اسلام آباد(سٹاف رپورٹر’نامہ نگار خصوصی ‘نیوز ایجنسیاں)پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے صدارتی فرمان کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا،جبکہ اپوزیشن کی جانب سے شدیداحتجاج کیا گیا، تحریک کے حق میں 214ووٹ آئے اور مخالفت میں 56ووٹ پڑے ۔ مشترکہ اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی میں ملاقات ہوئی ، دونوں کچھ دیر سرگوشیاں کرتے رہے ۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعرات کو سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا، چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی، حکومتی و اپوزیشن اراکین کی بڑی تعداد اجلاس میں شریک ہوئی۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق صدارتی اعلان مشترکہ اجلاس میں پیش کیے۔اجلاس میں پشاور سکول واقعے میں شہید ہونے والے بچوں کیلئے دعا مغفرت کی گئی، بچوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کے لئے قوائد معطل کرنے کی تحریک مشترکہ اجلاس میں پیش کی گئی، تحریک وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔صدر مملکت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کی قرارداد مشترکہ اجلاس میں پیش کی گئی، اپوزیشن اراکین نے پارلیمنٹ کے سیشن میں احتجاج شروع کردیا۔اپوزیشن اراکین بازؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شریک ہوئے، اپوزیشن اراکین نے گورنر راج نامنظور کے نعرے لگائے۔اپوزیشن نے گنتی چیلنج کر دی۔سپیکر نے قرارداد کے حق اور مخالفت میں اراکین کو گننے کی ہدایت کی، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی قرارداد کے حق میں 214اراکین نے حمایت کی، 56اراکین نے قرارداد کی مخالفت کی۔صدر مملکت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کی قرارداد مشترکہ اجلاس میں پیش کی گئی، اپوزیشن اراکین نے ایوان میں نعرے بازی جاری رکھی۔مشترکہ اجلاس میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق قرارداد پر بحث شروع ہوئی ۔وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ کچھ حلقوں کی جانب سے حکومتی اقدام کو 12 اکتوبر سے جوڑا گیا ہے۔اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد اور پشاور میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس ہوتے رہے ہیں، ایک ہی روز میں لکی مروت، ٹانک اور باجوڑ میں دہشتگردی کے واقعات ہوئے، بحرانی وقت میں وزیراعلیٰ کو زخمیوں کے پاس ہسپتال میں ہونا چاہیے تھا۔ایسے وقت میں ریاست کو ترجیح دے کر سیاست کو پیچھے رکھنا پڑتا ہے ۔ایسے وقت میں وزیراعلیٰ کو لانگ مارچ کی بجائے ہسپتال میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا ریاستی معاملات آئین کے تحت چلائے جاتے ہیں ۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ جن حالات میں ہمارا ملک پھنس گیا ہے، خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں یہ ہماری اندرونی خامیوں کا نتیجہ ہے۔مذاکرات اس بات پر ہونگے پارلیمنٹ طاقت کا سر چشمہ ہوگی، صوبوں کے وسائل پر ان کا حق ہوگا، بیٹھیں غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔محمود اچکزئی نے کہا کہ فروری الیکشن آپ کھائیں قسم کیا آپ جیتے ہیں، کونسی دہشت گردی کی بات کر رہے ہیں، دہشت گردی آپ لیکر آئے ،سہیل آفریدی اس وقت بچہ تھا۔اپوزیشن لیڈر نے چیلنج کیا کہ پشتون کو دہشت گرد ثابت کریں ،میں یہ کرسی چھوڑ دوں گا۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جب تک ہمارے وزیر اعلی سہیل آفریدی کا پتہ نہیں چلے گا ہم کوئی مذاکرات نہیں کریں گے۔سینیٹر شیری رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اچکزئی صاحب مارشل لا کی بات نہ کریں، ہم سے پوچھیں مارشل لا میں کیا ہوتا ہے، آپ کی حکومت میں ٹی ٹی پی فائٹرز کو رہا گیا ، بینظیر کی شہادت اس لیے نہیں دی کہ دن اور شام کو الگ الگ حکومت ہو، آپ کی قیادت مذاکرات میں نہیں آئی۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ آپ کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں تھا، ایک صوبے کی اپنی خارجہ پالیسی نہیں ہوسکتی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایوان میں آئین کی پاسداری اور بغیرخوف و دبا ذمہ داریاں نبھانا ہمارا فرض ہے۔ اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آئین فیڈریشن اور اکائیوں کے درمیاں عمرانی معاہدہ اور ترجمان ہے، عوام کے منتخب نمائندے کو اقتدار سے محروم کرنا آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں نہ کروانا غیر قانونی ہے، کیا لانگ مارچ آئین اور قانون کے خلاف ہے، خدا کیلئے پاکستان کو قبرستان نہ بنائیں۔ وفاقی وزیر امیر مقام نے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دن کو دن کہا اور رات کو رات کہا، 2014میں اے پی ایس کا واقعہ ہوا اس نے پوری عوام کو ایک پیج پر لایا، نیشنل ایکشن پلان پر سب ایگری ہوئے، اس پر عملدرآمد ہوا، بیرسٹر سیف وزیر تھا افغانستان جا کر معاہدے کیے، پھر بدامنی شروع ہوئی، لوگ جنازوں میں نہیں جاسکتے۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی عوام نے آپ کو مسترد کردیا، آپ تو بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، پی ٹی آئی کے اچھے لوگوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔دریں اثناء پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے اپوزیشن لیڈر کی نشست پر جاکر ان سے ملاقات کی، وزیر اعظم شہباز شریف کچھ دیر تک کھڑے ہوکر محمود خان اچکزئی سے راز و نیاز کی باتیں کرتے رہے۔وزیر اعظم کے ایوان سے جانے کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے ملاقات کی، محمود خان اچکزئی اور خواجہ آصف ایک دوسرے کے کانوں میں باتیں کرتے رہے۔اس کے علاوہ قومی اسمبلی ایوان میں اے این پی کے سربراہ ایمل ولی خان نے چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی، ایمل ولی خان نے اپنے موبائل پر بلاول بھٹو زرداری کا نمبر ایڈ کروایا۔ بلاول بھٹو زرداری اور ایمل ولی خان کچھ دیر آپس میں باتیں کرتے رہے۔مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعظم نے ہمیں زخم دیا ہے، ہم پردہشتگردی کی پشت پناہی کا الزام لگایا گیا، میں دہشتگردی کے الزام کو مسترد کرتا ہوں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ نے ہمیں زخم دیا ہے، آپ نے وفاق کو داؤ پر لگا دیا ہے، بین الاقوامی سطح پر اس بیان کے اثرات ہوں گے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پاک فوج ہماری ہے ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہے، ہم دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتے ہیں، ایک ملاقات کے ڈر سے پوری حکومت ختم کردی ، ہم سب کچھ ہوسکتے ہیں دہشت گردی کی پشت پناہی نہیں کرسکتے۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ جتنا جلدی الزام واپس لیں وہ بہتر ہے، ہم آپ کے ا یمرجنسی، گورنرراج کومسترد کرتے ہیں، ہم وہ پاکستان بنائیں گے جس میں آپ کا علاج ہوگا۔
مشترکہ اجلاس
