Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • امریکا ایران مذاکرات میں تعطل، بھارتی اسٹاک مارکیٹ 6 ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی
    • ارکان اسمبلی کاریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد میںدفعہ370 اور 35 اے شامل کرنے کا مطالبہ
    • اسلام آباد میں ڈینگی سے بچا اور ویکٹر کنٹرول آپریشنز میں تیزی
    • صدر بیرونی علاقہ سے خاتون کے 2 بچیوں سمیت اغوا کے مقدمہ میں اہم پیشرفت
    • راولپنڈی،غیر قانونی کال سینٹر کیخلاف کارروائی،61افراد گرفتار
    • چینی ہائبرڈ ٹیکنالوجی سے پاکستانی زرعی پیداوار میں اضافہ
    • 9مئی کے مقدمات میں گرفتاریاسمین راشدکی کشیدہ کاری نے سب کو حیران کر دیا
    • ڈکیتی چوری کی وارداتیں شہری نقدی موبائل فون گاڑیوں موٹر سائیکلوں سے محروم
    • ستھرا پنجاب ٹیمیں گھر کی دہلیز پر صفائی سہولیات کی فراہمی کیلئے سرگرم
    • غیرملکی خاتون سے مبینہ زیادتی، بیان قلمبند، میڈیکل رپورٹ جاری
    • پی ٹی آئی کے مطالبات جائز گورنر راج حکومت کے گلے پڑ جائے گا حافظ نعیم الرحمان
    • پی ٹی آئی احتجاج میں اشتعال انگیزی’مزید 2 افراد گرفتار
    • پنجاب میں فلو کیسز میں اضافہ صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں فلو ویکسین ندارد
    • کورونا کی علامات کے حامل مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی
    • پاکستان کو جدید ریل رابطوں’ نئے تجارتی راستوں سے جوڑنا چاہتے ہیں: احسن اقبال
    • لاہور سے کراچی جانے والی قراقرم ایکسپریس منسوخ ،مسافروں کو پاک بزنس ،کراچی ایکسپریس میں اکاموڈیٹ کیا گیا
    • شالیمار میں بیوہ خاتون سے زیادتی کا واقعہ ، ملزم گرفتار
    • پنجاب یونیورسٹی شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان کے زیراہتمام بین الاقوامی علمی کانفرنس
    • برائلر گوشت کی قیمت میں 30روپے کلو اضافہ
    • پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کا اعلان محض سیاسی دکھاوا تھا:اختیار ولی خان
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    26 ویں آئینی ترمیم کیس: آئین میں ترمیم ہونے تک موجودہ آئین پر ہی انحصار کرنا ہو گا: جسٹس امین الدین

    By Khabrain Newsاکتوبر 8, 2025
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس امین امین الدین نے ریمارکس دیے کہ جب تک آئین میں ترمیم نہیں ہوتی موجودہ آئین پر ہی انحصار کرنا ہو گا۔

    چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت شروع جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بینچ کر رہا ہے، بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل ہیں۔

    جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ ہم آئین پر انحصار کرتے ہیں، وکلاء بھی آئین پر انحصار کرتے ہیں، جب تک آئین میں ترمیم نہیں ہوتی موجودہ آئین پر ہی انحصار کرنا ہو گا۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم ٹھیک ہے یاغلط فی الحال عدالت نے معطل نہیں کی، آپ چھبیسویں آئینی ترمیم کو آئین کا حصہ سمجھتے ہیں تب ہی چیلنج کیا ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فل کورٹ دستیاب ہے، موجودہ آئینی بینچ کے 8 ججز بھی 26ویں آئینی ترمیم کے پاس ہونے کے وقت سپریم کورٹ میں موجود تھے، بقیہ 8 ججز کو بھی آئینی بینچ کا حصہ ہونا چاہیے جو 26 ویں آئینی ترمیم پاس ہونے کے وقت سپریم کورٹ کا حصہ تھے۔

    وکیل حامد خان کا کہنا تھا چھبیسویں آئینی ترمیم سینیٹ میں غیر معمولی طریقے سے لائی گئی تھی، چھبیسویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں رات کے وقت پاس کی گئی، سپریم کورٹ میں 21 اکتوبر کو 17 ججز موجود تھے، 25 اکتوبر کو چیف جسٹس ریٹائر ہو گئے، ججز کی تعداد 16 رہ گئی، چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست کی سماعت فُل کورٹ کرنےکی استدعا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم سے قبل بھی جوڈیشل کمیشن موجود تھا، چھبیسویں آئینی ترمیم سے جوڈیشل کمیشن کی فارمیشن پر اثر پڑا، چھبیسویں آئینی ترمیم سے قبل جوڈیشل کمیشن میں ججز اکثریت میں تھے لیکن آئینی ترمیم میں جوڈیشل کمیشن میں ججز اقلیت میں آگئے۔

    وکیل حامد خان کا کہنا تھا چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن میں اکثریت ایڈمنسٹریٹوسائیڈ پر چلی گئی جس سےآزاد عدلیہ پر اثر پڑا۔جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا فی الحال میرٹ پر نہ بتائیں، آئینی بینچ کے اختیارات کے حوالے سے بتائیں۔

    جسٹس محمدعلی مظہر نے ریمارکس دیے کہ جوڈیشل کمیشن میں پارلیمینٹری کمیٹی کو شامل کر دیا گیا ہے جبکہ جسٹس امین الدین نے استفسار کیا عدالت کو بتا دیں کیوں 16 رکنی بینچ بنا دیں؟

    Khabrain News

      Keep Reading

      ڈی آئی خان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک

      ٹانک میں ٹریفک پولیس کی گاڑی پر دہشت گرد حملہ، 3 اہلکار شہید

      اسلام آباد، راولپنڈی میں موسلا دھار بارش، رین ایمرجنسی نافذ

      تازہ ترین

      صدر زرداری کی سیاحت میں اے آئی کے اخلاقی استعمال کی ضرورت پر زور

      پنجاب بھر میں ہائی بیم لائٹس کے خلاف موٹروے پولیس کا کریک ڈاؤن

      فلسطین کا مسئلہ خودمختاری اور انسانی ضمیر کے لیے ایک بڑا امتحان ہے

      مارک زکربرگ کو ایک ہی دن میں تقریباً 9 ارب ڈالر کا نقصان

      اسرائیل سے متعلق عالمی سروے کے حیران کن اعدادوشمار، 98.75 فیصد منفی رائے رپورٹ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.