بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 21 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، تاہم فائرنگ کے تبادلے میں 6 جوان شہید ہوگئے، جن میں 2 افسران بھی شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونے والوں میں کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کا ایک سرکاری اہلکار بھی شامل ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے چاغی اور پشین میں کلیئرنس آپریشن شروع کر رکھا ہے، جبکہ باقی دہشتگردوں کے خاتمے تک علاقے میں سینیٹائزیشن آپریشن جاری رہے گا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہوں اور مقامی آبادی کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بلوچستان سمیت ملک بھر سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
صدر مملکت نے بلوچستان میں 21 دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائی پر فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔
صدر مملکت نے 6 بہادر جوانوں کی شہادت پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ شہداء نے فرض کی ادائیگی کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرکے وطن کے دفاع کی عظیم مثال قائم کی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے 21 دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے کسٹم ہاؤس پر حملہ ناکام بنایا۔
محسن نقوی نے کہا کہ شہداء کی عظیم قربانیاں دہشتگردی کے خلاف قوم کے پختہ عزم کا ثبوت ہیں۔ بلوچستان میں قیام امن کے لیے سیکیورٹی فورسز پرعزم ہیں جبکہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ پوری قوم کی آواز ہے۔
بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 21 دہشتگرد ہلاک، 6 اہلکار جام شہادت نوش کر گئے

