ بھی کر دیں گے۔ تاکہ ٹینشن اپنا رخ تبدیل کر لے۔ خورشید قصوری نے کہا کہ میرے یہ پیشین گوئی ہے ، ضیا شاہد صاحب دیکھ لیجئے گا مودی کامیاب نہیں ہونگے۔ اپوزیشن چچڑ کی طرح مودی کے پیچھے پڑ گئی ہے۔ مودی جو مرضی کہہ لیں ، وہ کہیں گے رافیل۔ یہ کہیں گے ہم نے سرجیکل سٹرائیک کی ، وہ کہیں گے رافیل۔ وہ روز اپنے آرمی چیف سے یہ کہلوا رہے ہیں۔ اور آرمی چیف کا ایک خاص پس منظر ہے۔ یہ ہندوستان کے ریگولر آرمی چیف نہیں ہیں۔ پاکستان کی عدلیہ میں ایک ثقافت ہے کہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے سب سے سینئر جج طریقہ کار کے تحت چیف جسٹس بن جاتے ہیں ۔ اسی طرح انڈین ملٹری میں بھی اسی طرح ہوتا تھا کہ سب سے سینئر افسر چیف آف آرمی سٹاف بنتا تھا ۔ کمال یہ ہوا کہ مودی صاحب بھارتی آرمی چیف کو ہٹا رکر بپن راوت کو نیچے سے اوپر لے آئے۔ جس پر بھارتی فوج کے بہت سے سابق افسران نے شدید مخالفت کی کہ یہ تو آپ سیاسی مداخلت کر رہے ہیں ۔ بپن کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ مودی کے قریب ہیں یا انکی خوشامد کرنا چاہتے ہیں ، انکو انہوں نے آرمی چیف بنا دیا اور انہوں نے اس قسم کے سیاسی نوعیت کے بیان پہلے بھی دئیے ہیں ۔ اب انکو کہا گیا کہ بی جے پی کی حکومت کی طرف سے بیان دیں۔جیسے سے دفتر خارجہ کو بھی کہا گیا۔ ایسے بیان نہ دفتر خارجہ دیتا ہے ، نہ بیرونی معاملہ کی وزارت دیتی ہے۔جو زبان عمران خان کے خلاف استعمال کی گئی۔
خورشید قصوری نے امریکا کی جانب سے پاکستان حکومت کیساتھ از سر نو کام کرنے کے بیان پر کہا کہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ تبدیلی آرہی ہے۔ واشنگٹن ٹائمز میں بھی ایک لیک آئی تھی کہ ایک سابق سفیر نے بھی کہا ہے کہ بہت حماقت والا فیصلہ تھا کہ پاکستان کی کولیشن سپورٹ فنڈ کی رقم روک لی ہے ، وہ رقم امداد نہیں ہمارا خرچہ ہوا تھا۔ پھر ایک اور نے کہا کہ بہت حماقت کی ہے جو ہمارے ٹریننگ پر جانیوالے افسران کو روکا گیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے آرٹ آف دی ڈیل نامی جو کتاب لکھی ہے اسمیں یہ ہے کہ وہ منہ میں جو آئے ، آئیں ، بائیں ،شائیں، وہ بات کر دیتے ہیں۔ پاکستان ہی نہیں چین ، برطانیہ، یورپین یونین، نیٹو، جاپان ہو ، اتحادی ہو یا دشمن ، انکے جو منہ میں آتا ہے بولتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسکا دباﺅ پڑتا ہے ۔ جیسے انہوںنے نارتھ کوریا کے ملٹری ڈکٹیٹر صدر کو راکٹ مین کہا اور اب وہ انکی بہت تعریفیں کر رہے ہیں اور شاید ان سے مذاکرات کا دوسرا دور بھی ہو جائے۔ شاید انکا یہ خیال ہو کہ انہوں نے پاکستان کو جو برا بھلا کہا ہے اسکے بعد شاید پاکستان بہت زیادہ مائل ہو جائیگا۔ میرا اپنا خیال ہے کہ انکا یہ اندازہ غلط ہے ۔ پاکستان کی ایک پوزیشن ہے اور پاکستان کبھی امریکا سے تعلقات بگاڑنا نہیں چاہتا تھا۔ مجھے پتا ہے نہ پاک فوج چاہتی ہے اور نہ دفترخارجہ۔صدر ٹرمپ شاید دباﺅ ڈالنا چاہ رہے تھے مگر آہستہ آہستہ انکو سمجھایا گیا ہے اور انہیں اندازہ ہوا ہے کہ پاکستان جو پیچھے نہیں ہٹ رہا وہ اسلئے نہیں کہ پاکستان ضدی ہے بلکہ اس لیے ہے کہ جو پاکستان پر ملبہ ڈالا جا رہا ہے کہ جتنا کچھ افغانستان میں ہو رہا ہے وہ پاکستان کیوجہ سے ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کو بتایا گیا ہے اور میڈیا میں بھی آیا ہے کہ افغانستان کی غیر فعال حکومت ہے۔
ضیا شاہد نے پوچھا کہ سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے گا اور اس سلسلے میں وہ ایک اعلان کر چکا ہے ، ایک اعلان پاکستان کے وزیرخارجہ نے ان کی طرف سے کیا کہ وہ سی پیک میں ایک آئل سٹی کی تعمیر کرے گا۔ اب اگلے دو روز میں سعودیہ کا تین رکنی وفد پاکستان آرہا ہے کہ ایسے اور کونسے میدان ہیں جہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہو سکتی ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں ، سی پیک کے علاوہ وہ کونسی سرمایہ کاری ہے جو سعودی عرب کی طرف سے بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری کہی جا سکتی ہے۔
خورشید قصوری نے کہا کہ ماضی میں ایسا نہیں ہوا۔ سعودی عرب ماضی میں پاکستان کی مدد کرتا رہا ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں انڈسٹری نہیں لگی۔ پہلی مرتبہ ایسا ہونے جا رہا ہے کہ سی پیک کے نیچے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ زون، بزنس ڈیولپمنٹ زون، سپیشل اکنامک زون بنائے جا رہے ہیں۔ جہاں خاص قسم کی انڈسٹری لگائی جا سکتی ہے۔ سعودی عرب کی سب سے بڑی طاقت تیل ہے۔ چائنہ آئل کا دنیا کا سب سے بڑ ا امپورٹر ہے ۔انکے لیے گوادر میں سعودی عرب ریفائنریز لگائے جہاں گلف سے آنیوالا آئل ریفائن ہو کر پائپ لائنز کے ذریعے چین چلا جائے ۔ سب سے زیادہ زونز میں لوجیکل ریفائنری اور پھر پیٹروکیمیکل انڈسٹری کو بڑھایا جائے۔ اس معاملے میں سعودی عرب تعاون کر سکتا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ زراعت کے شعبے میں بھی وہ تعاون کرنے کے قابل ہو۔ ان چیزوں میں سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔
