امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی۔امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا کہ نومبر میں مڈٹرم کے بعد ایران پر بمباری دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔اس سے پہلے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنگ بندی کی پیشکش کی تھی۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ ایران اقوام متحدہ کے ایٹمی معائنہ کاروں کو دوبارہ ایران میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اگر معائنہ کار ایران آ کر معائنہ کرنا چاہتے ہیں تو اس مخصوص معاملے پر مذاکرات کے دوران باہمی اتفاق اور معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران اگر کوئی وعدہ کرے گا تو اسے نبھائے گا، امریکا کے ساتھ جوہری پروگرام پر پابندیوں کے حوالے سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ جاری نہیں رکھنا چاہتا ، فیصلہ امریکا کو کرنا ہے کہ وہ جنگ ختم کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ اگر اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں تو ایک دوسرے کو قتل کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم نیا معاہدہ بین الاقوامی قانونی دائرہ کار میں ہونا چاہیے۔ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ساتھ تعاون محدود کر دیا ۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ کی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر واپسی کی حمایت کو سراہتے ہیں۔سوشل میڈیا پر بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ چینی صدر کی بات چیت اور سفارت کاری سے اختلافات حل کرنے کی ذمے دارانہ حمایت قابلِ قدر ہے، ایران بھی مفاہمتی یادداشت کی طرف واپسی کو اہم سمجھتا ہے۔صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران مفاہمت پر واپسی کے لیے طے شدہ وعدے پورے کرنے پر زور دیتا ہے، سنجیدہ، بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے وعدوں کی پاسداری ضروری ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ قومی خودمختاری کے احترام، کشیدگی میں کمی اور علاقائی امن پر چین اور ایران کامقف یکساں ہے۔مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم پر حملہ ہوا تو ہمیں اپنا دفاع کرنا ہو گا، اپنے دفاع کے لیے مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ اگر امریکا ایران کی نئی تجاویز کو قبول کر لے تو اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو جلد از جلد دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکا کی جانب سے نیا منصوبہ قبول کرنے کے وقت سے ہی 7 روزہ مدت شروع ہو جائے گی، ایران نے قطر کے ذریعے یہ 7 روزہ منصوبہ امریکا تک پہنچا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر امریکا ضروری اقدامات کرے تو ایران 4 سے 5 روز میں اپنا عمل مکمل کر لے گا جس کے بعد چھٹے روز آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی اور 7 ویں روز امریکا حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات میں شامل ہو سکے گا۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یورپی یونین اور نیٹو کو ایران کے خلاف امریکا اسرائیل جنگ میں شریک ہونے پر جوابدہ ہونا چاہیے۔اپنے ایک بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کا امریکی اسرائیلی جنگ میں معاونت کا بیان واضح اعتراف ہے۔انہوں نے کہا کہ مارک روٹے نے بتایا کہ یورپ نے ایران کے خلاف امریکا اسرائیل جنگ میں فعال حصہ لیا۔اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران یورپی ممالک اور نیٹو اس بات کی تردید کر رہے تھے۔ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یورپی حکومتوں کی فوجی، سیاسی اور لاجسٹک یا دیگر معاونت کے نتیجے میں ہلاکتیں اور تباہی ہوئی، جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔اسماعیل بقائی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور دیگر مشکلات کو بھی یورپی حکومتوں کی معاونت کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے نیویارک میں ملاقات کی، جس میں مشرق وسطی کی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق صدرمسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے دعوے غلط اور من گھڑت ہیں، تہران کا مقصد پر امن جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا ہے، ایران پہلے بھی واضح کرچکا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا،تہران نے مذاکرات سے دستبرداری اختیارنہیں کی، تاہم سفارتی کوششوں کی بار بار ناکامی کے بعد امریکا پر مزید اعتماد نہیں رہا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہاکہ وہ مشرق وسطی کے آئندہ دورے کے دوران خطے کے ممالک پر زور دیں گے کہ وہ سفارتی عمل کی حمایت کریں۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب فورس کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اب بھی ایران کی بحری افواج کے ہاتھ میں ہے۔ایک بیان میں جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ دنیا کی بڑی بحری فورس کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز چند گھنٹوں کے لیے بھی کھلی نہ رک سکا۔انہوں نے کہا ہے کہ ایران کی7 شرائط پوری ہونے تک امریکا کو سزا دینے کا سلسلہ جاری رہے گا۔پاسدارانِ انقلاب فورس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکا نے خلیج فارس میں اپنی افواج بھیج کر ایران سے ہتھیار ڈالنے کی توقع کی تھی، امریکا کو توقع کے برعکس مختلف نوعیت کی ایرانی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکی فضائی، بحری اور زمینی افواج کے جدید ساز و سامان کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان امریکا سے وطن واپس روانہ ہو گئے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر یو این جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے نیویارک گئے تھے۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی سے نیویارک میں ملاقات کی ہے۔ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائن پر کی گئی۔ اس موقع پر دونوں رہنماوں نے خطے کی تازہ ترین صورتحال، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول بنانے پر بات کی تاکہ علاقائی سیکیورٹی اور استحکام بڑھایا جائے۔
ٹرمپ مسترد
