لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں حسین حقانی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ آصف زرداری جواب دیں کہ جب امریکہ نے اسامہ کے خلاف ایبٹ آباد آپریشن کیا، اس وقت کس کی حکومت تھی؟ وہ صدر مملکت اور یوسف رضا گیلانی وزیراظم نہیں تھے؟ ملک کا صدر افواج پاکستان کا سپریم کمانڈر ہوتا ہے۔ پیپلز پارٹی جواب دے کہ حقانی کھلے ویزے دینے کی جھوٹ کیوں دی گئی، پہلے اس کے بیان کی تردید کی پھر گیلانی کا خفیہ خط منظر عام پر آ گیا، حقانی نے بھی انہی پر الزام لگا دیا کہ سب انہی کیلئے کیا تھا۔ حسین حقانی پی پی کے اتنے محبوب تھے کہ جب ان کو میمو گیٹ سکینڈل بطور ملازم واپس بلایا گیا تو ان کو فول پروف سکیورٹی میں وزیراعظم ہاﺅس میں رہائش دی گئی، سخت سکیورٹی حصار میں ان کو سپریم کورٹ میں پیش کیا جاتا تھا، تاریخ میں کسی ملزم کو اس طرح عدالت میں پیش ہوتے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ حکومت بھی اس معاملے میں کوئی ایکشن لے گی۔ لاہور ہائیکورٹ نے بانی متحدہ کی تصویر و تقریر نشر کرنے پر پابندی لگا دی ورنہ میں نے موجودہ دور پی پی حکومت کے سینئر ترین لوگوں سے آف دی ریکارڈ پوچھا کہ آپ جب کیوں ہیں؟ دونوں فریقین کا جواب تھا کہ ایسے ہی مفاہمت چلنے دو، پی پی کی سندھ میں حکومت ہے اگر ایکشن لیا تو کہیں وہ شہر بند نہ کر دیں، وہ تو بیچ میں حکومت کی خواہش پر فوج و عدالتیں آ گئیں ورنہ ہر کام وزارت داخلہ بھی کر سکتی تھی۔ انہوں نے ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ مشاہد حسین بہت اچھے دوست ہیں۔ جب تک وہ وزیر نہیں بنے تھے تو کہا کرتے تھے کہ میں سیکرٹری اطلاعات ہوں اگر ہماری حکومت آئی اور مجھے وزیراطلاعات کی ذمہ داری سونپی گئی تو میں سب سے پہلے اس وزارت کو بند کر دوں گا۔ آزادی صحافت کے متعلقہ قوانین کے مطابق اگر کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو وزارت داخلہ کا کام ہے ایکشن لے۔ جب وہ وزیراطلاعات بن گئے تو ہم ان کو چھیڑا کرتے تھے کہ آپ نے تو اس وزارت کو بند کر دینا تھا تو وہ بس ہنس دیا کرتے تھے۔ لہٰذا حقانی معاملہ پر بھی جواب صرف ہنسی ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا ہے کہ حقانی معاملے پر ہماری حکومت کو ایکشن لینا چاہئے تھا، ہم نے بھی ریمنڈ ڈیوس اور بلیک واٹر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ بدقسمتی سے ملک سے دھوکہ کرنے والوں کا بھی احتساب نہیں ہوتا۔ حقانی نے امریکہ کو کہا تھا کہ ”جو ایف 16 پاکستان کو دیئے جائیں گے وہ بھارت کے خلاف استعمال ہوں گے لہٰذا امریکہ پاکستان کو سمجھائے کہ اس کا بھارت کے ساتھ لڑائی کرنا بہتر نہ ہو گا“ ایسے شخص کو سفیر جیسا اہم عہدہ سونپنا حیرت کی بات ہے۔ میمو گیٹ سکینڈل کے باوجود حسین حقانی ایوان صدر و وزیراعظم کی جانب سے فراہم کردہ تحفظ کے باعث وہ باہر نکل گیا۔ انہوں نے کہا جب ہماری حکومت آئی تو توانائی بحران و دہشتگردی کا سامنا تھا جس کی وجہ سے پہلی ترجیح میں ان مسائل پر توجہ مرکوز رکھنا پڑی۔
بریکنگ نیوز
- ٹرمپ کی مزید حملوں کی دھمکی، ایران جھکے گا نہیں:پزشکیان کا اعلان
- دبئی میں پاکستانی چونسہ آم کی دھوم، ایک ڈبے کی قیمت 50 درہم تک پہنچ گئی
- ایران امریکا کشیدگی سے سونا 11 ہفتوں کی کم ترین سطح پر
- تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ
- عورت ہونا جرم ہے؟ مادھوری ڈکشٹ کی نئی فلم نے تہلکہ مچا دیا
- وہ پرانے آئی فونز جن پر بہت جلد واٹس ایپ استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا
- دانتوں کی سفیدی بحال کرنے میں مددگار آسان ٹپس
- ایک اور ملک نے بھارتی آم پر پابندی لگا دی
- ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ سخت حملے کرنے کا اعلان کردیا
- مصر کا مردہ فرعون قوم کیلئے اربوں کماتا، ہمارا زندہ فرعون عوام کے اربوں روپے کھا جاتا ہے: محمود اسلم
- سٹوکس اور ایٹکنسن کی غیر موجودگی، روٹ دوسرے ٹیسٹ میں کپتانی کریں گے
- آرمی ہیلی کاپٹر مظفرآباد کے قریب گر کر تباہ، تمام اہلکار شہیدہو گئے: آئی ایس پی آر
- بحرین نےاپنے شہری علاقوں پر ایرانی مزائل حملہ ناکام بنا دیا
- کراچی میں ہیٹ ویو، درجہ حرارت 48 ڈگری تک پہنچ گیا
- اشنا شاہ شوہر حمزہ امین کے ساتھ پہلے بچے کی آمد سے قبل بیرون ملک روانہ
- ٹیلی نار کا پاکستان سے نکلنے کا فیصلہ، ایزی پیسہ میں اپنا حصہ فروخت کرنے کی تیاری
- ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ نئے کپتان کے لئے شاداب خان سر فہرست
- ایئر کینیڈا کا پائلٹ مبینہ طور پر 17 سال میں 900 پروازیں بغیر کپتان کے لائسنس کے اڑاتا رہا
- یو اے ای نے پاکستانی بلیو پاسپورٹ کے حامل افراد کو بورڈنگ سے روک دیا
- بین اسٹوکس کا حالیہ تنازعہ کے بعد ریٹائرمنٹ پر غور