Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • پنجاب یونیورسٹی نے مختلف مضامین کے طالب علموں کو پی ایچ ڈی کی ڈگریاں جاری کردیں
    • مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد ترقی کے بھارتی دعووں کی حقیقت کھل کر سامنے
    • لاہور چیمبر انتخابات، کارپوریٹ و ایسوسی ایٹ کلاسز کے نتائج مکمل وژن الائنس کے 28امیدوار کامیاب
    • ایل ٹی وی’ ایچ ٹی وی لائسنس رکھنے والوں کا کریمینل ریکارڈ چیک کرنیکا فیصلہ
    • ڈیفنس سی’غیرملکی لڑکی سے اجتماعی زیادتی’ مقدمہ درج
    • ٹرمپ کی امن تجویز مسترد کرنے کے بعد ایران کا سفارت کاری پر زور
    • ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کی زیر صدارت انسداد جرائم پر اہم اجلاس
    • ڈیفنس: غیر ملکی خاتون سے اجتماعی زیادتی کی ایف آئی آر کا عکس۔
    • اوپن اے آئی کے بے قابو بوٹس کی امریکی حکومتی اداروں کی ویب سائٹس میں مداخلت
    • ویرات کوہلی 2026 کے امیر ترین بھارتی کرکٹرز میں سرفہرست
    • مکہ پر حملوں کے بعد پاکستان اور سعودی عرب مل کر کام جاری رکھیں گے: عاصم منیر
    • ٹرمپ نے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی
    • پاکستان گلوبل ڈویلپمنٹ انیشٹی ایٹو کی مکمل حمایت کی توثیق کرتا ہے وزیراعظم
    • امریکہ سے واپسی پر وزیراعظم لندن میں دو سے تین دن قیام کریں گے
    • ایران کی سعودی اور حوثیوں کے درمیان تنازع کے حل کیلئے مدد کی پیشکش
    • فیلڈ مارشل کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات’دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم
    • KP خود کش حملہ فائرنگ شہید13 بلوچستان میں 13 دہشتگرد ہلاک 18 مزدور اغوا
    • افغان سر زمین سے دہشتگردی ختم کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہی خارجہ اسحاق ڈار
    • مجتبیٰ خامنہ ای مکمل صحتمند’ زخم بھی ٹھیک ہو چکے ہیں: ایرانی صدر
    • پینٹاگون پر سائبر حملہ’ 40 لاکھ فوجی اہلکاروں کا ڈیٹا لیک ہونیکا دعویٰ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    بجلی کمپنیوں کی نجکاری کا مرحلہ تیز ملازمین کے مستقبل پر سوالیہ نشان

    By Khabrain Newsستمبر 26, 2026
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    (DISCOs) ملتان(کامرس رپورٹر) پاکستان کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوںمیں نجکاری اور آؤٹ سورسنگ کا معاملہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ حکومت نے بجلی کی تقسیم کے شعبے میں نجی شعبے کی شمولیت کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں جبکہ ڈسکوز کی تنظیمِ نو اور اصلاحات کا عمل بھی جاری ہے۔ حالیہ پالیسی اور اصلاحاتی اقدامات کے مطابق ڈسکوز میں نجی شعبے کی شمولیت کو بجلی کے شعبے میں اصلاحات، کارکردگی میں بہتری، لائن لاسز میں کمی، انتظامی بہتری اور گردشی قرضے کے مسئلے سے نمٹنے کے وسیع تر پروگرام کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے ،تاہم مالیاتی اور انتظامی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ڈسکوز کے ملازمین کے مستقبل پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔ مختلف تکنیکی اور غیر تکنیکی شعبوں میں آؤٹ سورسنگ سے ڈسکوز کے موجودہ ملازمتی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی آسکتی ہے۔ مستقل اور باقاعدہ ملازمین کی جگہ کنٹریکٹرز یا نجی کمپنیوں کے ذریعے ایسے کارکن رکھے جا سکتے ہیں جو محدود مدت، اجرت یا کنٹریکٹ کی بنیاد پر کام کریں اور جنہیں پنشن، سروس رولز اور دیگر قانونی و ملازمتی سہولیات کا وہ تحفظ حاصل نہ ہو جو مستقل ملازمین کو حاصل ہوتا ہے۔ یہاں ایک انتہائی اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔اگر ڈسکوز میں تکنیکی کام آؤٹ سورس کر دیا جاتا ہے اور لائن مینٹی ننس، ٹرانسفارمر ورک، میٹر تنصیب یا کسی دوسرے خطرناک برقی کام کے دوران کوئی مہلک یا غیر مہلک حادثہ پیش آتا ہے تو زخمی کارکن، مستقل معذوری کا شکار ہونے والے ملازم یا جاں بحق کارکن کے خاندان کے معاوضے، علاج، بحالی اور دیگر قانونی حقوق کی ذمہ داری آخر کس پر ہوگی۔بجلی کی تقسیم کا فیلڈ ورک اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی خطرناک ہے۔ لائن مین، اسسٹنٹ لائن مین، میٹر ورکرز اور دیگر فیلڈ اسٹاف ہائی وولٹیج اور لو وولٹیج نیٹ ورک پر روزانہ خطرناک حالات میں کام کرتے ہیں۔ اس لیے آؤٹ سورسنگ کو صرف مالی یا انتظامی معاملہ سمجھنا مناسب نہیں۔ کارکنوں کی حفاظت، تربیت، PPE، ضروری آلات، نگرانی، ہنگامی طبی سہولیات، معاوضے اور قانونی ذمہ داری کو واضح کرنا ضروری ہے۔ کنٹریکٹر ماڈل کے حوالے سے بھی ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر ڈسکو کسی نجی کمپنی کو افرادی قوت فراہم کرنے کے عوض ادائیگی کرتی ہے اور نجی کمپنی اپنے انتظامی یا کنٹریکٹی مارجن کو منہا کرنے کے بعد کارکنوں کو اجرت ادا کرتی ہے، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو رقم کارکن کی محنت کے عوض خرچ کی جا رہی ہے، اس میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ خود کارکن کو اجرت اور سہولیات کی صورت میں کیوں نہ دیا جائے۔یہ ایک جائز پالیسی سوال ہے اگر افرادی قوت کی ضرورت خود ڈسکو کو ہے، کام بھی اسی کے نظام کے تحت انجام دیا جا رہا ہے اور اخراجات بھی بالآخر ڈسکو ہی برداشت کر رہی ہے تو پھر ملازمت کے اخراجات کا ایک بڑا حصہ درمیانی کنٹریکٹر کو دینے کے بجائے کارکنوں کو بہتر اجرت، سہولیات اور ملازمت کا تحفظ براہِ راست کیوں نہ دیا جائے۔اصل مسئلہ صرف نجکاری یا سرکاری ملکیت کا نہیں بلکہ کارکردگی، جواب دہی، کارکنوں کا تحفظ اور عوامی سلامتی کا بھی ہے۔ اگر نجی شعبے کو شامل کیا جاتا ہے تو حکومت اور ڈسکوز کو واضح طور پر طے کرنا چاہیے کہ کام کے دوران حادثے کی قانونی ذمہ داری کس پر ہوگی؟ مہلک یا مستقل معذوری کے حادثے میں معاوضہ کون ادا کرے گا۔ زخمی کارکن کے علاج اور بحالی کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟ تکنیکی کارکنوں کی مناسب تربیت اور سرٹیفکیشن کون یقینی بنائے گا؟ ـ PPE، حفاظتی سامان، ارتھنگ سیٹس، HT ڈیٹیکٹرز اور دیگر ضروری آلات کون فراہم کرے گا؟ ـ SOPs اور PermitـtoـWork سسٹم پر عمل درآمد کون یقینی بنائے گا؟ ـ آؤٹ سورس ملازمین کے لیے کم از کم اجرت اور دیگر سہولیات کیا ہوں گی؟ ـ کارکنوں کو بلاجواز برطرفی سے کیا تحفظ حاصل ہوگاـ کنٹریکٹرز کی نگرانی کون کرے گا اور حفاظتی خلاف ورزیوں پر کارروائی کون کرے گا؟ کسی کارکن کی دورانِ ملازمت موت کی صورت میں اس کے خاندان اور بچوں کے مستقبل کا تحفظ کیسے کیا جائے گا؟ حکومت کو ڈسکوز کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن اصلاحات کی قیمت کارکنوں کو ادا نہیں کرنی چاہیے۔ ایک پائیدار اور منصفانہ پاور سیکٹر اصلاحاتی نظام ایسا ہونا چاہیے جو کارکردگی اور ادارہ جاتی بہتری کے ساتھ ساتھ ملازمین کی حفاظت، مناسب اجرت، روزگار کے تحفظ اور قانونی و جائز حقوق کو بھی یقینی بنائے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ حکومت ڈسکوز کی نجکاری، نجی شعبے کی شمولیت اور آؤٹ سورسنگ کے حوالے سے کیا حتمی اقدامات کرتی ہے اور موجودہ ملازمین کے مستقبل کے لیے کیا انتظامات کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کی ڈسکوز کا مستقبل صرف اس سوال سے متعلق نہیں کہ ملکیت کس کے پاس ہوگی۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ بجلی کے نظام کو چلانے والے کارکن کون ہوں گے، ان کی حفاظت کون یقینی بنائے گا، حادثے کی صورت میں ذمہ داری کون قبول کرے گا، اور عوامی مفاد کا تحفظ کیسے کیا جائے گا۔
    بجلی کمپنیاں

    Khabrain News

      Keep Reading

      پنجاب یونیورسٹی نے مختلف مضامین کے طالب علموں کو پی ایچ ڈی کی ڈگریاں جاری کردیں

      مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد ترقی کے بھارتی دعووں کی حقیقت کھل کر سامنے

      لاہور چیمبر انتخابات، کارپوریٹ و ایسوسی ایٹ کلاسز کے نتائج مکمل وژن الائنس کے 28امیدوار کامیاب

      تازہ ترین

      ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای خیریت سے ہیں

      ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ بندی کی ایرانی تجویز مسترد کردی

      بارش اور سیلاب کا خطرہ، NDMA نے ملک بھر میں الرٹ جاری کردیا

      پی آئی اے پر سامان کی تاخیر سے ترسیل پر ایک کروڑ سے زائد جرمانہ

      ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش دھماکا 11 افراد جاں بحق، 30 زخمی

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.