ریاض، صنعا، واشنگٹن، تہران ( نیوز ایجنسیاں ) یمن میں حکومتی فورسز نے 24 گھنٹوں کے دوران 430 سے زائد حوثی جنگجوؤں کو ہلاک اور زخمی کردیا۔اس کے علاوہ بیلسٹک میزائل، 2 کروز میزائل اور 3 ڈرونز بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کیخلاف جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے زمینی فوج بھیجنے کا امکان بھی مسترد کردیا جبکہ ایران نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں ماحولیاتی نسل کشی کے مترادف ہیں،ہم جنگ پسند نہیں لیکن ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیں گے، امریکہ کو ایران پر مظالم کی سزا ملنی چاہئے۔ سعودی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ ینبع کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل ‘ بحیرہ احمر میں 2کروز میزائل تباہ کردیے’ ریاض اور سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں 3ڈرونز بھی تباہ کئے۔ سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق ریاض اور سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں 3 ڈرونز بھی تباہ کردیے گئے۔ترکی المالکی نے بتایا کہ سعودی دفاعی نظام نے مختلف مقامات کی جانب آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے روک لیا۔ دریں اثناء یمنی سرکاری فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کی جانے والی عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں 430 سے زائد حوثی جنگجوؤں کو ہلاک یا زخمی کر دیا ہے۔سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان میں سرکاری فورسز کے ترجمان ماجد النزیلی نے بتایا کہ فورسز نے حوثیوں کے عسکری اہداف پر 1292 ٹارگٹڈ حملے کیے جن میں حوثی ملیشیا کی 100 سے زائد گاڑیاں اور دیگر عسکری سازوسامان مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ترجمان کے مطابق، سرکاری فورسز نے مارب کے صوبے میں اہم ترین عسکری اضلاع کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور وہ جنوبی و مغربی محاذوں پر حوثی باغیوں پر آپریشنل دبا میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔ماجد النزیلی نے مزید بتایا کہ تعز کے محاذ پر لڑاکا طیاروں نے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کے ذریعے حوثی ملیشیا کی کمک لانے والے کانوائے اور ان کی جنگی تشکیل کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے عزم کے تحت امریکا کو ایران کے ایٹمی پروگرام سے منسلک ‘پک ایکس مانٹین’ نامی زیرِ زمین سائٹ کو نشانہ بنانا پڑ سکتا ہے۔جمعرات کی رات دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال نہیں کریں گے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے کیونکہ اگر ان کے پاس یہ ہتھیار آ گیا تو وہ اسے لازمی استعمال کریں گے۔ایران کی زیرِ زمین ایٹمی تنصیبات کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا ان کی ایٹمی صلاحیت لاکھوں ٹن وزنی پہاڑ کے نیچے دفن ہے۔ اب ہم ‘پک ایکس مانٹین’ کو دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں وہاں جانا پڑ سکتا ہے، ہم اس پر حملہ کریں گے اور اسے تیزی سے تباہ کر دیں گے۔سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے جمعے کی صبح مشرقی سعودی عرب کی جانب بھیجے گئے ایک ڈرون کو تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ یمن کی انصار اللہ(حوثی) تحریک نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جمعے کی علی الصبح وسطی یمن کے صوبہ مرب کی فضاؤں میں ایک سعودی جاسوس طیارہ، ونگ لونگ ٹو مار گرایا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی زمینی فوج بھیجنے کا امکان مسترد کر دیا۔نیوز میکس کو دئیے گئے انٹرویو میں امریکی صدرنے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہیں کریں گے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران میں امریکی فوجی دستے تعینات کرنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے معاملے پر روس اور چین سے بھی بات چیت کر رہا ہے۔دریں اثناء امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں سکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ نئی پابندیاں آپریشن اکنامک آئو ٹ کاسٹ کے تحت عائد کی گئی ہیں، ایران سے تعلق پر ایک عراقی بینک اور مشرق وسطی و ایشیا میں قائم مالیاتی نیٹ ورکس پر پابندیاں لگائیں۔ادھر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگوں کے نتیجے میں ہونے والی ماحولیاتی تباہی کی مذمت کرے، غزہ اور خطے کے دیگر علاقوں میں جنگوں نے قدرتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر نے یہ بات آرمینیا میں منعقدہ ایک عالمی ماحولیاتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی شریک تھے۔مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ خطے میں جارحانہ جنگوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو ماحولیاتی نسل کشی قرار دیا جانا چاہیے اور عالمی سطح پر اس کی مذمت ہونی چاہیے۔دریں اثناء ایرانی پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کو ایران کے خلاف کیے گئے مظالم پر سزا ملنی چاہیے، اسے اپنا رویہ بدلنا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ اسے ایرانی عوام کے جائز مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔قبل ازیںایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں تاہم اس کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جاری تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات ایران اور مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے۔علاوہ ازیںایرانی فوج کے کمانڈر امیر حاتمی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی مکمل نگرانی جاری، ایرانی فوج جنگ کے لئے تیار ہے۔ امیر حاتمی نے امام علی آفیسرز یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز کی نگرانی کر رہے ہیں۔امیر حاتمی نے مزید کہا کہ دشمن کا کوئی جہاز عمانی سمندری حدود اور آبنائے ہرمز میں داخل نہیں ہو سکا۔دوسری جانب ایران جنگ کے باعث امریکی میزائل دفاعی ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا ، جبکہ تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر 2030 تک بھی انتہائی کم سطح پر رہنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔دوسری جانب پینٹاگون نے امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں قلت سے متعلق دعوئو ں کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے پاس کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر کارروائی کیلئے درکار ہتھیار موجود ہیں۔
ٹرمپ
