مینچسٹر میں پیدا ہونے والے نوجوان مڈل آرڈر فیلڈر زیدان اقبال نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے عراق کے باضابطہ اسکواڈ میں شامل ہو کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ وہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں شامل ہونے والے پہلے پاکستانی نژاد فٹبالر بن گئے ہیں۔
خاندانی پسِ منظر اور قومیت
23 سالہ زیدان اقبال انگلینڈ کے شہر مینچسٹر میں پیدا ہوئے:
-
والد: ان کے والد کا تعلق پاکستان سے ہے۔
-
والدہ: ان کی والدہ عراق سے تعلق رکھتی ہیں۔
-
تین ممالک کے لیے اہلیت: اپنی دہری شہریت اور جائے پیدائش کی وجہ سے وہ انگلینڈ، پاکستان اور عراق تینوں ممالک کی طرف سے کھیلنے کے اہل تھے۔ تاہم، انہوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی والدہ کے ملک عراق کی نمائندگی کا فیصلہ کیا اور جنوری 2022 میں عراق کی سینئر ٹیم میں ڈیبیو کیا۔
تاریخی اعزاز (فیفا ورلڈ کپ 2026)
عراق کی فٹبال ٹیم نے اپریل میں بولیویا کو پلے آف میچ میں شکست دے کر 40 سال بعد پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔
-
عراق کے ہیڈ کوچ کی جانب سے ورلڈ کپ 2026 کے لیے اعلان کردہ حتمی اسکواڈ میں زیدان اقبال کو شامل کیا گیا ہے۔
-
چونکہ پاکستان کی قومی ٹیم کبھی فیفا ورلڈ کپ تک نہیں پہنچ سکی، اس لیے زیدان اقبال اپنی والد کی جڑوں (Pakistani Roots) کی وجہ سے اس عالمی میلے کا حصہ بننے والے پہلے پاکستانی نژاد کھلاڑی بن چکے ہیں۔ ورلڈ کپ میں عراق کو فرانس، سینیگال اور ناروے کے ساتھ "گروپ آف ڈیتھ” (Group I) میں رکھا گیا ہے۔
فٹبال کیریئر اور اہم سنگِ میل
-
مانچسٹر یونائیٹڈ اکیڈمی: زیدان اقبال نے صرف 9 برس کی عمر میں انگلش پریمیئر لیگ کے مشہور کلب مانچسٹر یونائیٹڈ کی یوتھ اکیڈمی جوائن کی تھی۔
-
چیمپئنز لیگ کی تاریخ: 2021 میں صرف 18 سال کی عمر میں انہوں نے ینگ بوائز (Young Boys) کے خلاف میچ کھیل کر مانچسٹر یونائیٹڈ کی تاریخ میں یوئیفا چیمپئنز لیگ (UEFA Champions League) کھیلنے والے پہلے برٹش ساؤتھ ایشین کھلاڑی کا اعزاز پایا۔
-
موجودہ کلب: مانچسٹر یونائیٹڈ چھوڑنے کے بعد وہ اب ڈچ لیگ (Eredivisie) کے کلب ایف سی اٹریکٹ (FC Utrecht) کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن (PFF) کا موقف
کھیلوں کے تجزیہ کاروں کے مطابق، زیدان اقبال پاکستان کی طرف سے کھیلنے میں بھی دلچسپی رکھتے تھے اور انہوں نے ماضی میں ایک بار پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا۔ تاہم، پاکستان فٹبال فیڈریشن (PFF) کے اندرونی تنازعات، انتظامی مسائل اور بروقت رابطہ نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان اس عظیم ٹیلنٹ کو اپنے اسکواڈ کا حصہ بنانے کا موقع کھو بیٹھا، جس کے بعد عراق نے انہیں کھلانے میں پہل کی۔
