Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن کی مدت اور فیس میں تبدیلی کی تجویز
    • اسلامپورہ میں ڈور پھرنے سے موٹر سائیکل سوار زخمی، 2 پتنگ باز گرفتار
    • ایم ون موٹر وے اور جی ٹی روڈ اسلام آباد پشاورکے لیے بحال
    • اسلام آباد راولپنڈی میں موسلادھار بارش رین ایمرجنسی نافذ
    • رائیونڈ مانگا روڈ پر فیکٹری کی کوسٹر اُلٹ گئی، 11 افراد زخمی
    • پنجاب میں سکشن ہڈز کے بغیر چلنے والے شادی ہالز بند کرنے کا فیصلہ
    • فکری دہشت گردی عملی دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے: طاہر اشرفی
    • سابق چیئرمین نادرا طارق ملک دنیا کے 50 اہم ڈیجیٹل رہنمائوں میں شامل
    • امریکا ایران مذاکرات میں تعطل، بھارتی اسٹاک مارکیٹ 6 ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی
    • فنڈ کی عدم دستیابی سیاحت کو فروغ دینے کا خواب چکنا چور 91 ترقیاتی سکیمیں نا مکمل
    • غزہ جنگ کیخلاف احتجاج آئرلینڈ کے پیزٹے نے اسرائیل کامیچ دکھانے سے انکار کر دیا
    • چین کے خلائی سٹیشن پر تعیناتی: دو پاکستانی پائلٹس کی تربیت آخری مراحل میں داخل
    • 100سے زائد ادویہ کی عدم دستیابی مریضوں کو جان بثانے کے لا لے
    • خیبرپختونخوا کے شہری وزیراعلیٰ کی کارکردگی سے غیر مطمئن، سہیل آفریدی پر شدید تنقید
    • خیبر پختونخوا کے 37مراکز صحت آئوٹ سورس کرنے کا فیصلہ
    • ساہیوال: جگہ کا تنازع’ مخالفین نے جانورو ں کے باڑے کو آگ لگا دی
    • خواتین کے تحفظ کیلئے شہرکی80ہزار پبلک ٹرانسپورٹ میں کیو آرپینک بٹن نصب
    • پاکستان میں آئی ٹی اور اے آئی کا شعبہ معیشت کا اہم ستون بننے لگا
    • ارکان اسمبلی کاریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد میںدفعہ370 اور 35 اے شامل کرنے کا مطالبہ
    • جی پی ایس سگنلز میں مداخلت، سیالکوٹ کی پرواز کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں اترتا دکھا دیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    26 ویں آئینی ترمیم کیس: آئین میں ترمیم ہونے تک موجودہ آئین پر ہی انحصار کرنا ہو گا: جسٹس امین الدین

    By Khabrain Newsاکتوبر 8, 2025
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس امین امین الدین نے ریمارکس دیے کہ جب تک آئین میں ترمیم نہیں ہوتی موجودہ آئین پر ہی انحصار کرنا ہو گا۔

    چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت شروع جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بینچ کر رہا ہے، بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل ہیں۔

    جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ ہم آئین پر انحصار کرتے ہیں، وکلاء بھی آئین پر انحصار کرتے ہیں، جب تک آئین میں ترمیم نہیں ہوتی موجودہ آئین پر ہی انحصار کرنا ہو گا۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم ٹھیک ہے یاغلط فی الحال عدالت نے معطل نہیں کی، آپ چھبیسویں آئینی ترمیم کو آئین کا حصہ سمجھتے ہیں تب ہی چیلنج کیا ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فل کورٹ دستیاب ہے، موجودہ آئینی بینچ کے 8 ججز بھی 26ویں آئینی ترمیم کے پاس ہونے کے وقت سپریم کورٹ میں موجود تھے، بقیہ 8 ججز کو بھی آئینی بینچ کا حصہ ہونا چاہیے جو 26 ویں آئینی ترمیم پاس ہونے کے وقت سپریم کورٹ کا حصہ تھے۔

    وکیل حامد خان کا کہنا تھا چھبیسویں آئینی ترمیم سینیٹ میں غیر معمولی طریقے سے لائی گئی تھی، چھبیسویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں رات کے وقت پاس کی گئی، سپریم کورٹ میں 21 اکتوبر کو 17 ججز موجود تھے، 25 اکتوبر کو چیف جسٹس ریٹائر ہو گئے، ججز کی تعداد 16 رہ گئی، چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست کی سماعت فُل کورٹ کرنےکی استدعا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم سے قبل بھی جوڈیشل کمیشن موجود تھا، چھبیسویں آئینی ترمیم سے جوڈیشل کمیشن کی فارمیشن پر اثر پڑا، چھبیسویں آئینی ترمیم سے قبل جوڈیشل کمیشن میں ججز اکثریت میں تھے لیکن آئینی ترمیم میں جوڈیشل کمیشن میں ججز اقلیت میں آگئے۔

    وکیل حامد خان کا کہنا تھا چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن میں اکثریت ایڈمنسٹریٹوسائیڈ پر چلی گئی جس سےآزاد عدلیہ پر اثر پڑا۔جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا فی الحال میرٹ پر نہ بتائیں، آئینی بینچ کے اختیارات کے حوالے سے بتائیں۔

    جسٹس محمدعلی مظہر نے ریمارکس دیے کہ جوڈیشل کمیشن میں پارلیمینٹری کمیٹی کو شامل کر دیا گیا ہے جبکہ جسٹس امین الدین نے استفسار کیا عدالت کو بتا دیں کیوں 16 رکنی بینچ بنا دیں؟

    Khabrain News

      Keep Reading

      ڈی آئی خان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک

      ٹانک میں ٹریفک پولیس کی گاڑی پر دہشت گرد حملہ، 3 اہلکار شہید

      اسلام آباد، راولپنڈی میں موسلا دھار بارش، رین ایمرجنسی نافذ

      تازہ ترین

      صدر زرداری کی سیاحت میں اے آئی کے اخلاقی استعمال کی ضرورت پر زور

      پنجاب بھر میں ہائی بیم لائٹس کے خلاف موٹروے پولیس کا کریک ڈاؤن

      فلسطین کا مسئلہ خودمختاری اور انسانی ضمیر کے لیے ایک بڑا امتحان ہے

      مارک زکربرگ کو ایک ہی دن میں تقریباً 9 ارب ڈالر کا نقصان

      اسرائیل سے متعلق عالمی سروے کے حیران کن اعدادوشمار، 98.75 فیصد منفی رائے رپورٹ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.