1. اسرائیل کا بنیادی مطالبہ اور موقف:
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ لبنان میں محض عارضی جنگ بندی نہیں چاہتا، بلکہ وہ شمالی اسرائیل کے پناہ گزینوں کی بحفاظت واپسی کے لیے ایک مضبوط ضمانت چاہتا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، اگر حزب اللہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد 1701 کے تحت دریائے لیتانی (Litani River) سے پیچھے ہٹ کر اپنے ہتھیار لبنانی فوج کے حوالے کر دیتی ہے یا خود کو غیر مسلح کر لیتی ہے، تو لبنان میں فوری اور مستقل سیز فائر ممکن ہو سکتا ہے۔
2. لبنانی حکومت کا اقدام اور دباؤ:
حالیہ سفارتی دباؤ اور رپورٹس کے مطابق، لبنانی حکومت نے بھی ملک کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے لبنانی فوج کو ایسے منصوبے تیار کرنے کا حکم دیا ہے جس کے تحت حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے یا اسرائیلی سرحد کے قریب ان کے ہتھیاروں کا خاتمہ کیا جائے۔ لبنانی وزیر خارجہ یوسف رجّی کے بیانات کے مطابق، لبنانی فوج سیز فائر معاہدے کے فریم ورک کے تحت حزب اللہ کو سرحد کے قریبی علاقوں سے غیر مسلح کرنے کے لیے تیار ہے۔
3. حزب اللہ کا ردِعمل:
دوسری جانب، حزب اللہ نے کسی بھی ایسے سیز فائر معاہدے کو مسترد کیا ہے جس میں ان سے یکطرفہ طور پر ہتھیار ڈالنے یا غیر مسلح ہونے کا مطالبہ کیا جائے۔ حزب اللہ کا موقف ہے کہ ان کے ہتھیار اسرائیل کے خلاف لبنان کا دفاع اور "مزاحمت” کا بنیادی ذریعہ ہیں، اس لیے وہ بغیر کسی بڑی سیاسی قیمت یا ایران کی تہران انتظامیہ کی منظوری کے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
