راولپنڈی (شاہد ملک سے)محکمہ تعلیم کی عدم توجہ اور مبینہ مجرمانہ غفلت کے باعث راولپنڈی کے سرکاری سکولوں کے بعد راولپنڈی کے 70 فیصد سرکاری کالج بھی طلبا و طالبات کی زندگیوں کے لئے خطرہ بن گئے خستہ حال مخدوش عمارتوں اور غیر محفوظ چار دیواری سمیت مینٹیننس اور ریپئرنگ کا کام نہ ہونے کے باعث کالجوں کی عمارتیں سنگین صورتحال اختیار کر گئی بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کو بروقت ادائیگیاں نہ ہونے کے باعث 2 سال سے زائد عرصہ سے تعمیرو مرمت اور مینٹیننس مکمل طور پر رک گئی گورنمنٹ کنٹریکٹرزک2/2سال سے ادائیگیاں نہ ہونے کے باعث کنٹریکٹرز راولپنڈی کے ایک درجن سے زائد کالجوں کے تعمیراتی کام ادھورے چھوڑ کر گوشہ نشین ہوگئے ذرائع کے مطابق بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بعض کالجوں میں صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب حکومت کو نہ صرف تحریری طور پر آگاہ کیا گیا بلکہ بعض کالجوں میں محفوظ تدریسی ماحول کے لئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ذرائع کے مطابق گورنمنٹ کالج برائے خواتین ڈھوک دلال میں 2 سال قبل 15 کروڑ روپے کا تعمیراتی ٹینڈر دیا گیا لیکن بعد ازاں کنٹریکٹر کو ادائیگی نہ ہونے کے باعث یہ کام ابتدا میں ہی روک دیا گیا جس سے تعمیراتی منصوبے کا تخمینہ اب 30 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکا ہے گورنمنٹ وقار النسا پوسٹ گریجویٹ کالج کی چار دیواری کی تعمیر کے لئے 2 کروڑ 25 لاکھ روپے میں ٹینڈر دیا گیا جہاں فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث نہ صرف چار دیواری کا کام ڈیڑھ ماہ سے بند پڑا ہے بلکہ ابتدا میں ہونے والے کام بھی غیر معیاری میٹریل استعمال کیا گیا اسی طرح مسلم ٹان اور ڈھوک رتہ کے خواتین کالجوں میں چار دیواری کی تعمیر کے لئے 80/80 لاکھ روپے میں ٹھیکے دئیے گئے لیکن ادائیگیاں نہ ہونے کے باعث کنٹریکٹرز ادھورا کام چھوڑ کر غائب ہو گئے گورنمنٹ کالج برائے خواتین چیک بیلی خان میں اڑھائی کروڑ روپے کے منصوبے پر بھی تعمیراتی کام ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ سے تعطل کا شکار ہے ذرائع کے مطابق اس وقت راولپنڈی میں تاریخی اہمیت کے حامل گورنمنٹ گارڈن کالج، اصغر مال کالج اور سٹلائیٹ ٹان کالج پر مشتمل طلبا کے تین بڑے کالجوں کی عمارتیں بھی جزوی طور پر انتہائی مخدوش اور خستہ حال ہو چکی ہیں جن کی نہ صرف چھتیں اور دیواریں خطرناک صورتحال اختیار کر چکی ہیں بلکہ ان کالجوں میں کھڑکیاں دروازے اور بجلی و سینیٹری کا نظام بھی تباہ ہوچکا ہے جس سے ان کالجوں کی عمارتیں جزوی طور پر کسی بھی وقت منہدم ہو سکتی ہیں اس ضمن میں ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے محکمہ تعلیم کے ساتھ محکمہ صحت، پولیس، عدلیہ اور اڈیالہ جیل سمیت دیگر محکموں میں کنٹریکٹرز کے کروڑوں روپے پھنسے ہوئے ہیں لیکن 2 سال سے زائد عرصہ سے کنٹریکٹرز کو ایک پائی کی ادائیگی نہیں کی گئی جس سے فاقہ کشی پر مجبور کنٹریکٹرز اپنے منصوبوں سے غائب ہوچکے ہیں اور اپنے واجبات کی وصولی کے لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
