امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں یہ اہم بیان دیا ہے۔ امریکی میڈیا نیٹ ورک NBC News کے پروگرام "Meet the Press” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ایران کی فوجی صلاحیت اور جاری مذاکرات کے حوالے سے کھل کر بات کی ہے۔
1۔ ایران کے پاس کتنے میزائل باقی ہیں؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا کہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا:
"ایران کی زیادہ تر ڈرون فیکٹریاں، میزائل لانچنگ پیڈز اور میزائل بنانے والے علاقے تباہ کیے جا چکے ہیں۔ لیکن ان کے پاس ابھی بھی کچھ صلاحیت باقی ہے۔ اگر فیصد کے حساب سے دیکھا جائے تو میرا خیال ہے کہ ایران کے پاس اب صرف 21 سے 22 فیصد میزائل ہی بچے ہیں۔ یہ اب بھی کافی میزائل ہیں، لیکن یہ وہ تعداد نہیں ہے جو ہمارے حملے سے پہلے تھی۔”
2۔ مذاکرات کی میز پر آنے کا دباؤ
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ ایران ابھی تک امریکہ کی شرائط پر معاہدہ کرنے کے لیے کیوں راضی نہیں ہوا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ایرانی حکومت کے لیے یہ صورتحال تسلیم کرنا بہت مشکل ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کے الفاظ تھے:
"وہ ایک مضبوط اور غیرت مند قوم ہیں، اور کچھ ایسی چیزیں ہیں جو انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ کریں گے، لیکن اب انہیں وہ کرنی پڑیں گی اور ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ (Choice) نہیں ہے۔ وہ پچھلے 47 سال سے اپنی مرضی کرتے آئے ہیں، اس لیے اس تبدیلی میں تھوڑا وقت لگ رہا ہے۔”
3۔ موجودہ پس منظر (Current Context)
-
جنگ بندی اور حملے: یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک عارضی اور نازک جنگ بندی (Ceasefire) چل رہی ہے۔ تاہم، اسی دوران امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے کچھ ڈرونز اور کویت و بحرین کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
-
ٹرمپ کا ہدف: ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام اور جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے اور وہ ایران کو ہر صورت ایک نئے مستقل امن معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔
