Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • دبئی میں پاکستانی چونسہ آم کی دھوم، ایک ڈبے کی قیمت 50 درہم تک پہنچ گئی
    • ایران امریکا کشیدگی سے سونا 11 ہفتوں کی کم ترین سطح پر
    • تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ
    • عورت ہونا جرم ہے؟ مادھوری ڈکشٹ کی نئی فلم نے تہلکہ مچا دیا
    • وہ پرانے آئی فونز جن پر بہت جلد واٹس ایپ استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا
    • دانتوں کی سفیدی بحال کرنے میں مددگار آسان ٹپس
    • ایک اور ملک نے بھارتی آم پر پابندی لگا دی
    • ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ سخت حملے کرنے کا اعلان کردیا
    • مصر کا مردہ فرعون قوم کیلئے اربوں کماتا، ہمارا زندہ فرعون عوام کے اربوں روپے کھا جاتا ہے: محمود اسلم
    • سٹوکس اور ایٹکنسن کی غیر موجودگی، روٹ دوسرے ٹیسٹ میں کپتانی کریں گے
    • آرمی ہیلی کاپٹر مظفرآباد کے قریب گر کر تباہ، تمام اہلکار شہیدہو گئے: آئی ایس پی آر
    • بحرین نےاپنے شہری علاقوں پر ایرانی مزائل حملہ ناکام بنا دیا
    • کراچی میں ہیٹ ویو، درجہ حرارت 48 ڈگری تک پہنچ گیا
    • اشنا شاہ شوہر حمزہ امین کے ساتھ پہلے بچے کی آمد سے قبل بیرون ملک روانہ
    • ٹیلی نار کا پاکستان سے نکلنے کا فیصلہ، ایزی پیسہ میں اپنا حصہ فروخت کرنے کی تیاری
    • ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ نئے کپتان کے لئے شاداب خان سر فہرست
    • ایئر کینیڈا کا پائلٹ مبینہ طور پر 17 سال میں 900 پروازیں بغیر کپتان کے لائسنس کے اڑاتا رہا
    • یو اے ای نے پاکستانی بلیو پاسپورٹ کے حامل افراد کو بورڈنگ سے روک دیا
    • بین اسٹوکس کا حالیہ تنازعہ کے بعد ریٹائرمنٹ پر غور
    • ماہرہ خان کی کنگ چارلس سے برطانیہ ایشین ٹرسٹ کے سالانہ عشائیے پر ملاقات
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    اے پی سی کانتیجہ کیا نکلا؟, فوجی عدالتوں کے معاملے بارے دیکھئے بڑی خبر

    By Daily Khabrainمارچ 5, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد( نامہ نگار خصوصی )پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینزنے فوجی عدالتوں کی بحالی کی مخالفت کر دی ہے اور اگر یہ عدالتیں قائم کرنی ہی پڑیں تو اس کے لئے نیا قانون بنائے گی تاکہ انسانی حقوق کا تحفظ کیا جا سکے، ملزمان کا منصفانہ ٹرائل یقینی بنایا جائے اور اسے سیاسی انتقام کے لئے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے کثیرالجماعتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کی اور اسے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی صحافیوں سے زرداری ہاﺅس کے بارہ گفتگو یں دہرایا۔ اس ملٹی پارٹی کانفرنس میں 13سیاسی پارٹیوں کے سربراہان اور نمائندگان نے شرکت کی جن میں پی ایم ایل(ق) کے چوہدری شجاعت حسین، جے یوآئی(ف) کے مولانا فضل الرحمن، قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد شیرپاﺅ، اے ای پی کے غلام احمد بلور، جماعت اسلامی کے مولانا سراج الحق، فاٹا کے رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی، بی این پی عوامی کے اسرار اللہ زہری، نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو، عوامی مسلم لیگ کے شیر رشید احمد، سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا، پاکستان عوامی تحریک کے خرم نواز گنڈاپور، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سید شجاعت بخاری اور مجلس وحدت المسلمین کے علامہ راجہ ناصر عباس شامل تھے۔ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ پی پی پی کی ٹیم میں قومی اسمبلی میں حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن، سینیٹ کے سابق چیئرمین اور قانونی ماہر فاروق نائیک، سینیٹر شیری رحمن، پی پی پی کے سیکریٹر جنرل سید نیر حسین بخاری، سینیٹر سردار علی خان، سینیٹر قیوم سومرو، سابق صدر کی پولیٹیکل سیکریٹری رخسانہ بنگش اور پی پی پی پی کے سیکریٹر جنرل سینیٹر فرحت اللہ بابر شامل تھے۔ اس ملٹی پارٹی کانفرنس کا ایجنڈا فوجی عدالتوں کی بحالی، نیشنل ایکشن پلانت پر عملدرآمد، قبائلی علاقوں کے لئے اصلاحات اور پختونوں کی ملک کے مختلف علاقوں میں پروفائلنگز کے معاملات شامل تھے۔ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کی زیر قیادت فوجی عدالتوں میں توسیع کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس بے نتیجہ ختم ہوگئی ہے ، بیشتر جماعتوں نے فوجی عدالتوں کی بحالی کی مخالفت کر دی ہے،سابق صد ر آصف علی زرداری نے کہا ہے اگر یہ عدالتیں قائم کر نا ہی پڑیں تو اس کے لئے نیا قانون بنایا جائے تاکہ انسانی حقوق کا تحفظ کیا جا سکے، ملزمان کا منصفانہ ٹرائل یقینی بنایا جائے اور اسے سیاسی انتقام کے لئے استعمال نہ ہونے دیا جائے،جبکہ اتفاق رائے سے فوجی عدالتوں کے قیام کی صورت میں اس کےلئے قانونی مسودی فوری تیار کرنے کی ذمہ داری سینیٹر فاروق نائیک کو سونپ دی گئی ہے ۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے زیر اہتمام ہفتہ کو اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں 13سیاسی پارٹیوں کے سربراہان اور نمائندگان نے شرکت کی ، کل جماعتی کانفرنس کے ایجنڈا امیں فوجی عدالتوں کی بحالی، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد، قبائلی علاقوں کے لئے اصلاحات اور پختونوں کی ملک کے مختلف علاقوں میں پروفائلنگز کے معاملات شامل تھے ۔ کانفرنس کے موقع پر سابق صدر آصف زرداری نے سیاسی پارٹیوں کے کہنے پر آصف علی زرداری نے فوجی عدالتوں کے قیام کی صورت میں اس کےلئے قانونی مسودہ فوری تیار کرنے کی ذمہ داری سینیٹر فاروق نائیک کو سونپ دی ہے ۔ انہوں نے سید خورشید احمد شاہ اور اعتزاز احسن سے کہا کہ وہ اس قانون مسودے کی تجاویز دیگر سیاسی پارٹیوں کو مہیا کریں۔ فاٹا ریفارم کے متعلق آصف علی زرداری نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں اصلاحات سب سے پہلے پیپلزپارٹی نے شروع کیں اور اصلاحات کے عمل کا راستہ ہموار کیا اور ایف سی آر کی اصلاحات کی بات کی کہ وہاں سیاسی پارٹیاں آزادانہ طور پر کام کر سکیں اور اس کے لئے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002ءکو فاٹا تک توسیع دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان اصلاحات پر عملدرآمد پانچ سال کی تاخیر حکومت کی غیرسنجیدگی ظاہر کرتی ہے اور قبائلی علاقوں کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔ انہوں نے فاٹا اصلاحات پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ سابق صدر نے نیشنل ایکشن پلان کی مختلف شقوں پر عملدرآمد نہ کرنے کی بھی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں ان کا احتساب کیا جائے۔ کانفرنس کے بعد زرداری ہاﺅس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے فوجی عدالتوں کے متعلق پیپلزپارٹی کے تحفظات پر بات کرتے ہوئے کہ صرف دہشتگرد تنظیموں اور گروپوں کا سرسری ذکر ناکافی ہے اور فوجی عدالتوں کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے جو شرائط ہیں ان کو بھی بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 10-A کے منصفانہ ٹرائل یقینی بنانا شامل ہے اور ملزم کو اس کی مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت دینا ضروری ہے۔ ملزم کو اپیل کرنے کا حق ہے اور فوجی عدالتوں میں مبصر کی منظوری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ سکہ بند دہشتگرد کی تعریف کیا ہے اور جن 161افراد کو پھانسی دی گئی تھی ان میں کتنے سکہ بند دہشتگرد تھے۔ ان میں کتنے ملزموں کو مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت دی گئی، کتنے لوگوں نے الزام کو ماننے سے انکار کیا اور فیصلے اور شہادتوں کی نقل فراہم کی گئی یا نہیں؟ کتنے لوگوں کو بغیر ثبوت کے صرف اعترافی بیان پر پھانسی دی گئی اور اس بات کو کہاں تک یقینی بنایا گیا کہ اعترافی بیان تشدد کے ذریعے حاصل نہیں کئے گئے؟ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات کے مسئلے سے ہٹانے کے لئے قائم کی جارہی ہیں اور یہ وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی فوجی عدالتوں کی مخالفت کر رہی ہے۔ فاٹا اصلاحات پر پارٹی کی پالیسی بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فاٹا میں صدر کا حکم اور ایف سی آر برطانوی نظام کا حصہ ہے اور ریفارم کے پیکیج میں اس کالونیل ڈھانچے میں ختم کرنے میں ناکامی ہوئی ہے۔ ایف سی آر کے متبادل رواج ایکٹ کو ابھی تک سامنے نہیں لایاگیا اور پارٹی نے مطالبہ کیا کہ رواج ایکٹ کو پارلیمنٹ کے سامنے لیا جائے تاکہ پارلیمنٹ فاٹا میں قانون سازی کر سکے۔ رواج ایکٹ متعارف کرانے اور فاٹا کو کے پی میں ضم کرنے سے صوبے میں تین قوانین بیک وقت لاگو ہوں گے۔ ایک اضلاع کے لئے، دوسرا پاٹا کے لئے اور رواج ایکٹ فاٹا کے لئے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف علاقوں کے لئے متعدد قوانین کبھی بھی اچھا شگون نہیں ہوتے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی صحافیوں سے زرداری ہاﺅس کے با ہر گفتگو میں پارٹی موقف کو دہرایا۔اے پی سی میں شرکت کرنے والے رہنماﺅں میں پی ایم ایل(ق) کے چوہدری شجاعت حسین، جے یوآئی(ف) کے مولانا فضل الرحمن، قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد شیرپاﺅ، اے ای پی کے غلام احمد بلور، جماعت اسلامی کے مولانا سراج الحق، فاٹا کے رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی، بی این پی عوامی کے اسرار اللہ زہری، نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو، عوامی مسلم لیگ کے شیر رشید احمد، سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا، پاکستان عوامی تحریک کے خرم نواز گنڈاپور، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سید شجاعت بخاری اور مجلس وحدت المسلمین کے علامہ راجہ ناصر عباس شامل تھے۔ جبکہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ پی پی پی کی ٹیم میں قومی اسمبلی میں حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن، سینیٹ کے سابق چیئرمین اور قانونی ماہر فاروق نائیک، سینیٹر شیری رحمن، پی پی پی کے سیکریٹر جنرل سید نیر حسین بخاری، سینیٹر سردار علی خان، سینیٹر قیوم سومرو، سابق صدر کی پولیٹیکل سیکریٹری رخسانہ بنگش اور پی پی پی پی کے سیکریٹر جنرل سینیٹر فرحت اللہ بابر شامل تھے ۔

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ

    ایک اور ملک نے بھارتی آم پر پابندی لگا دی

    مصر کا مردہ فرعون قوم کیلئے اربوں کماتا، ہمارا زندہ فرعون عوام کے اربوں روپے کھا جاتا ہے: محمود اسلم

    تازہ ترین

    تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ

    ایک اور ملک نے بھارتی آم پر پابندی لگا دی

    جی بی الیکشن میں پیپلز پارٹی کی کامیابی؛ وزیراعظم کی صدر زرداری اور بلاول کو مبارکباد

    جی بی اے 6 ہنزہ میں پی ٹی آئی حمایت یافتہ نیک نام کریم نے میدان مار لیا

    گلگت بلتستان انتخابات ، پیپلز پارٹی 10 ، مسلم لیگ ن 4 ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ایک، 6 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.