آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی کے بھارت نواز شیڈول پر کرکٹرز نے تنقید کے نشتر چلادیے۔
تفصیلات کے مطابق بھارت اپنے تمام میچز صرف ایک ہی وینیو دبئی میں کھیل کر چیمپئینز ٹرافی کے فائنل میں پہنچ چکا ہے جبکہ دیگر ٹیمیں اس سے میچ کھیلنے کیلئے پاکستان اور دبئی کے درمیان گھن چکر بنی رہیں۔
آئی سی سی کی جانب سے لاڈلے بھارت کی ہر موقع پر سہولت کاری کی گئی، مدمقابل سیمی فائنلسٹ کا فیصلہ آخری میچ میں ہونے کی وجہ سے دونوں ممکنہ حریفوں آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کو دبئی بھیج دیا گیا۔
جنوبی افریقی ٹیم انگلینڈ سے میچ کے بعد اتوار کی دوپہر دبئی پہنچی جبکہ پیر کو اسے واپس لاہور آنا پڑا، جہاں پر بدھ کو دوسرے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے شکست دے دی، جس سے ٹیم کے فائنل کھیلنے کا خواب بکھر گیا، اس مقابلے میں پروٹیز کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے ڈیوڈ ملر نے شکست کی ذمہ داری میگا ایونٹ کے شیڈول پر ڈال دی۔
انھوں نے کہا کہ کراچی سے دبئی کی فلائٹ ایک گھنٹہ اور 40 منٹ کی تھی مگر یہ ہمارے لیے آئیڈیل ثابت نہیں ہوئی، رات کو دیر سے ختم ہونے والے میچ کے اگلے ہی روز صبح ہمیں اڑان بھرنا پڑی، ہم سہ پہر 4 بجے دبئی پہنچے اور اگلے روز صبح ساڑھے 7 بجے واپس لوٹنا پڑا، یہ کوئی اچھی چیز نہیں تھی، اگرچہ ہمیں ریکور ہونے کیلئے وقت ملا مگر فالتو میں دبئی کا چکر ہمارے لیے کسی صورت آئیڈیل صورتحال نہیں رہی۔
یاد رہے کہ سیمی فائنل میں ڈیوڈ ملر نے 67 بالز پر سنچری بنائی مگر ان کی ٹیم 50 رنز سے ہار گئی تھی۔
ادھر انگلینڈ کے سابق کرکٹر ڈیوڈ لائیڈ کے مطابق یہ انتہائی شرمناک ہے کہ دنیائے کرکٹ کا ایک انتہائی اہم ٹورنامنٹ کھیلا جا رہا ہے اور اس کیلیے اتنے مضحکہ خیز انتظامات کیے گئے، یہ انتہائی مزاحیہ صورتحال ہے جسے آپ نے بنایا، میرے پاس وضاحت کیلیے الفاظ ہی نہیں رہے، آپ ٹیموں کو ادھر ادھر گھماتے رہے، یہ کافی مزاحیہ چیز رہی لیکن اگر میں اس صورتحال سے دوچار ہونے والا پلیئر ہوتا تو میرے لیے یہ مزاحیہ نہ ہوتی۔