روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے حال ہی میں ایک بین الاقوامی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے حق میں ایک بہت بڑا اور اہم بیان دیا ہے جس میں انہوں نے ایران کی اندرونی طاقت اور یکجہتی کی کھل کر تعریف کی ہے۔
1۔ "ایران کو داد دینی چاہیے” – صدر پیوٹن کا بیان
صدر ولادیمیر پیوٹن نے مغربی ممالک (امریکہ اور اس کے اتحادیوں) کی پیشگوئیوں کو غلط ثابت کرنے پر ایران کو سراہا۔ انہوں نے کہا:
"مغربی ممالک کے بعض حلقوں اور ماہرین کا خیال تھا کہ بیرونی دباؤ اور حملوں کے بعد ایران اندرونی طور پر تقسیم (Collapse) ہو جائے گا اور وہاں پھوٹ پڑ جائے گی۔ لیکن ایسا بالکل نہیں ہوا۔ ہمیں ایران کو اس بات پر داد دینی چاہیے کہ بیرونی دباؤ کے باوجود ایرانی معاشرہ مسلسل مضبوط ہو رہا ہے اور اس میں اندرونی استحکام اور یکجہتی بڑھتی جا رہی ہے۔”
2۔ ایرانی عوام کا جذبہ اور قربانی
صدر پیوٹن نے ایرانی عوام کے اتحاد کی مثال دیتے ہوئے ایک اہم واقعے کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کہا:
"جب ایرانی قیادت نے ملک کی خاطر عوام سے قربانی کی اپیل کی، تو تقریباً 50 لاکھ افراد نے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کر دیا۔ یہ ایک بہت بڑی بات ہے اور ہمیں یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایرانی قوم اپنے ملک کے لیے کتنی متحد ہے۔”
3۔ روس اور ایران کے عسکری تعلقات پر وضاحت
اس موقع پر صدر پیوٹن نے مغربی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے فوجی تعلقات پر بھی بڑی وضاحت دی۔ انہوں نے صاف الفاظ میں کہا:
-
نہ تو ایران نے موجودہ بحران کے دوران روس سے کبھی کوئی فوجی امداد یا اسلحہ مانگا ہے۔
-
اور نہ ہی روس نے اس حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کو کوئی ہتھیار فراہم کیے ہیں۔
-
روس اور ایران کے تعلقات انتہائی دوستانہ اور قابلِ بھروسہ ہیں، لیکن ایران اپنی جنگ خود لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
4۔ موجودہ پس منظر (Current Context)
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاس صرف 22 فیصد میزائل بچے ہیں اور وہ کمزور ہو چکا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان کے فوراً بعد، روس کے صدر پیوٹن نے یہ کہہ کر دنیا کو حیران کر دیا کہ ایران کو کمزور سمجھنے والے نادان ہیں، کیونکہ ایران اندرونی اور نظریاتی طور پر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے
