اسلام آباد (عادل عباسی) قومی اسمبلی میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو فارم 47 کے تحت اسمبلی میں آنے کا طعنہ دیے جانے پر اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انتخابی نتائج میں ردوبدل کی کوشش کی گئی، بلوچستان سے ان کی جماعت کی چار نشستیں چھینی گئیں اور ان کے گھر پر رات تین بجے پوری ٹیم کے ہمراہ آنے والے افراد بھی اس معاملے سے متعلق تھے۔پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ محسن نقوی شریف آدمی ہیں اور انہوں نے پہلی مرتبہ اس نوعیت کا الزام لگایا ہے۔ ان کے بقول، اس معاملے پر ان کی جماعت اور پاکستان تحریک انصاف کے لوگ بھی ناراض ہوئے کہ انہوں نے اسی وقت ایوان کے اندر جواب کیوں نہیں دیا۔محمود خان اچکزئی نے اپنے انتخابی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پشین سے قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی چار نشستوں پر انتخاب لڑ رہے تھے۔ ان کے مطابق، ان کے مقابلے میں ایک امیدوار کھڑا تھا جس سے مبینہ طور پر 25 کروڑ روپے لیے گئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران مولانا فضل الرحمان نے بھی پشین سے انتخاب لڑنے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، جس کے بعد انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے مقابلے میں انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے۔انہوں نے بتایا کہ اس نشست پر ان کی جماعت کے صوبائی اسمبلی کے دو امیدوار بھی میدان میں تھے۔ ان کے دعوے کے مطابق، ان کے ایک امیدوار نے دوسرے امیدوار کے مقابلے میں سات ہزار جبکہ دوسرے نے دو ہزار ووٹ زیادہ حاصل کیے۔اپوزیشن لیڈر نے مزید دعویٰ کیا کہ بلوچستان سے ان کی جماعت کی چار نشستیں چھینی گئیں، تاہم جب ان کی اپنی نشست کا نتیجہ تبدیل کرنے کے لیے کہا گیا تو متعلقہ ریٹرننگ افسر نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ محمود خان اچکزئی جیتے ہوئے ہیں۔محمود خان اچکزئی نے رات گئے اپنے گھر آنے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سارے معاملے کے انچارج شخص نے پوری ٹیم کے ہمراہ رات تین بجے ان کے گھر کا رخ کیا۔ ان کے مطابق، آنے والے افراد کمبل بھی بطور تحفہ لائے تھے اور انہوں نے اپنے پاس موجود دو قلم انہیں دے دیے۔انہوں نے محسن نقوی کے حوالے سے کہا کہ وہ شریف آدمی ہیں اور ممکن ہے کسی نے انہیں غلط معلومات فراہم کی ہوں، جس کی بنیاد پر انہوں نے یہ الزام عائد کیا۔واضح رہے کہ محمود خان اچکزئی کی جانب سے انتخابی نتائج میں مبینہ ردوبدل، نشستیں چھیننے اور امیدوار سے رقم لینے کے الزامات ان کا مؤقف ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔
محمود خان اچکزئی
