برطانیہ کے وزیرِ دفاع جان ہیلی نے آج، 11 جون 2026 کو، برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ فوجی اخراجات اور بجٹ پر شدید اختلافات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
تنازع کی اصل وجہ: ڈیفنس انویسٹمنٹ پلان (DIP)
استعفے کی بنیادی وجہ برطانیہ کا نیا ‘ڈیفنس انویسٹمنٹ پلان’ (فوجی سرمایہ کاری کا منصوبہ) بنا، جو پیر کی سہ پہر جان ہیلی کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ جان ہیلی کا مؤقف تھا کہ یہ مالیاتی پیکیج موجودہ دور کے خطرات کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔
جان ہیلی کے استعفیٰ خط کے اہم نکات:
-
"ناامید اور ناآمادہ”: وزیرِ اعظم اسٹارمر کو لکھے گئے اپنے خط میں جان ہیلی نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا: ”جنوری سے اب تک، آپ ملک کے دفاع کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے میں ناامید رہے ہیں، اور وزارتِ خزانہ (ٹربژری) ان وسائل کو دینے پر آمادہ نہیں ہے۔“
-
فنڈز میں تاخیر: انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اضافی فنڈز دہائی کے آخر (2030) تک مؤخر کر دیے ہیں، جبکہ برطانوی فوج کو فوری طور پر (اگلے دو سالوں میں) اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے۔
-
جی ڈی پی (GDP) ہدف میں ناکامی: نئے منصوبے کے تحت 2030 تک دفاعی بجٹ جی ڈی پی کا صرف 2.58 فیصد تک بڑھے گا۔ ہیلی کے مطابق، موجودہ سرمایہ کاری کے تحت برطانیہ اگلے سال ہی 2.6 فیصد تک پہنچنے والا تھا، اس لیے نیا منصوبہ ملک کو کوئی بڑا فائدہ نہیں پہنچائے گا۔
-
قومی سلامتی کو خطرہ: ہیلی نے واضح طور پر کہا کہ اس بجٹ کو قبول کرنے کا مطلب برطانوی فوج کی تیاریوں کو کمزور کرنا اور ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔
سیاسی اثرات
جان ہیلی جولائی 2024 سے (جب لیبر پارٹی اقتدار میں آئی تھی) برطانیہ کے وزیرِ دفاع کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ان کا اچانک استعفیٰ کیئر اسٹارمر کی حکومت کے لیے ایک بہت بڑا سیاسی دھچکا مانا جا رہا ہے۔
-
وزیرِ اعظم پر دباؤ: کیئر اسٹارمر کی حکومت پہلے ہی مقبولیت میں کمی کا سامنا کر رہی ہے۔ کابینہ کے اتنے اہم رکن کے استعفے نے حکومت کی دفاعی پالیسیوں پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
-
وزارتِ خزانہ کا مؤقف: اس دفاعی منصوبے کی تیاری میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی تھی، جس کی وجہ برطانوی وزارتِ دفاع اور چانسلر رچل ریوز (وزیرِ خزانہ) کے درمیان بجٹ پر جاری کھینچ تان تھی۔
