لاہور(ویب ڈیسک)نامور گلوکار اور برابری پارٹی کے چیئر مین جواد احمد نے ”خبریں ٹیلی فونک فورم “ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا بچپن ہی سے رجحان سیاست کی طرف تھا بعدازاں پڑھائی کے بعدگلوکاری بھی کی موسیقاری بھی اور پروڈکشن میں بھی قدم رکھا۔ مجھے لگ رہا ہے کہ میرا استحصالی طبقہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا جنون میں بدل گیا تو ہو سکتا ہے گلوکاری کو مکمل خیر باد کہہ دوں۔کیونکہ میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ محنت کش اور مزدور خوشحال ہوں۔ انہوں نے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران اپنے ایک مداح کو بتایا کہ جب تک لوگ سیاست میں نہیں آئیں گے تب تک یہ ملک نہیں بدلے گا۔حکمران اصل میں وہی لوگ ہیں جو گھوم پھر کر نئی پارٹیوں کی شکل میں پھر عوام پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ بھارت میں انہوں نے اپنی فلم ” ورثہ“ کے نام سے بنائی تھی۔جس کا میوزک سارا ہی اچھا تھا اور میوزک اس کا ہٹ ہو گیا فلم فلاپ ہو گئی۔ اس میں گلوکارہ ریچا شرما اور کرشنا کے علاوہ ساحر علی بگا اور میں خود بھی شامل تھا۔ ایک اور مداح کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے فلم ” موسیٰ خان “ جو کہ اداکار شان کی پروڈکشن تھی اس کا میوزک دیا اور دوسری فلم ” میں ایک دن لوٹ کے آ?ں گا“ کا بھی میوزک دیا جس کے گیت ” لگی لگی رے“ اور بن تیرے کیا ہے جینا“ بہت مقبول ہوئے۔ٹی وی کا مقبول ڈرامہ مہندی تھا جس کا ٹائٹل سانگ میرا گایا ہو ا تھا جس نے بہت مقبولیت حاصل کی اس کے بول تھے” مہندی کی یہ رات “انہوں نے مزید بتایا کہ اے ٹی وی کے ڈرامہ ” لو ‘ لائف اورلاہور“ کا ٹائٹل سانگ ” تیرے نال نال میں رہنا “ بھی انہوں نے گایا۔انہیں ایک مداح نے اپنا گیت سنانے کو کہا تو انہوں نے ” دوستی گیت“ گا کر سنایا جس کے بول تھے ” رہے نہ رہے ‘ یہ جیون کبھی ‘ بنی یہ رہے دوستی “۔ ان کے ایک مداح نے ان سے سوال کیا کہ ان کی کوئی ایسی خواہش جو پوری نہ ہوئی ہو۔ جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میری یہی خواہش ہے کہ غریب خوشحال ہو جائے۔ جواد کے ایک مداح نے ان سے سوال کیا انہوں نے آخری گیت کونسا ریلیز کیا تھا جس پر ان کا کہنا تھا کہ ان کا آخری گیت ” دلدار صدقے “ کے نام سے ریلیز ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ ہر موقع پر آپ نیا گیت لے آئیں اس میں ورسٹائل ہون کی خوبی ہونی چاہئیے۔ تعلیم حاصل کرنے کے سوال پر جواد احمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے ابتدائی تعلیم کیتھڈرل سے او لیول تک حاصل کی۔پھر گورنمنٹ کالج سے ”پر ی انجنئیر نگ“میں اچھے نمبر لئے یوں میں نے یو ای ٹی سے مکینیکل انجنئیرنگ میں ڈگری اپنے نام کر لیا۔ انہوں نے ٹیلی فونک رابطے پر ہی بتایا کہ وہ بائیں بازو کے خیالات کے پیروکار ہیں۔وہ مذہبی تنظیموں اور ان کے پیرو کاروں سے دل میں عناد یابغض نہیں رکھتے ہیں۔ میں غریبوں اور مڈل کلاس کی بات کرتا ہوں اور ان کو خوش دیکھنے کا خواہشمند ہوں میں تو مذہبی لوگوں کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ استحصالی طبقہ کیخلاف اکٹھے ہوں۔اہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ عمران خان دنیا کے جھوٹے ترین آدمی ہیں ان میں دوغلا پن ہے۔ انہوں نے مجھے 2013ئ میں پی ٹی آئی میں شمولیت کی دعوت دی جسے میں نے قبول نہیں کیا۔دنیا میں جتنے جھوٹے ‘ بے ایمان اور دھوکے باز ہیں‘ عمران خان ان کے سردار ہیں۔وہ عوام سے جھوٹ بول کر اقتدار پر قابض ہوئے۔انہوں نے ایک مداح کے سوال پر بتایا کہ کشمیر کا ایشو بہت حساس صحیح لیکن اس پر جنگ نہیں ہوگی یہ معاملہ ٹیبل ٹاک پر ہی حل ہو سکے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے سیاست سوشل میڈیا کے زور پر کی ہے الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا میں کچھ بھی نہیں ہوتا پی ٹی آئی صرف سوشل میڈیا پر ہے اسے دیکھ کر اب مریم نواز اور بلاول بھٹونے بھی اپنا سوشل میڈیا سیل تشکیل دیا ہے۔عمران خان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایک تین سو کنال کے گھر میں رہنے والا غریب عوام کا درد کیا جانے۔انہوں نے کہا کہ لاہور کی سیاست یقینا پورے ملک میں ہلچل مچاتی ہے اور میری پارٹی کا تو ہیڈ آفس بھی یہاں پر ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم دوسرے شہروں سے قطع تعلق رہیں۔ کشمیر میں بھارت کے اقدام سے پوری امت مسلمہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اسے ایسا نہیں کرنا چاہئیے تھا لیکن اگر انہوں نے ایسا کیا ہے تو ہمارے پاس اس کا کوئی حل نہیں۔کشمیریوں کو طبقاتی جنگ لڑنی چاہئیے اگر وہ ایسا کرینگے تو مجھے خوشی ہو گی۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس ملک میں جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے اس ما برابری کا حصہ ہے۔ میں تو کہتا ہوں جو نظام یہاں رائج ہے وہ ایسی سوچ پیدا ہی نہیں ہونے دیتا کہ آپ کو اپنے حقوق کا پتہ چلے۔ اصل میں ایسے نظام کو چلانے والا ایک مافیا ہے۔ٹیلی فونک فورم میں جن افراد نے جواد احمد کو سوالات کئے ان میں لاہور کے علاقہ لبرٹی مارکیٹ سے امیر علی تھے ‘ منڈی بہا?الدین سے عمران انور تھے‘جڑانوالہ سے انعام الحق ‘ فیصل آباد سے محمد رفیق‘ ڈی ایچ اے لاہور سے غزل شیخ ‘ سیالکوٹ سے محمد طارق‘ حیدر آباد سے نوریز‘ ملتان سے اللہ رکھا ‘ کراچی لانڈھی سے محمد طفیل‘ سرگودھا سے عبدالقادر کے علاوہ بہت سے دوسرے شہروں سے بھی کالز آئیں جن کے انہوں نے جوابات دیئے۔
2013میں تحریک انصاف میں شامل ہونے کی پیشکش ہوئی تھی:جواد احمد
