چکوال(بیورورپورٹ)ضلع چکوال سمیت ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیادپر تعین کرنے کا حکومتی فیصلہ پٹرول پمپ مالکان کے گلے کی ہڈی بننا شروع ہوگیا،روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں کمی بیشی سے جہاں عوام کو ذلالت اور پریشانی کا سامنا ہے وہیں یہ کاروبار کرنے والے پٹرول پمپ مالکان بھی انجانے عذاب سے گزرتے
نظر آتے ہیں،آبنائے ہرمز کی بندش اور ایران امریکہ جنگ کے دوران قیمتوں کے عدم استحکام کے باعث وفاقی حکومت کے سیانوں نے 15روز بعد قیمتوں کے تعین کے نظام کو پہلے ایک ہفتہ کی سطح تک لایا اور پھر اچانک اسے روزانہ کی بنیاد پر تبدیل کردیا،پٹرول پمپ مالکان کا موقف ہے کہ ایک دن قبل جب آرڈر کی باری ہوتی ہے تو ہم جس ریٹ کے حساب سے تیل کمپنیوں کو رقم کا ڈرافٹ بنواتے ہیں رات گئے حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث ہمیں آرڈر کے حصول کیلئے مزید رقم بھجوانا پڑتی ہے جو سراسر نقصان کا باعث ہے اسی طرح مہنگے داموں پٹرولیم مصنوعات کی خریداری کے بعد فوری تیل سستا کرنے سے بھی ہمیں کی نقصان ہوتا ہے،پٹرولیم ایسوسی ایشن کے نمائندگان کا اس سلسلہ میں کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ عالمی سطح پرنافذ تیل کی قیمتوں اور ترسیل کا نظام مکمل اپنائے اور پٹرول پمپ مالکان کو ایک معقول منافع فراہم کرکے تیل کی قیمتوں میں کمی بیشی پٹرولیم کمپنیوں سے منسوب کی جائے اگر یہی حالات رہے تو جلد یا بدیر ملک بھر سمیت چکوال میں پٹرولیم مصنوعات کا ایک بڑا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور پٹرول پمپ بھی بند ہونے اور بے روزگاری کا اندیشہ ہے جس کیلئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں
