Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • فکری دہشت گردی عملی دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے: طاہر اشرفی
    • سابق چیئرمین نادرا طارق ملک دنیا کے 50 اہم ڈیجیٹل رہنمائوں میں شامل
    • امریکا ایران مذاکرات میں تعطل، بھارتی اسٹاک مارکیٹ 6 ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی
    • فنڈ کی عدم دستیابی سیاحت کو فروغ دینے کا خواب چکنا چور 91 ترقیاتی سکیمیں نا مکمل
    • غزہ جنگ کیخلاف احتجاج آئرلینڈ کے پیزٹے نے اسرائیل کامیچ دکھانے سے انکار کر دیا
    • چین کے خلائی سٹیشن پر تعیناتی: دو پاکستانی پائلٹس کی تربیت آخری مراحل میں داخل
    • 100سے زائد ادویہ کی عدم دستیابی مریضوں کو جان بثانے کے لا لے
    • خیبرپختونخوا کے شہری وزیراعلیٰ کی کارکردگی سے غیر مطمئن، سہیل آفریدی پر شدید تنقید
    • خیبر پختونخوا کے 37مراکز صحت آئوٹ سورس کرنے کا فیصلہ
    • ساہیوال: جگہ کا تنازع’ مخالفین نے جانورو ں کے باڑے کو آگ لگا دی
    • خواتین کے تحفظ کیلئے شہرکی80ہزار پبلک ٹرانسپورٹ میں کیو آرپینک بٹن نصب
    • پاکستان میں آئی ٹی اور اے آئی کا شعبہ معیشت کا اہم ستون بننے لگا
    • ارکان اسمبلی کاریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد میںدفعہ370 اور 35 اے شامل کرنے کا مطالبہ
    • جی پی ایس سگنلز میں مداخلت، سیالکوٹ کی پرواز کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں اترتا دکھا دیا
    • وفاق نے 2سال میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو 2ہزار 347ارب روپے فراہم کئے
    • مودی کے زیر اثر مقبوضہ کشمیر بے اختیار، ریاستی اداروں پر آر ایس ایس قابض
    • تحریک انصاف کی وجہ سے پورا اسلام آباد محاصرے میں رہا:شرجیل میمن
    • دہشت گردی اور سیاسی بحران سہیل افریدی حکومت کیخلاف بڑا محاذ کھل گیا تبدیلی کی تیاریاں
    • بل گیٹس کا اے آئی کے خطرات سے خبردار ایک ارب موات کا سبب بن سکتی ہے
    • بلوچستان کا بنیادی مسئلہ پسماندگی نہیں بلکہ غلط بیانیہ ہے: سرفراز بگٹی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    فنڈ کی عدم دستیابی سیاحت کو فروغ دینے کا خواب چکنا چور 91 ترقیاتی سکیمیں نا مکمل

    By Khabrain Newsستمبر 29, 2026
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    ملتان (رپورٹ:رفاقت انجم)محکمہ سیاحت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کی 2024 تا 2626 کی بیشتر سیاحتی سکیمیں فنڈز کی عدم دستیابی کی نذر ہوکر ادھوری رہ گئیں۔سیاحتی مقامات کو دیدہ زیب بناکر غیر ملکی سیاحت کا عالمی مرکز بنانے کا حکومتی خواب تاحال پورا نہیں ہو سکا ہے ۔ جائزہ رپورٹ کے مطابق اس وقت سیاحت کے 91 ترقیاتی منصوبے نامکمل ہیں جن کے مجموعی پورٹ  فولیو کی لاگت53 ارب روپے ہے۔صوبہ پنجاب میں 172 سیاحتی و ثقافتی مقامات کی ڈیجیٹل نقشہ بندی اور 8 مربوط سیاحتی سرکٹس قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تاکہ ملکی و غیرملکی سیاحوں کو مربوط سہولیات فراہم کی جا سکیں مگر اس منصوبہ پر پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔سیاحتی انفراسٹرکچر میں توسیع کے تحت 3.19 ارب روپے کی لاگت سے کوٹلی ستیاں چیئر لفٹ کی منظوری دی گئی مگر منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔ ٹینڈرنگ، گلیمپنگ پوڈ ولیج، ایڈونچر ٹریک، پیراگلائیڈنگ اور واٹر سپورٹس کے منصوبے بھی فنڈز کی کمی شکار ہیں۔ٹی ڈی سی پی کے 17 ریزورٹس کو جدید بنانے کے ساتھ دھرابی ڈیم، کلر کہار، خبیکی جھیل، چھانگا مانگا، جلو اور مری سمیت مختلف سیاحتی مقامات پر سہولیات بہتر بنانے کے منصوبے بھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے۔ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے تحت ٹیکسلا، بھیرہ اور ہڑپہ کو ثقافتی شہروں کے طور پر ترقی دینے کے اقدامات جبکہ ٹیکسلا اور روہتاس قلعہ میں عالمی ورثے کے تحفظ کے منصوبے بھی ادھورے ہیں۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ میوزیم کی بروقت تکمیل میں فنڈز کی کمی آڑے آگئی۔سیاحتی مقامات پر28 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام سے تقریباً 154 ارب روپے کی معاشی سرگرمیاں پیدا ہونے اور سالانہ 12 لاکھ اضافی سیاحوں کی آمد اور تقریباً 1 لاکھ 87 ہزار براہِ راست روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا محکمانہ ہدف مقرر کیا گیا۔ مگر یہ اہداف دسمبر 2026 تک ترقیاتی منصوبوں کی عدم تکمیل کے باعث پورے ہونے کی توقع نہیں۔ کوٹلی ستیاں چیئر لفٹ، لاہور میوزیم کے نئے بلاک، ٹی ڈی سی پی ریزورٹس کے منصوبے بھی فائلوں تک محدود ہیں۔ تاریخی وثقافتی شہر ملتان میں قلعہ قاسم باغ کی تاریخی حیثیت بحالی کا پراجیکٹ والڈ سٹی کی تعمیر مکمل نہیں ہو سکی۔ملتان میوزیم کا افتتاح تو ہوچکا مگر تاریخی نوادرات اس میوزیم کی زینت نہ بن سکے جس کی وجہ سے سیاح میوزیم کا رخ نہیں کر رہے۔اندرون شہر تاریخی قدیم عمارتوں کو محفوظ نہیں بنایا جا سکا۔لوہاری گیٹ،دولت گیٹ،پاک گیٹ کی تاریخی حیثیت کا نام ونشان مٹ چکا۔ان کی بحالی کا کام شروع نہیں ہوا۔9 گزی تاریخی قبروں کا ثقافتی ورثہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔جنوبی پنجاب کے دیگر مشہور سیاحتی مراکز چولستان، فورٹ منرو، بہاولپور اور ماڑی راجن پور کی ترقیاتی سکیموں کی تکمیل میں فنڈز کی عدم دستیابی آڑے آئی ہوئی ہے۔ انفراسٹرکچر اور سہولیات نہ ہونے کے باعث سیاحوں نے منہ موڑنا شروع کر دیا ہے۔حکومت کی جانب سے جنوبی پنجاب میں سیاحت کے فروغ کے بلند بانگ دعوے محض بجٹ اعلانات تک محدود ہیں۔ فنڈز کے عدم اجراء اور سیاحتی سکیموں کی عدم تکمیل سے خطہ کے خوبصورت سیاحتی مقامات کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں۔چولستان اور تاریخی ورثہ بہاولپور اپنے تاریخی عباسی محلات، چولستان کا قدیم قلعہ دراوڑ صحرائی سیاحت کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ چولستان کے 7 تاریخی قلعوں کی بحالی کے لئے اربوں روپے کے فنڈز مختص ہوئے جس میں والڈ سٹی ماڈل کی طرز پر چولستانی قلعوں کی بحالی شامل تھی مگر فنڈز ریلیز نہ ہونے کی وجہ سے یہ پراجیکٹ التوا کا شکار ہے۔ تاریخی قلعے تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ رات کے وقت روشنیوں کا انتظام نہ ہونے اور صحرائی علاقوں میں سکیورٹی اور گائیڈ سسٹمز کی عدم دستیابی کے باعث فیملیز،غیر ملکی سیاحوں کی آمد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ فورٹ منرو ڈیرہ غازی خان جنوبی پنجاب کا مِنی مری کہلاتا ہے۔ سطح سمندر سے 6,470 فٹ کی بلندی پر واقع کوہِ سلیمان کا یہ خوبصورت پہاڑی مقام گرمیوں میں تپتے ہوئے جنوبی پنجاب کے لوگوں کے لیے واحد سیر گاہ ہے۔ فورٹ منرو ریسارٹ کی اپ گریڈیشن، پائل جھیل کی صفائی، اور سولر انرجی کے ذریعے سٹریٹ لائٹس کی تنصیب کے منصوبے فنڈز کی کمی کی نذر ہو چکے۔ سڑکوں کی خستہ حالی، پینے کے صاف پانی کی قلت اور ہوٹل مافیا کی من مانیاں بھی اب سیاحوں کی کمی کا سبب بنی ہیں۔کوہِ سلیمان کے قبائلی علاقے میں واقع ”ماڑی” ضلع راجن پور کا سب سے دلکش پہاڑی مقام ہے، جو سرد موسم اور بادلوں کے نظاروں کے لیے جانا جاتا ہے۔ ماڑی کو ایک باقاعدہ ٹورسٹ ریزارٹ بنانے کا منصوبہ کئی سالوں سے فائلوں میں دبا ہوا ہے۔ ماڑی واٹر سپلائی سکیم فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ادھوری پڑی ہے۔ یہاں تک کہ سڑکیں رود کوہی (سیلابی ریلوں) کی وجہ سے تباہ حال ہیں اور ان کی مرمت کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے گئے۔ انفراسٹرکچر اور ہوٹل،ریسٹ ہاؤس کا کوئی وجود نہیں۔ پینے کے پانی کی شدید قلت کے باعث یہاں آنے والے سیاح اور مقامی لوگ جوہڑ کا آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ بنیادی سفری اور رہائشی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے یہاں سیاحت کا گراف صفر کے قریب پہنچ چکا ہے۔
    سیاحتی منصوبے

    Khabrain News

      Keep Reading

      100سے زائد ادویہ کی عدم دستیابی مریضوں کو جان بثانے کے لا لے

      دہشت گردی اور سیاسی بحران سہیل افریدی حکومت کیخلاف بڑا محاذ کھل گیا تبدیلی کی تیاریاں

      اندرون لاہور کے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی شروع

      تازہ ترین

      صدر زرداری کی سیاحت میں اے آئی کے اخلاقی استعمال کی ضرورت پر زور

      پنجاب بھر میں ہائی بیم لائٹس کے خلاف موٹروے پولیس کا کریک ڈاؤن

      فلسطین کا مسئلہ خودمختاری اور انسانی ضمیر کے لیے ایک بڑا امتحان ہے

      مارک زکربرگ کو ایک ہی دن میں تقریباً 9 ارب ڈالر کا نقصان

      اسرائیل سے متعلق عالمی سروے کے حیران کن اعدادوشمار، 98.75 فیصد منفی رائے رپورٹ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.