اسلام آباد (عادل عباسی)خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور صوبائی حکومت کے اندر مبینہ اختلافات کے باعث سیاسی صورتحال ایک بار پھر سنگین ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حکومت کے خلاف پارٹی کے اندر ایک بڑا سیاسی محاذ بننے کی اطلاعات ہیں، جبکہ وزیراعلی کی تبدیلی کے لیے بھی پسِ پردہ مشاورت شروع ہونے کا دعوی کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور انتظامی معاملات پر وزیراعلی سہیل آفریدی کی کارکردگی کے حوالے سے پارٹی کے بعض ارکان تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض ارکان کا مقف ہے کہ صوبے کو درپیش سنگین انتظامی اور سکیورٹی چیلنجز کے مقابلے میں حکومت کی توجہ مطلوبہ انداز میں مرکوز نہیں، جس کے باعث پارٹی کے اندر بے چینی بڑھ رہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلی سے ہٹانے اور ان کی جگہ کسی نئے وزیراعلی کو لانے کے مختلف امکانات پر مشاورت جاری ہے۔ اس حوالے سے پارٹی کے اندر ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل کرنے اور ممکنہ متبادل ناموں پر بھی غور کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔وزیراعلی سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور کے درمیان حالیہ ملاقات بھی سیاسی صورتحال میں اہم قرار دی جارہی ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماں کے درمیان سیاسی معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی، تاہم ملاقات کے بعد بھی اختلافات ختم ہونے کے حوالے سے واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ بعض ذرائع کے مطابق سیاسی گلے شکوے برقرار ہیں۔رپورٹس کے مطابق ملاقات میں صوبائی حکومت، پارٹی کی آئندہ حکمت عملی، وفاق سے تعلقات اور ممکنہ سیاسی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بعض اطلاعات میں یہ دعوی بھی سامنے آیا کہ حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں پارلیمانی پارٹی کی اجازت سے اسمبلی تحلیل کرنے کے آپشن پر غور ہوسکتا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے وزیراعلی سہیل آفریدی کے خلاف عدم اعتماد سے متعلق اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ تقریبا 35 ارکان صوبائی اسمبلی وزیراعلی کے خلاف کھڑے ہونے کو تیار ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی کے اندر بعض ارکان سہیل آفریدی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ یہ دعوے شیر افضل مروت کے بیان پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق تمام تفصیلات کی سطح پر نہیں ہوسکی۔خیبرپختونخوا میں سیاسی کشیدگی کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال بھی حکومت کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ حالیہ دنوں میں ڈیرہ اسماعیل خان کے درازندہ علاقے میں پولیس اور کسٹمز چیک پوسٹ پر ہونے والے بم دھماکے میں 12 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جس کے بعد وزیراعلی سہیل آفریدی نے زخمیوں کی عیادت کی اور وفاقی حکومت سے انسداد دہشت گردی پالیسی میں صوبے کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا وزیراعلی سہیل آفریدی نے اپنی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے پولیس کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے وسائل فراہم کیے ہیں۔ ان کا مقف ہے کہ امن کے قیام کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان بہتر تعاون ضروری ہے۔ادھر وفاقی سطح پر بھی خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال پر سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔ وفاقی وزیر امیر مقام نے 28 ستمبر کو صوبے میں گورنر راج کے حوالے سے کہا کہ اس کے لیے قانونی تقاضے پورے ہیں اور کسی بھی وقت کوئی اقدام ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب سہیل آفریدی نے گورنر راج کی دھمکیوں کے جواب میں کہا ہے کہ اگر ایسا اقدام کیا گیا تو اس کے سیاسی نتائج ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی جگہ کسی نئے وزیراعلی کا فیصلہ پارٹی قیادت کا اختیار ہے۔
یوں خیبرپختونخوا میں ایک طرف دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال حکومت کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے تو دوسری طرف پارٹی کے اندر مبینہ اختلافات، وزیراعلی کے خلاف عدم اعتماد کی اطلاعات اور وفاق و صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سیاسی بحران کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ تاہم وزیراعلی کی تبدیلی یا کسی نئے نام پر اتفاق کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
