اسلام آباد (عادل عباسی) حکومت گنوانے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے اندر اختلافات
شدت اختیار کرنے لگے ہیں، جہاں خیبرپختونخوا کی صوبائی پارلیمانی پارٹی اور مرکزی پارلیمانی قیادت کے درمیان سیاسی حکمت عملی اور حکومت سے مذاکرات کے معاملے پر اختلافات کی اطلاعات ہیں۔ صوبائی پارلیمانی پارٹی نے 60 ارکان صوبائی اسمبلی کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی قیادت کو پیغام دیا ہے کہ حکومت کے ساتھ جب بھی مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو مذاکراتی عمل کا حصہ بنایا جائے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز نے بھی پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو پیغام دیتے ہوئے محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف کے عہدے سے ہٹانے اور اس منصب پر متبادل قیادت لانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پارٹی کے اندر سامنے آنے والی یہ پیش رفت مرکزی قیادت کے لیے ایک نیا سیاسی چیلنج بن گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کا مؤقف ہے کہ صوبے کی سیاسی صورتحال، حکومت کی تبدیلی اور آئندہ سیاسی مذاکرات میں صوبائی قیادت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ صوبائی ارکان چاہتے ہیں کہ علی امین گنڈاپور کو مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے تاکہ خیبرپختونخوا کے سیاسی معاملات اور صوبائی حکومت سے متعلق امور کو مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔ صوبائی پارلیمانی پارٹی کی جانب سے 60 ارکان کی حمایت کا حوالہ بھی اسی تناظر میں دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مرکزی قیادت کو صوبائی ارکان کی اجتماعی رائے سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی ارکان کی جانب سے یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی کو حکومت کے ساتھ مذاکرات، سیاسی حکمت عملی اور پارٹی کے اندر مشاورت کے حوالے سے مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ صوبائی پارلیمانی پارٹی چاہتی ہے کہ مستقبل میں مذاکراتی ٹیم کی تشکیل اور اہم سیاسی فیصلوں کے وقت صوبے کے منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لیا جائے اور علی امین گنڈاپور کو بھی فیصلہ سازی میں مناسب نمائندگی دی جائے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز کی جانب سے بیرسٹر گوہر علی خان کو بھیجے گئے پیغام میں محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان ارکان کا مؤقف ہے کہ پارلیمانی سیاست اور حکومت کے ساتھ رابطوں کے معاملے میں پارٹی کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی چاہیے اور قائد حزب اختلاف کے منصب کے لیے متبادل شخصیت کے انتخاب پر غور کرنا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز کی جانب سے بیرسٹر گوہر کو پیغام بھیجنے کا معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پارٹی کے اندر پارلیمانی قیادت کے کردار اور سیاسی فیصلوں کے حوالے سے مشاورت کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ تاہم، محمود خان اچکزئی کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر مرکزی قیادت کا باضابطہ مؤقف اور اس حوالے سے کسی حتمی فیصلے کی تصدیق ہونا ابھی ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کے اندر ایک طرف خیبرپختونخوا کی صوبائی پارلیمانی پارٹی علی امین گنڈاپور کو آئندہ مذاکرات میں شامل کرنے پر زور دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب قومی اسمبلی کے ارکان اور سینیٹرز کی جانب سے قائد حزب اختلاف کی تبدیلی کا مطالبہ پارٹی کے اندر قیادت اور حکمت عملی سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کر رہا ہے۔ دونوں معاملات نے مرکزی قیادت کے سامنے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ پارٹی کے مختلف پارلیمانی دھڑوں کے مطالبات کو کس طرح ہم آہنگ کیا جائے اور مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل پر اتفاق رائے کیسے پیدا کیا جائے۔ سیاسی حلقوں میں ان پیش رفتوں کو پی ٹی آئی کی پارلیمانی حکمت عملی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر صوبائی پارلیمانی پارٹی اور قومی اسمبلی و سینیٹ کے ارکان کے مطالبات پر باضابطہ مشاورت شروع ہوتی ہے تو پارٹی کی مذاکراتی ٹیم، پارلیمانی قیادت اور حکومت کے ساتھ آئندہ رابطوں کے طریقہ کار میں تبدیلی کے امکانات زیر بحث آ سکتے ہیں۔ تاہم، ان مطالبات پر مرکزی قیادت کے فیصلے اور متعلقہ رہنماؤں کے ردعمل کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ پارٹی اختلافات کو باہمی مشاورت سے حل کرتی ہے یا یہ اختلافات مزید شدت اختیار کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی
بریکنگ نیوز
- لیسکو کا لائن سٹاف کی بھرتی کیلئے نجی کمپنی سے معاہدہ’اسسٹنٹ لائن مین سمیت دیگر عملہ مختلف دفاتر میں تعینات کیا جائیگا’ انٹرویوز مکمل
- لاہور ہائیکورٹ میں ڈی جی ایف آئی اے کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت نہ ہوسکی
- ہارون اختر کی ایس ایم ایز کے کاروباری کلسٹرز کے ساتھ مالی سہولتوں تک رسائی کے حوالے سے مشاورتی نشست
- پاکستان کی دواسازی کی برآمدات میں مزید 25.53 فیصد کمی
- پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے الائیڈ ونگز کی تنظیم نو کا آغاز، درخواستیں طلب
- پی آئی اے کے نئے یونیفارم کیلئے معروف فیشن ڈیزائنر حسن شہریار یاسین کا انتخاب
- علیمہ خان ،عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی مبینہ غیرقانونی حراست سے متعلق درخواستوں پر سماعت 28 اکتوبرتک ملتوی
- گروپ کیپٹن عاصم طارق کا قتل ملزم سعد عباسی پر فرد جرم عائد
- پختونخواہ، پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا مذاکرات میں علی امین گنڈا پور کی نمائندگی کا مطالبہ
- خاتون نے شارک مچھلیوں سے بھرے سمندر میں تیرکر 900 میل فاصلہ طے کیا
- اسلام آباد: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔
- سیالکوٹ موٹروے پر ایلیٹ فورس کی گاڑی کو حادثہ،1 اہلکار شہید، 5زخمی
- اسلام آباد پولیس میں اعلیٰ سطح پر تقرر و تبادلے
- ریکروٹمنٹ رولز 2014 بحال، فیڈرل سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم
- لاہور’ ایم جی HS سپرہائبرڈ مالکان کیلئے 7 کلو واٹ ہوم چارجرز جیتنے کی مہم کا آغاز۔
- نیتن یاہو اسرائیل کے مفاد میں اقتدار چھوڑ دیں: اسرائیلی میڈیا
- ایم جی HSسپر ہائبرڈ مالکان کیلئے 7کلوواٹ ہوم چارجز جیتنے کی مہم کا آغاز
- پشاور ہائیکورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی سرکاری رہائشگاہ خالی کرنیکا نوٹس معطل کر دیا
- PTI پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے میں تذبذب کا شکار، ریکوزیشن جمع نہ ہوسکی
- وزیراعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی برائے پبلک پراسیکیوشن رانا بلال احمد کی زیرصدارت اجلاس
